03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیور پر زکوٰۃ

زیور کی زکوۃ کے متعلق تفصیل:

زیور اکیلے ہوں، دوسرا کوئی مالِ زکوٰۃ ساتھ نہ ہو اور یہ زیور سونے کے ہوں تووجوبِ زکوٰۃ کے لیے ساڑھے سات تولہ اور چاندی کے ہوں توساڑھے باون تولہ ہونا ضروری ہے، اس سے کم وزن میں زکوٰۃ لازم نہیں، البتہ اگر سونا چاندی دونوں کے زیور ہوں یامالِ تجارت یا نقدی بھی ساتھ ہو توپھر وزن کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ سب کی قیمت لگائی جائے گی، اگر ان سب کی قیمت 35ء612گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ان میں زکوٰۃ فرض ہے ورنہ نہیں۔باقی زیورمیں صرف سونے یا چاندی کی قیمت لگائی جائے گی، موتیوں، نگینوں اور زیور بنوانے کی اجرت شامل نہیں کی جائے گی، نیز نصاب معلوم کرنے کے لیے زیور میں موجود سونے کی قیمت لگائی جائے گی، اگر خالص سونا ہے تو خالص سونے کی قیمت، اگر اس میں ملاوٹ ہے تو ملاوٹ شدہ سونے کی قیمت لگائی جائے گی، نیز اس میں قیمت ِ خرید نہیں لگائی جائے گی بلکہ ایک قول کے مطابق جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی ہے اس دن کی اور دوسرے قول کے مطابق جس دن زکوٰۃ اداء کررہے ہوں اس دن کی قیمت لگائی جائے گی۔ ملاوٹ شدہ سونے میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کھوٹ کی مقدار معلوم کر کے اس کو نکال کر خالص سونے کی زکوۃ ادا ء کرے۔

في الدر: ’’ وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب۔‘‘ (۲/۲۸۶)وفیہ: وغالب الفضۃ والذہب فضۃ وذھب۔‘‘ (۲/ ۳۰۰)
وفي الحاشیۃ: ’’ أی فتجب زکاتھما لا زکاۃ العروض۔‘‘ (۲/۳۰۰)وفیہ: ’’ لا زکاۃ في اللآلی والجواھر وإن ساوت ألفا۔‘‘ (۲/۲۷۳)
وفي الشامیۃ: ’’ ولولہ إبریق فضۃ، وزنہ مائۃ، وقیمتہ لصیاغتہ مئتان، لا تجب الزکوۃ باعتبار القیمۃ، لأن الجودۃ والصنعۃ في أموال الربا لا قیمۃ لھا عند انفرادھا ولا عند المقابلۃ بجنسھا۔‘‘ (۲/۳۰۳)

زیور کی زکوٰۃ کس کے ذمہ ہے؟

بہت سی خواتین اپنے شوہروں کو کہتی ہیں کہ ہمارے زیور کی زکوٰۃ آپ اداء کریں، کیونکہ ہمارے پاس زکوٰۃ اداء کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

ایسی صورت میں شوہر پر لازم نہیں کہ وہ بیوی کی طرف سے زکوٰۃ اداء کرے، بلکہ بیوی پر خود اداء کرنا لازم ہے، اگر اس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، زیورہی ہیں تو ان میں سے کچھ فروخت کر کے ان کی قیمت سے زکوٰۃ اداء کرے، تاہم اگر شوہر بیوی کے کہنے پر زکوٰۃ اداء کرے تو زکوٰۃ اداء ہو جائے گی اور یہ رقم بیوی کے ذمہ قرض ہے،شوہر کو وصول کرنے کا حق ہے اور چاہے تومعاف بھی کرسکتا ہے۔

في الشامیۃ: ’’ ولو تصدق عنہ بأمرہ جاز، ویرجع بمادفع عند أبي یوسف۔‘‘ (۲/۲۶۹)

بیوی پر زیور کی زکوٰۃ کب لازم ہے؟

بیوی پر زیور کی زکوٰۃ جب لازم ہے جب وہ زیوربیوی ہی کی ملکیت ہوں، اگر زیورشوہر کی ملکیت ہوں،بیوی صرف اسے استعمال کرتی ہے تو اس کی زکوٰۃ بیوی پر نہیں شوہر پر لازم ہے۔

سونے، چاندی کے سوادوسرے قیمتی پتھروں میں زکوٰۃ لاز م نہیں:

زمرد، ہیرے جواہرات اور دوسرے قیمتی پتھروںمیں یا ان سے بنے ہوئے زیور میں زکوٰۃ لازم نہیں،إلا یہ کہ تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہوں اور سال پورا ہونے تک یہ نیت باقی ہو تو پھر مالِ تجارت ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ لازم ہو گی۔

في الدر: ’’ لا زکاۃ في اللآلی والجواھر وإن ساوت ألفا إلا أن تکون للتجارۃ … وشرط مقارنتھا لعقد التجارۃ وھو کسب المال بالمال بعقد شراء أوإجارۃ اواستقراض۔‘‘ (۲/۲۷۳)

مفتی محمد 

رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی