| 85552 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں: ٹک ٹاکTiktok) ) میں اسلامی ویڈیو ز اپلوڈ کرنا مثلا: تلاوت بیانات اور نعت ونظم وغیرہ کسی ویڈیو گیم کی ویڈیو کے ساتھ یا تحریر ی شکل میں اور اس سے پیسے کمانا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اولاً بطور تمہید ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے پیسے کمانے کا طریقہ کار ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کا شرعی حکم مذکور ہوگا۔ٹک ٹاک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیسے مختلف طریقوں سے کمائے جاتے ہیں ۔
- اشتہارات کے ذریعے:جب آپ کا مواد بہت اچھا ہو اور آپ کے فالورز کی تعداد بڑھ جا ئے،تو ٹک ٹاک آپ کو اپنے پلیٹ فارم پر اشتہارات دکھانے کی اجازت دیتا ہے۔ان اشتہارات کے ذریعے آپ کو پیسے ملتے ہیں ۔
- برانڈ پارٹنر شپس کے ذریعے:مختلف بڑانڈاور کمپنیاں آپ سے رابطہ کرتی ہیں تاکہ آپ ان کی مصنوعات یا خدمات کی تشہیر کریں اس پر وہ آپ کو پیسے دیتے ہیں ۔
- کریٹر فنڈکے ذریعے:ٹک ٹاک خود ویڈیوز بنانے کو پیسے دیتا ہے جوکہ ویڈیوزکی کار گردگی ویوز،لانکس، شیرز کے بنیاد پر اداکیے جاتے ہیں ۔
- لائیو اسڑیم تحائف کے ذریعے :لائیو ویڈیوز کے دوران ،آپ کے فالورز آپ کو ورچوئل تحائف دے سکتے ہیں جنہیں آپ نقد رقم میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔
- ای کامرس اور افلیئٹ مارکیٹنگ کے ذریعے:ٹک ٹاکرز اپنے ویڈیوز میں پروڈکٹ لنکس شامل کرتے ہیں اور ہر خریداری پر کمیشن کماتے ہیں ۔
اگرآپ ٹک ٹاک پر اشتہارات یا کسی بھی برانڈ کی تشہیر کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی درج ذیل شرائط کے ساتھ گنجائش ہوسکتی ہے:
- جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار جائز ہو ۔
- اشتہار بذات خود بھی ناجائز مواد سے خالی ہوں، لہذا ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر نا ضروری ہے ۔
- جس پروڈکٹ یا سروس کا لنک شامل کیا ہےوہ پروڈکٹ حلال ہو۔
لائیو اسڑیم تحائف کا حکم یہ ہےکہ اگر لائیو ویڈیوز کا مواد جائز ہوتو اس پر ملنے والے تحائف بھی حلال ہیں ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ شیخ الإسلام المفتی التقی العثمانی دامت برکاتھم العالیۃ :وأما التلفزیون.....و منھم من یقول: إن الصورالتی تظھرعلی شاشتہ لیست من الصور الممنوعہ.(فقہ البیوع:326/1)
و في الفتاوی الھندیۃ: إذا استأجر الذمي من المسلم دارأ ن يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.( الفتاوى الهندية: 4/ 450)
قال العلامۃ االحصکفي رحمہ اللہ تعالی:قال ابن مسعود: صوت اللهو، والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ،ونحوه حرام ؛لقوله عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق،والتلذذ، بها كفر: أي بالنعمة. ( الدر المختار،ص: 652)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
/14 جمادی الاولی،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


