03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مملوک ٹیلے ،پہاڑیاں اور غیر آباد زمینوں کی تقسیم کا حکم
85888بنجر زمین کو آباد کرنے کے مسائلشاملات زمینوں کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دیہاتوں کے آس پاس جو غیر مملوک ٹیلے ، پہاڑیاں اور غیر آباد زمینیں ہوتی ہیں اگر دیہات والوں کو رہنے کے لیے ، کاشت کاری کے لیے یا کسی دوسری ضرورت کے لیے ان کی تقسیم کی ضرورت پڑ جائے تو کس تناسب سے وہ تقسیم کی جائیں گی ؟ یعنی آبادی کے تناسب سے یا زمین کی ملکیت کے تناسب سے ؟ مثلاً جس گھرانے کے افراد زیادہ ہیں ان کو زیادہ حصہ دیا جائے اور جس کے کم ہیں ان کو تھوڑا حصہ دیا جائے یا گاؤں میں جو جتنی زمین کا مالک ہے یہاں اسی تناسب سے اس کو زمین دی جائے ؟ براہ کرم مدلل اور باحوالہ جواب دے کر ممنون فرمائیں ۔ والسلام بندہ حق نواز جامعہ اشرف العلوم کربلا پشین بلوچستان

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر حکومت وقت کی  طرف سے اجازت نہیں ہے تو مشترکہ  غیر مملوک ٹیلے ، پہاڑیاں اور غیر آباد زمینوں کوملکیت کے طور  تقسیم کرنا درست نہیں۔ اگر حکومت وقت کی طرف سے اجازت مل جائے اور حکومت کا قانون اور تقسیم کا ضابطہ بھی ہو تو  اس ضابطے کے مطابق تقسیم کریں ،ورنہ  کسی بھی ایسے مناسب طریقے سے تقسیم کر سکتے ہیں ،جس پر تمام شرکاء راضی ہو جائیں۔

حوالہ جات

قال ابن الهمام رحمه الله تعالى :  (قوله الموات ما لا ينتفع به من الأراضي لانقطاع الماء عنه، أو لغلبة الماء عليه أو ما أشبه ذلك مما يمنع الزراعة)). فتح القدير: 10/ 69)
قال الكاساني رحمه الله تعالى : (أما) الأراضي المملوكة العامرة: فليس لأحد أن يتصرف فيها من غير إذن صاحبها؛ لأن عصمة الملك تمنع من ذلك. ( بدائع الصنائع: 6/ 193)
قال الكاساني رحمه الله تعالى : (أما) الأول: فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا فلا يكون داخل البلد موات أصلا، وكذا ما كان خارج البلدة من مرافقها محتطبا بها لأهلها أو مرعى لهم لا يكون مواتا حتى لا يملك الإمام إقطاعها؛ لأن ما كان من مرافق أهل البلدة فهو حق أهل البلدة كفناء دارهم وفي الإقطاع إبطال حقهم. (بدائع الصنائع: 6/ 194)
في الهندية :فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا فلا يكون داخل البلد موات أصلا وكذا ما كان خارج البلدة من مرافقها محتطبا لأهلها ومرعى لهم لا يكون مواتا حتى لا يملك الإمام إقطاعها. (الفتاوى الهندية:5/ 386)

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۱/جمادی الثانی 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب