| 85926 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کرپٹو ٹریڈنگ میں آپشن میں لانگ پوزیشن لینے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بنیادی طور پر لانگ پوزیشن خواہ کسی بھی چیز میں لی جائے،وہ محض وعدہ یا معاہدہ کے طور پر نہیں لی جاتی بلکہ عقد(Contract)کے طور پر لی جاتی ہے اور باقاعدہ اس کا عوض یعنی پریمیم(Premium) بھی ادا کیا جاتا ہے۔ہماری معلومات کے مطابق لانگ پوزیشن کی صورت مسئلہ یوں ہوتی ہے کہ مثلاً آج ۵ دسمبر ۲۰۲۴ کو بٹ کوائن کی قیمت $100,000 ہے،ایک شخص کا خیال ہے کہ ۱ جنوری ۲۰۲۵ کو بٹ کوائن کی قیمت بڑھے گی تو وہ آج ۵ دسمبر ۲۰۲۴ کو دوسرے شخص سے یہ عقد کرتا ہے کہ تم مجھے ۱ جنوری ۲۰۲۵ کو فی بٹ کوائن $100,000 کے حساب سے خریدنے کا آپشن دے دو،دوسرا شخص کہتا ہے کہ ٹھیک ہے تم مجھے اس آپشن کے عوض کل سودے کا ایک فیصد پریمیم ادا کرو یعنی $1000،اب لانگ پوزیشن لینے والا یہ $1000عوض کے طور پر پریمیم ادا کردیتا ہے۔اب ایک جنوری ۲۰۲۵ کو تین صورتیں عقلاً ممکن ہیں:
1) بٹ کوائن کی قیمت وہی رہے ،جو لانگ پوزیشن لیتے وقت تھی یعنی $100,000 ، ایسی صورت میں فریقین کے درمیان مزید کوئی لین دین نہیں ہوگا۔
2) بٹ کوائن کی قیمت اس قیمت سے کم ہوجائے،جولانگ پوزیشن لیتے وقت تھی یعنی $99,000ہوجائے،ایسی صورت میں بھی فریقین کے درمیان مزیدکوئی لین دین نہیں ہوگا،کیوں کہ لانگ پوزیشن لینے والے کو مارکیٹ سے ایک ہزار ڈالر کم میں بٹ کوائن مل رہا ہوگا۔
3) بٹ کوائن کی قیمت بڑھ جائے، اس قیمت سے جو لانگ پوزیشن لیتے وقت تھی یعنی$101,000ہوجائے، ایسی صورت میں لانگ پوزیشن لینے والا ،آپشن دینے والے سے کہے گا کہ ایک ہزار ڈالر قیمت میں اضافہ ہوا ہے ، جوکہ میری مطلوبہ قیمت میں اضافہ ہے،لہٰذا بجائے بٹ کوائن لینے کے فقط ایک ہزار ڈالر اضافی لے لے گا اور اسے اپنا نفع شمار کرے گا۔
دراصل یہ ایک حق کی بیع ہے،جو ایک فریق دوسرے کو فراہم کرتا ہے اور حق حاصل کرنے والا شخص یہ حق اس لئے خریدتا ہے تا کہ اسے آئندہ کسی مالی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گویا یہ حق،دفع ضرر کے لئے خریدا گیا ہے،ورنہ اصالۃً کسی شخص کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں،جس کی وجہ سے کوئی دوسراشخص اسے کوئی چیز بیچنے یا خریدنے کا پابند کر سکےاورایسےحقوق جو اصالۃًمشروع نہیں ہوتے بلکہ دفع ضرر کے لئےحاصل کئے جاتے ہیں،ان کی خرید و فروخت جائز نہیں۔ علامہ خالد الا تا سی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :۔
"إن عدم جواز الاعتياض عن حقوق المجردة ليس على إطلاقه بل فيه التفصيل، وهو أن ذلك الحق المجرد إن كان الشرع جعله لصاحبه لدفع الضرر عنه كحق الشفعةوحق القسم للزوجة وحق الخيار للمخيرة فالاعتياض عنه بمال لا يجوز…لأن صاحب الحق لما رضى علم أنه لايتضرر بذلك، فلا يستحق شيئا ".
