| 85320 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحومہ انیلہ نوازجوگورنمنٹ میں سرکاری ملازمہ تھیں،مرحومہ کاایک بیٹا،ایک بیٹی،شوہر اوروالدین حیات ہیں،سرکارکی طرف سےمرحومہ کے نام پر45 لاکھ روپے نقدرقم ملی ہے تواس کاحق دارکون ہے؟اسی طرح مرحومہ کو2052 تک تنخواہ ملتی رہے گی تواس کاحق دار کون ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرکارکی طرف سےدی جانے والی جو رقم مرحومہ نےزندگی میں وصول کرلی ہو،یا وہ زندگی میں قانونی طور پر اس طرح حقدار ہوگئی ہو کہ وہ اس رقم کا مطالبہ کرسکتی ہو تو وہ اس کے ترکہ میں شامل ہوکر ورثہ میں تقسیم ہوگی،جبکہ وہ رقم جو اس کی زندگی میں اسے نہ ملی ہو اور نہ قانونی طور پر وہ اس رقم کی اس طرح سے حق دار بنی ہوکہ اس کے مطالبہ کا اسے حق حاصل ہو،بلکہ اس کی وفات کے بعد ادارے کی جانب سے اس کی فیملی کے مخصوص افراد کے نام جاری ہوتی ہوتو وہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگی،بلکہ خاص انہیں افراد کی ملک ہوگی جن کے نام ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ہو،صورت مسؤلہ میں دی جانے والی رقم کی اگروہ زندگی میں قانونی مطالبہ کاحق دار بن چکی تھی توورثہ میں تقسیم ہوگی،بصورت دیگرجس وارث کے نام پرجاری ہوئی ہے تووہ اس کامالک ہے۔واضح رہے کہ سرکار کی طرف سے دی جانے والی تنخواہ کی رقم کامالک وہ ہے جس کے نام پرتنخواہ دی جارہی ہے،یہ رقم ترکہ میں شامل نہیں۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/جمادی الاولی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


