| 85123 | نماز کا بیان | مسبوق اور لاحق کے احکام |
سوال
اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہےکہ مسجد میں دوسری یا تیسری جماعت ہو رہی ہے،ہم اس میں شامل ہوگئے اور اس میں مثلا دو رکعت رہ گئیں جو کہ امام کے سلام کے بعد اپنی پڑھنی ہیں ۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں اپنی دو رکعت پڑھ رہا ہو ں (جو کہ امام کے سلام کے بعد کی ہیں )اب بعد میں نیا آنے والا شخص کندھے پر ہاتھ مارتا ہے اور میرے ساتھ نماز میں شامل ہوجاتاہے، کیا میں امام بن گیا اور آنے والے نمازی میرے مقتدی بن گئے؟
اس صورت میں کیا کریں کونسا ایسا اشارہ کریں کہ ان کو پتہ چلے کہ میں امام نہیں ہوں؟ میں تو اپنی ہی رکعت لوٹا رہا ہوں یا امام بن کر ان کو بھی نمازپڑھالوں ؟
کئی دفع ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ ایک چین تسلسل بن جاتا ہے، اپنی ہی رکعت لٹانے والا شخص جو کہ ایک منٹ پہلے تک تو مقتدی تھا اور اسی نماز میں وہ امام کیسے بن گیا ۔ کیا ایسی صورت میں نماز ہوجائے گی؟ کبھی کبھار یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ کیا واقعی امام کی نیت سے نماز پڑھ رہا ہےیا یہ مقتدی ہےجو دوران نماز امام بن گیا؟
اگر ان صورتوں میں نماز پڑھنی پڑ جائے تو کیا کریں ؟ تفصیل سے آگاہ فرمائیں ۔ بينوا بالدليل جزاکم اللہ الجليل
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ شخص جو امام کے ساتھ آخری رکعات میں شامل ہوا ہےوہ مسبوق ہےاور مسبوق کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی ، لہذا مسبوق کی اقتداء میں جتنے لوگوں نے نماز پڑھی ہےان سب پر نماز لوٹانا واجب ہے۔ یہ بتانے کے لیے کہ میں مسبوق ہوں امام نہیں کسی قسم کے اشارہ کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ نماز مکمل کرنے کے بعد انہیں بتا دیں کہ میں مسبوق تھا آپ اپنی نماز لوٹا دیں ۔
حوالہ جات
و في الھندیۃ :(ومنها) أنه منفرد فيما يقضي (إلا في أربع مسائل) إحداها أنه لا يجوز اقتداؤه ولا الاقتداء به. (الفتاوى الهندية :1/92)
قال العلامة القاضي خان رحمه الله:رجلان سبقا في بعض الصلاة، فقاماإلى قضاء ما سبقا، واقتدى أحدهمابالآخر فسدت صلاة المقتدي قرأ أو لم يقرأ؛لأن صلاة المسبوق تخالف صلاة المنفرد.ألا ترى أنه يصح الاقتداء بالمنفرد، و لا يصح بالمسبوق . (الخانية:1/94)
قال العلامة الزیلعي رحمه الله: فحاصله: أن المسبوق منفرد فيما يقضيه إلا في أربع مسائل :الأولى: لا يجوز الاقتداء به؛ لأنه بان في حق التحريمة بخلاف المنفرد. (تبيين الحقائق:1/138)
قال العلامة الحصكفي رحمه الله: (والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد إلا في أربع) فكمقتد أحدها (لا يجوز الاقتداء به).
قال العلامةابن عابدين رحمه الله: قوله🙁 لا يجوز الاقتداء به) وكذا لا يجوز اقتداؤه بغيره ،كما في الفتح وغيره. (ردالمحتار:1/597)
محمدیونس بن امین اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ، کراچی
20 ربیع الثانی، 1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