ترجمہ:"حقوق مجردہ کی خرید و فروخت کے عدم جواز کا حکم علی الاطلاق نہیں بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ حقوق جو اصالۃً مشروع نہیں،بلکہ دفع ضرر کے لئے ان کی اجازت دی گئی ہے، جیسے حق شفعہ،عورت کے لئے باری کا حق اور اپنےاوپرطلاق واقع کرنے کا اختیاررکھنے والی عورت کا اختیار،ان حقوق کی خرید و فروخت جائز نہیں، کیونکہ ان صورتوں میں جب صاحب حق اپنا حق چھوڑنے پر راضی ہو گیا تو معلوم ہوا کہ اس حق کے نہ ملنے سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے،لہٰذا وہ کسی عوض کا مستحق نہ ہوگا"۔
اسی طرح مذکورہ بیع کے عدم جواز کی دیگر وجوہات بھی ہیں،مثلاًآپشنز کی خرید و فروخت میں بائع مشتری کو نہ تو کوئی مال دے رہا ہوتا ہے اور نہ ہی حق مال،بلکہ مشتری بائع کو جو عوض دے رہا ہوتا ہے، درحقیقت وہ بیع کے انتظار کا معاوضہ ہوتا ہے،اور بیع کا انتظار ایسی چیز نہیں جس کاعوض لینا جائز ہو۔
اسی طرح یہ معاملات جوابازی کے زیادہ مشابہ ہیں ،کیوں کہ اختیار کو فروخت کرنے والا عموماً خود بھی اس چیز کا مالک نہیں ہوتا جس کی بیع کا وہ التزام کرتا ہے،بلکہ وہ یہ التزام ان توقعات کی بنیاد پر کرتا ہے جس کا اس نے مستقبل میں تخمینہ لگایا ہے اور مشتری کا بھی یہی حال ہوتا ہےاور التزام ایسا حق نہیں ہے جو مشتری کی جانب منتقل ہو بلکہ ملتزم کی جانب سے وعدۂ محض ہے،اور اس جیسے وعدے پر عوض لینا درست نہیں ہے۔
مذکورہ وجوہات کی بنیاد پرمجمع الفقہ الاسلامی کے فیصلے کے مطابق آپشنز نہ مال ہیں نہ منفعت اور نہ مالی حق کہ اس کا عوض لینا درست ہو۔
حوالہ جات
۱۱۸ - بيع الاختيارات (Options)
ومن البيوع الشائعة في البورصات العالمية بيع الاختيارات. وهو عبارة عن التزام أحد الطرفين ببيع شيء أو شراءه بسعر متفق عليه خلال مدة معلومة. مثل أن يحتاج رجل إلى شراء حنطة في المستقبل، ولكنه يخشى أن يزداد سعره في السوق عند الشراء. فيأتى آخر، ويقول له: إنى ملتزم ببيع الكمية المطلوبة من الحنطة بسعر محدد اليوم، ولك الخيار في شراءها منى خلال مدة : أجرة نتفق عليها، ويتقاضى أجرةمقابل هذا الالتزام، ويُسمى ثمن الاختيار.وعلى عكس ذلك، ربما يُريد البائع أن يبيع شيئاً في المستقبل، ولكنه يخشى أن ينتقص سعره عند البيع، فيأتي آخر فيقول: إنى ملتزم بالشراء في ذلك
التاريخ بسعر نحدده اليوم، ولك الخيار في أن تبيعه منى خلال مدة نتفق عليها. ويتقاضى الملتزم أجرة مقابل هذا الالتزام. ومثل هذه الاختيارات شائعة اليوم في بيع أسهم الشركات، والعملات، والسلع الدولية. وإن هذه البيوع باطلة في الشريعة الإسلامية، لأن البائع فيها لا ينقل إلى المشترى مالاً، ولا حقا ماليا، فهو من قبيل أكل أموال الناس بالباطل. ولا يمكن تخريجه على العربون، لأن ما يدفع من ثمن الاختيارات إنما يكون قبل البيع، والعربون إنما هو مشروع عند الحنابلة في عقد البيع، ولأن ثمن الاختيارات لا يحسب من ثمن المبيع إن وقع الشراء بعده. وقد ذكر الفقهاء أن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه وأقرب ما ذكره الفقهاء في مثل هذا العقد ما قاله ابن قدامةرحمه الله تعالى:
"فأما إن دفع إليه قبل البيع درهماً، وقال: لا تبع هذه السلعة لغيري، وإت لم أشترها منك، فهذا الدرهم لك، ثم اشتراها منه بعد ذلك بعقد مبتدئ وحسب الدرهم من الثمن، صح، لأن البيع خلا عن الشرط المفسد.... وإن لم يشتر السلعة في هذه الصورة، لم يستحق البائع الدرهم، لأنه يأخذه بغير عوض، ولصاحبه الرجوع فيه، ولا يصح جعله عوضاً عن انتظاره وتأخير بيعه من أجله، لأنه لو كان عوضاً عن ذلك، لما جاز جعله من الثمن في حال الشراء، ولأن الانتظار بالبيع لا تجوز المعاوضة عنه. "
والواقع أن هذه التعاملات داخلة في المضاربات التي هي أشبه بالمقامرة منها بالبيع والتجارة. وذلك أن بائع الاختيار لا يملك عادةً ما يلتزم ببيعه، وإنما يدخل في هذا الالتزام على أساس التوقعات التي يخمنها للمستقبل، وكذلك المشترى.ولا يقاس هذا على الحقوق التي التحقت بالأعيان في جواز بيعها على أساس العرف والتي سبق أن ذكرنا جواز مبادلتها بالمال، لأنها حقوق مشروعة يملكها البائع قبل البيع، فينقلها إلى المشترى بثمن بخلاف الاختيارات، فإن هذا الالتزام ليس حقا يقبل الانتقال إلى المشترى، وإنما هو وعد محض من قبل الملتزم، ولا يجوز أخذ العوض على مثل هذا الوعد. وبذلك صدر قرار مجمع الفقه الإسلامي في دورته السابعة المنعقدة بجدة. ونص القرار ما يلي:
" إن المقصود بعقود الاختيارات الاعتياض عن الالتزام ببيع شيء محدد موصوف، أو شراءه بسعر محدد خلال فترة زمنية معينة، أو في وقت معين، إما مباشرة، أو من خلال هيئة ضامنة لحقوق الطرفين. إن عقود الاختيارات كما تجرى اليوم في الأسواق المالية العالمية هي عقود مستحدثة لا تنضوى تحت أي عقد من العقود الشرعية المسماة. وبما أن المعقود عليه ليس مالاً، ولا منفعة، ولا حقاً مالياً يجوز الاعتياض عنه، فإنه عقد غير جائز شرعاً. وبماأن هذه العقود لا تجوز ابتداء، فلا يجوز تداولها.
(فقہ البیوع:۲۸۷)
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۷.جمادی الآخرۃ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


