03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلباء كادوسرے وقت کے لئے کھانا رکھنایا مطعم سے باہر لے کر جانا
86196جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک ادارے(مدرسے) کی طرف سے اجتماعی کھانا بنایا جاتا ہے ،جس میں تقریباً دو ہزار بندے ہیں ۔ ادارے کی طرف سے دوسرے وقت کیلئے کھانے کا انتظام بھی ہے ،لیکن ایک وقت کے کھانے کو دوسرے وقت کے لئے رکھنے سے اور مطعم سے باہر لے کر جانے سے سختی سے منع کیا ہوا ہے ،حتی کے ادارے کے بڑوں کی طرف سے حرام کہا گیا ہے ،تو پوچھنا یہ تھا کہ کھانا دوسرے وقت کے لئے رکھنا یا  مطعم سے باہر لے کر جانا  ہمارے لئے حلال ہے یا حرام ؟ اگر حلال ہے تو کیا دوسرے بندوں کی حق تلفی اور ادارےکے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی؟ قرآن وحدیث سے مدلل جواب دے کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی ادارےمیں رہنےوالےافرادکےلیےادارےکی جانب سےمقررکردہ تمام ترجائز قوانین پرعمل کرناشرعاً واجب (لازم )ہے۔اگرادارےکی جانب سے یہ پابندی ہےکہ کھانامطعم میں ہی بیٹھ کرکھائے، اور دوسرے وقت کے لئے نہ رکھیں اور نہ ہی نگران کی اجازت کےبغیرباہرلےکرجائیں،توشرعاًکسی طالب علم کےلیےجائزنہیں ہےکہ وہ کھانا دوسرے وقت کے لئے رکھیں یا مطعم سےباہرلے کر جائیں، البتہ اگرنگران کی طرف سےکسی عذر کی بنیادپراجازت ہوتو دوسرے وقت کے لئے رکھنا  یامطعم سے باہر کھانالے کرجانا جائز ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم(91/16):

وأوفوا بعهد الله إذا عاهدتم ولا تنقضوا الأيمان بعد توكيدها وقد جعلتم الله عليكم كفيلا إن الله يعلم ما تفعلون .

التفسير المظهري (2/ 152):

ياأيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم فإن تنازعتم في شيء فردوه إلى الله والرسول إن كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر ذلك خير وأحسن تأويلا ۔

«شرح صحيح مسلم - حسن أبو الأشبال» (20/ 5 بترقيم الشاملة آليا):

«‌‌وجوب ‌طاعة ‌الأمير في غير معصية

قال الإمام النووي: (أجمع العلماء على وجوب ‌طاعة ‌الأمير في غير معصية، وعلى تحريمها في المعصية، نقل الإجماع على هذا القاضي عياض وآخرون).

إذاً: ‌طاعة ‌الأمير والسلطان من مسائل الإجماع، والمعلوم أن معصية الأمير أو السلطان مهلكة للدين والدنيا سواء.»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 76):

وهذا الذي رأيته في سير التتارخانية في الفصل العاشر فيما يجب فيه طاعة الأمير وما لا يجب، ونصه قال محمد: وإذا أمر الأمير العسكر بشيء كان على العسكر أن يطيعوه في ذلك إلا أن يكون المأمور به معصية بيقين. اهـ

حضرت خُبیب بن حضرت عیسیٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   06 /رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب