03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کارڈ پر تصویر لگانے کا حکم
85429جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

السلام علیکم! میرا سوال یہ تھا کہ کسی بھی ڈاکومینٹس جیسے آدھار کارڈ ، پین کارڈ ، ووٹر کارڈ ، پاسپورٹ کا زیراکس )زیراکس  مشین کا پرنٹ )یا پرنٹ نکال سکتے   ہیں؟ نکالنے سےمراد اس کا زیراکس یا پرنٹ نکالنے کی شاپ کھول سکتے ہیں ؟ جب کہ اُس میں نام ، پتہ کے علاوہ ایک تصویر بھی ہوتی ہے۔اگر ہاں تو نکالنےوالا اس حدیث میں تو نہیں آئے گا نا کہ جس کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویر بنانے والے کو ہوگا ؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جاندار کی پرنٹڈ یا چھپی ہوئی تصویر حرام ہے۔احادیث مبارکہ میں تصویر کی حرمت پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔البتہ جہاں شدید ضرورت اور حاجت عامہ کی وجہ سے علماء نے تصویر بنوانے اور بنانے کی گنجائش دی ہے،وہاں بقدر ضرورت تصویر بنانا اور رکھنا درست ہے۔ہماری معلومات کے مطابق چونکہ ان کارڈز (آدھار کارڈ،پین کارڈ،ووٹر کارڈ اور پاسپورٹ ) کا پرنٹ ادارتی یا قانونی  ضرورت کی بناء پر ہوتا ہے  لہذا    آپ کے لیے ان کابنانا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

أخرج الإمام محمد بن إسماعيل فيصحيحه:486/7) “5955(....سمعت عبد الله قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون".»

قال العلامة السرخسي رحمه الله :وإن تحققت الحاجة له إلى استعمال السلاح الذي فيه تمثال فلا بأس باستعماله ؛لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة، كما في تناول الميتة. (شرح السير الكبير:1463)

قال العلامة السرخسي رحمه الله :لا بأس بأن يحمل الرجل في حال الصلاة دراهم العجم، وإن كان فيها تمثال الملك على سريره، وعليه تاج. (شرح السير الكبير:1466)

محمد فیاض

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۰۶  جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب