| 85843 | جائز و ناجائزامور کا بیان | ناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان |
سوال
عورت کے بال کتنے لمبے ہوجائیں تو اس کے بعد بالوں کو چھوٹا کرسکتی ہے؟ دیوبندی علما ءعورت کو بال کاٹنے سے کیوں منع کرتے ہیں جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے بال کاٹے تھے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عورت کی زینت بالوں میں ہے،لہذا عورت کو چاہیے کہ بالوں کو حتی ٰ الامکان کاٹنے سے احتراز کرے،البتہ اگر کوئی حاجت یا عذر ہو تو بالوں کواتنا کاٹنے کی اجازت ہے جس سے مردوں کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے، کیونکہ جوعورتیں مردوں سے مشابہت اختیارکرتی ہیں ان پر احادیث میں لعنت وارد ہوئی ہے اوراسی وجہ سے جمہور علماء عورتوں کو بال کاٹنے سے منع کرتے ہیں۔
جہاں تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بال کاٹنے کی بات ہے تو یہ مسلم شریف کی ایک موقوف روایت سے ثابت ہے جس کا علماء نے درج ذیل جواب دیا ہے:
- اس روایت سےاگر چہ ازواجِ مطہرات کا بالوں میں تخفیف کرنا ثابت ہوتا ہے ،لیکن بال کاٹنے کا مطلق جواز ثابت نہیں ہوتا ،بلکہ عذر کی وجہ سے حدِجواز کے اندر بال کاٹنے کی گنجائش ثابت ہوتی ہے ،لہذا اگر بال کاٹنے میں مردوں کی یا غیرمسلم اور فاسق عورتوں کی مشابہت پائی جائے تو دیگر صریح روایات کی وجہ سے وہ ممنوع صورت بن جائےگی۔
- ازواج ِمطہرات کا بالوں میں تخفیف کرنا ان کےساتھ ہی خاص تھا جیسا کہ عام عورتوں کے لیے شوہر کے وفات کے بعد دوسرا نکاح کرنا جائز ہے، لیکن ازواج مطہرات کے لیے اس کی اجازت نہیں تھی اور یہ حکم اُن کے ساتھ خاص تھا، نیز انہوں نے یہ حضور ﷺ کے رحلت کے بعد کیا ہے حضور کی زندگی میں نہیں کیا اور اس طرح تخفیف کرنا ترکِ تزین کے لیے تھا، نہ کہ تزین کے لیے۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري في "صحیحہ "(7/463-462)( الحدیث، رقم : 5887) من حدیث ابن عباس رضي الله عنهما، قال: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال.
أخرج الإمام أبوداؤد في" سننہ "(4/44)( الحدیث،رقم:4031)من حدیث ابن عمر رضي الله عنهما ، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم.
أخرج الإمام المسلم في "صحیحہ "(1/ )176)(الحدیث ،رقم:320)من حدیث أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: دخلت على عائشة أنا وأخوها من الرضاعة، فسألها عن غسل النبي صلى الله عليه وسلم من الجنابة، فدعت بإناء قدر الصاع فاغتسلت، وبيننا وبينها ستر، وأفرغت على رأسها ثلاثا، قال: وكان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يأخذن من رؤوسهن حتى تكون كالوفرة .
قال القاضی عیاض رحمہ اللہ: وقوله:( يأخذن من رؤوسهن حتى تكون كالوفرة ): دليل على جواز تحذيف النساء لشعورهن وجواز اتخاذهن الجمم . . .ولعل أزواج النبى صلى الله عليه وسلم فعلن هذا بعد موته لتركهن التزين واستغنائهن عن تطويل الشعور لذلك وتخفيفا لمؤونة رؤوسهن.
( إكمال المعلم بفوائد مسلم:2/ 163)
وقال الشیخ ظفر أحمد العثمانی رحمہ اللہ: قلت : وعندي المراد بالحديث أن نساء النبي كن يقصن شعورهن المسترسلة، ويعقدنها على القفا، أو على الرأس من غير أن يتخذنها قروناً وضفائر، حتى تكون كالوفرة في عدم مجاوزتها من الأذنين، كما يفعله كثير من العجائز والأيامى في عصرنا، بل عامة النساء في حالة الاغتسال بعد غسل الرأس، فإن الشعور الطويلة لو استرسلت على حالها فإيصال الماء إلى البدن المستور تحت الشعور المسترسلة لا يخلو عن كلفة ومشقة. . .والله أعلم.(فتح الملھم بشرح صحیح مسلم:3/116)
قال العلامة ابن عابدین رحمه اللہ: وفيه: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت، زاد في البزازية وإن بإذن الزوج؛ لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال، اهـ. ( رد المحتار :6/ 407)
قال العلامة الحموي رحمه اللہ: قوله:( وتمنع من حلق رأسها):أي حلق شعر رأسها. أقول ذكر العلامۃ في كراهته أن لا بأس للمرأة أن تحلق رأسها لعذر: مرض ووجع، وبغير عذر لا يجوز. والمراد بلا بأس هنا: الإباحة لا ما ترك فعله أولى، والظاهر أن المراد بحلق شعر رأسها :إزالته سواء كان بحلق أو قص أو نتف أو نورة. فليحرر، والمراد بعدم الجواز كراهية التحريم؛ لما في مفتاح السعادة، ولو حلقت فإن فعلت ذلك تشبها بالرجال فهو مكروه؛لأنها ملعونة. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر:3/ 381)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
05/جمادی الثانیۃ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


