03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دینی امور پر اجرت لے کر ثواب کی امید رکھنا
86390اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علما کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دینی کام کی اجرت لینا اگر چہ جائز ہے مگر اس سے آخرت کے ثواب کی یقینی امید نہیں رکھنی چاہئے کیا یہ بات قرآن و سنت اور اکابر سے ثابت ہے ؟ اور اگر اجرت لی تو کسی بھی زاویے سے ثواب نہیں ملے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ دینی کا م مختلف نوعیتوں کے ہیں ۔ان میں سے بعض ایسے  امور ہیں  جو دین کی بقاء کے لیے ضروری ہیں،جیسے:تعلیم قرآن، امامت ، اذان، تدریس ، قضاء ،  افتاءوغیرہ، ان کے بارے میں  فقہائے متأخرین نے بقائے دین کی خاطر بوجہ ضرورت  اجرت لینا جائز قرار دیا ہے۔  یہ اجرت دراصل دینی کام کی نہیں، بلکہ دینی کام کےلیے مختص کیے جانے والے وقت کی ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص ان امور  میں اپنے آپ کو مشغول رکھے تو اس کے لیے اپنی  ضروریات کو پور ا کرنے کے لیے دیگر ذرائع معاش  اپنانا مشکل ہو جائےگا،جبکہ ان امور کا ادا کرنا بھی ضروری ہے۔لہذا اس صورت حال کے پیش نظر فقہائے کرام کے ہاں مذکورہ بالا امور پر اجرت لینا جائز ہے۔ اس   اجرت لینے سے ثواب پر کوئی اثر بھی نہیں پڑے گا۔البتہ جن امور پر  دین کا  بقاء موقوف نہ ہو  تو اس پر  اجرت لینا جائز نہیں ۔ بلکہ اجرت  لینے والا اور دینے والا دونوں گناہ گار ہوں گے اور ثواب سے بھی محرومی ہو گی۔جیسے قرآن پڑھنا ثواب کا کام ہے اس کا ثواب کسی اور کو ہدیہ بھی کیا  جاسکتا ہے۔لیکن اگر کوئی اجرت لے کر قرآن پڑھتا ہے تو اس کو ثواب  نہیں ملے گا۔

حوالہ جات

قال العلامةالحصکفی رحمه الله:(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه)، ويفتى اليوم بصحتها؛ لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان. (رد المحتار) (6/ 55 ):

قال العلامةابن عابدين رحمه الله:قوله:( ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم؛ لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضاً في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار".(رد المحتار: 6/ 65 )

وفي تنقيح الفتاوى الحامدية : اعلم أن عامة كتب المذهب من متون وشروح وفتاوى كلها متفقة على أن الاستئجار على الطاعات لا يصح عندنا واستثنى المتأخرون من مشايخ بلخي تعليم القرآن فجوزوا الاستئجار عليه وعللوا ذلك في شروح الهداية وغيرها بما مر، وبالضرورة وهي خوف ضياع القرآن؛ لأنه حيث انقطعت العطايا من بيت المال وعدم الحرص على الدفع بطريق الحسبة يشتغل المعلمون بمعاشهم ولا يعلمون أحدا ويضيع القرآن، فأفتى المتأخرون بالجواز لذلك واستثنى بعضهم أيضا الاستئجار على الأذان والإمامة للعلة المذكورة؛ لأنهما من شعائر الدين، ففي تفويتهما هدم الدين فهذه الثلاثة مستثناة للضرورة، فإن الضرورات تبيح المحظورات.(تنقيح الفتاوى: 2/ 126)

قال العلامةابن عابدين رحمه الله: وقد قال العلماء: إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت، وإنما يصل إلى الميت العمل الصالح، والاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة، وإنما تنازعوا في الاستئجار على التعليم اهـ بحروفه. (رد المحتار: 6/ 65 )

قال العلامة ابن عابدین : قال تاج الشریعة فی شرح الہدایة: إن القرآن بالأجرة لا یستحق الثواب لا للمیت ولا للقارء. وقال العینی فی شرح الہدایة: ویمنع القارء للدنیا، والآخذ والمعطی آثمان. فالحاصل أن ما شاع فی زماننا من قرائة الأجزاء بالأجرة لا یجوز؛ لأن فیہ الأمر بالقرائة وإعطاء الثواب للآمر والقرائة لأجل المال؛ فإذا لم یکن للقارء ثواب لعدم النیة الصحیحة فأین یصل الثواب إلی المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا ووسیلة إلی جمع الدنیا - إنا للہ وإنا إلیہ راجعون - اہ.وقد اغتر بما فی الجوہرة صاحب البحر فی کتاب الوقف وتبعہ الشارح فی کتاب الوصایا حیث یشعر کلامہا بجواز الاستئجار علی کل الطاعات ومنہا القرائة.وقد ردہ الشیخ خیر الدین الرملی فی حاشیة البحر فی کتاب الوقف حیث قال: أقول: المفتی بہ جواز الأخذ استحسانا علی تعلیم القرآن لا علی القرائة المجردة کما صرح بہ فی التتارخانیة حیث قال: لا معنی لہذہ الوصیة ولصلة القارء بقرائتہ؛ لأن ھذا بمنزلة الأجرة والإجارة فی ذلک باطلة وھی بدعة ولم یفعلہا أحد من الخلفاء، وقد ذکرنا مسألة تعلیم القرآن علی استحسان اہ یعنی الضرورة ولا ضرورة فی الاستئجار علی القرائة علی القبر.وفی الزیلعی وکثیر من الکتب: لو لم یفتح لھم باب التعلیم بالأجر لذھب القرآن، فأفتوا بجوازہ ورأوہ حسنا فتنبہ اہ کلام الرملی.

...وما استدل به بعض المحشين على الجواز بحديث البخاري في اللديغ فهو خطأ ؛ لأن المتقدمين المانعينالاستئجار مطلقا جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي ؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من التداوي. شرح معاني الآثار لأحمد الطحاوي. (رد المحتار: 6/ 75 )

سخی گل بن گل محمد

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/12رجب المرجب ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب