| 85639 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ٹا ٹٹری کا استعمال کر سکتے ہیں؟ ہمارا کام ہے گول گپے کا، اس کا جو پانی ہوتا ہے اس میں ہم ٹا ٹری استعمال کرتے ہیں، یہ صحیح ہے یا غلط ؟
تنقیح: ٹاٹری اور ٹارٹیرک ایسڈ ایک چیزہے، اس کافارمولا C4H606 ہے ،یہ کھٹاس کےلیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کوچیری، پپیتا، ناشپاتی، انناس، کھٹے آم اور سٹرابری سے مختلف طریقوں سے حاصل کرکے چینی نما چیز تیار کی جاتی ہے ۔یہ مختلف مشروبات کو جلدی خراب ہونےسے بچاتاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک ماہراور دیندارڈاکٹرسے رجوع کرنےسے معلوم ہوا کہ ٹاٹری کی نقصان دہ مقدار تیس ملی گرام ،فی کلوگرام وزن ، یومیہ ( (30mg/kg/day ہے۔ اس سے کم مقدار استعمال کرنا مضر صحت نہیں ہے،یعنی ایک نارمل انسان جس کا وزن 70kgہو ں ،وہ یومیہ 2گرام ٹاٹری بغیرکسی نقصان کےاستعمال کرسکتاہے۔اس تفصیل کی رو سے آپ کا ، ایک لیٹر پانی میں ایک گرام ٹاٹری استعمال کرنا جائز ہے،لہذا آپ اس مقدار کو برقرار رکھیں اور ذکرکردہ مقدار سےتجاوز نہ کریں تاکہ لوگوں کےلیے ضرر کاباعث نہ بنے،ورنہ ناجائزہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ جلال الدین رحمہ اللہ:الأصل في الأشياء الإباحة ،حتى يدل الدليل على التحريم.(الأشباه والنظائر:ص،(60
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:ففي تحرير ابن الهمام :المختارالإباحة عند جمهور الحنفية والشافعية اهـ .وفي شرح أصول البزدوي للعلامة الأكمل، قال أكثر أصحابنا وأكثر أصحاب الشافعي :إن الأشياء التي يجوز أن يرد الشرع بإباحتها وحرمتها قبل وروده على الإباحة.(ردالمحتار:(161/4
وقال رحمہ اللہ أیضًا: وهكذا يقول في غيره من الأشياء الجامدة المضرة في العقل أو غيره، يحرم تناول القدر المضر منها دون القليل النافع، لأن حرمتها ليست لعينها بل لضررها.(ردالمحتار:(457/6
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
25 جمادی الاولٰی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


