| 85705 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا ایک دوست ہے جو کچھ کبیرہ گناہوں میں ملوث تھا۔ اس کو روکنے اور توبہ کی تاکید کرنے کے لیے میں نے اپنی ذاتی مثال دی کہ جب میں نویں جماعت میں تھا تو ہر طرح کی غلیظ چیز میں نے نیٹ میں دیکھی ہوئی ہے۔ مگر پھر میں نے توبہ کر لی وغیرہ۔ اور الحمد للہ اللہ نے اسے ہدایت دی اور اب وہ بھی توبہ کے راستے پر ہے۔ تو کیا اس طرح اور لوگوں کو بھی اپنے ذاتی گناہوں کی مثال ان کو توبہ کرانے کی نیت سے دینا، گناہوں کی تشہیر اور اللہ کا ڈالا ہوا پردہ ہٹانے میں تو شامل نہیں ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سابقہ گناہوں کا بلا ضرورت اظہار ناپسندیدہ ہے،لہذا بہتر یہ ہے کہ اپنے گناہوں کا تذکرہ کیے بغیر دوسرے لوگوں کو گناہوں سے روکنے کی دعوت دیں ۔تاہم اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی مثال سےاسے ہمت ہوجائے گی اور کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا تو بتانے کی بھی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري رحمه الله في "صحيحه "(5721:2254/5) من حديث أبي هريرة رضي الله عنه يقول :سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "كل أمتي معافى إلا المجاهرين، وإن من المجاهرة أن يعمل الرجل بالليل عملا، ثم يصبح وقد ستره الله، فيقول: يا فلان، عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه، ويصبح يكشف ستر الله عنه".
قا ل العلامة ابن حجر رحمه الله : في الجهر بالمعصية استخفاف بحق الله ورسوله وبصالحي المؤمنين، وفيه ضرب من العناد لهم، وفي الستر بها السلامة من الاستخفاف.( فتح الباري:487/10)
قا ل العلامة العيني رحمه الله :فمن قصد إظهار المعصية والمجاهرة فقد أغضب الله تعالى فلم يستره، ومن قصد التستر بها حياءمن ربه ومن الناس ،من الله عليه بستره إياه.( عمدة القاري:138/22)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


