03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی کمیٹی  کا انتخاب اور ذمہ داریاں
86348وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

مسجد کمیٹی کے انتخاب میں کن چیزوں اور خوبیوں کو دیکھنا چاہئیے؟ مسجد کمیٹی کیسے بنائی جائے اور اس کی کیا کیا ذمہ داریاں ہونی چاہئیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کی کمیٹی میں ایسےلوگ ہونے چاہییں جو دین دار ،امانت دار اورمسجد و مدرسہ کے انتظامی معاملات کو سمجھنے اور   چلانے کی صلاحیت و اہلیت رکھتے ہوں،نیز یہ اہل محلہ کی ذمہ داری ہے کہ مسجد کی کمیٹی کے لیے مذکورہ اوصاف والوں کومنتخب کریں، اور ایسے لوگوں کو جونہ خود دین کے پابند  ہوں اور نہ دین کا جذبہ رکھتے ہوں ،یا ان کے اندر انتظامی امور کو چلانے کی صلاحیت نہ ہو،یا امانت دار نہ ہوں ،مسجد کی کمیٹی کا ممبر منتخب نہیں کرنا چاہیے ۔کمیٹی  کی ذمہ داریاں موقع محل کے لحاظ سے طے کر لی جائیں ، اجمالی طور پر  ذمہ داریاں تین طرح کی ہوتی ہیں : (۱) مسجد اور اس سے متعلق وقف کی حفاظت (۲) نظم وانتظام صفائی مرمت وغیرہ سے متعلق (۳) چندہ اورخرچ کا حساب کتاب ۔

حوالہ جات

الدر المختاروحاشیہ  ابن عابدین (4/380):

(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أوظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح.

(قوله: غير مأمون إلخ) قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به....والظاهر: أنها شرائط الأولوية لا شرائط الصحة وأن الناظر إذا فسق استحق العزل ولا ينعزل كالقاضي إذا فسق لا ينعزل على الصحيح المفتى به.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب