| 85301 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک لڑکااورلڑکی کی منگنی ہوگئی ،لیکن شادی میں وقت تھا،لڑکااورلڑکی آپس میں ملتے تھے،اس لئے انہوں نے چھپ کرنکاح کرلیا،نکاح کے بعد وہ تنہائی میں ملے،لیکن ہمبستری نہیں کی،کچھ عرصہ کے بعد لڑکی نے لڑکے سے طلاق لے لی،پھراس لڑکی نے چھپ کرکسی اورلڑکے سے نکاح کرلیا،لیکن لڑکے سے تنہائی میں نہیں ملی،کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے بھی طلاق لے لی،سوال یہ ہے کہ کیاپہلے لڑکے سے نکاح ہوسکتاہے؟اگرنہیں ہوسکتاتوکیاطریقہ ہےکہ اس لڑکے سے نکاح ہوجائے؟
تنقیح:سائل نے بتایاہے لڑکی نے پہلے لڑکے سےتین طلاقیں لی ہیں۔
تنقیح:دوسرانکاح بھی خفیہ طورپرخاندان میں کیاہے،لیکن لڑکی لڑکے کے مقابلہ میں زیادہ مالدارہے،نیز دوسرے لڑکے سے عدالت کے ذریعہ خلع لیاہے،لڑکے کے اس پردستخط نہیں ہیں اورنہ ہی لڑکے نے زبانی طورپراس کوقبول کیاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد سابقہ شوہرسے نکاح کرنے کے لئے شرعی حلالہ ضروری ہے، حلالہ کامطلب ہے:عدت گزرنے کے بعد خاتون کسی اورمردسےنکاح کرے،پھروہ مردہمبستری کے بعد طلاق دیدے یافوت ہوجائے، اورعدت گزرجائے تواب یہ خاتون سابقہ شوہرسےنکاح کرسکتی ہے،صورت مسؤلہ میں دوسرے شوہرنے ہمبستری بھی نہیں کی ہے اورنہ ہی طلاق دی ہے،اس لیے یہ لڑکی پہلے لڑکے(سابقہ شوہر)کے لئے حلال نہیں ہوئی،اس لئے سابقہ شوہرسے نکاح نہیں ہوسکتا،واضح رہے خلع کے صحیح ہونے کےلئےشوہرکاخلع کوقبول کرناضروری ہے،شوہرکےقبول کئے بغیرعدالتی خلع معتبرنہیں۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري (ج 5 / ص 111):
"( قوله وإذا كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ) المراد بالدخول الوطء حقيقة وثبت شرط الوطء بإشارة النص وهو أن يحمل النكاح على الوطء حملا للكلام على الإفادة دون الإعادة إذ العقد قد استفيد بإطلاق اسم الزوج أو يزاد على النص بالحديث المشهور وهو قوله عليه السلام لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر."
فی رد المحتار (ج 3 / ص 485):
"وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول ؛لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول"
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/جمادی الاولی۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


