03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمپنی کا مالک نمازِ جمعہ کی اجازت نہ دے تو ملازم کے لیے حکم
86397نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ کوئی بندہ کمپنی میں ملازمت کرتا ہے ۔ کمپنی کا مالک یا افسر جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا، یا  ملازم کسی مشین کا آپریٹر ہے اور اسے چھوڑ نہیں سکتا  تو کیا ایسا آدمی   جمعہ  چھوڑ کر اپنی الگ نماز  پڑھ سکتا ہے؟

  عرض کرتا چلوں کہ مثال کے طور پر 400 ملازمین ہیں ، 350 تو نماز   پڑھتے  ہی نہیں،جو پچاس نماز پڑھتے ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ احتجاج کر سکیں۔ اگر وہ  مالک یا افسر  کی نہیں مانتے تو وہ نوکری سے نکال دیتے ہیں اور بچوں کا نان و نفقہ بند ہوتا ہے۔  اس صورت میں کیا کیا جائے؟  رہنمائی  فرمائیں۔  ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ نماز فرض عین ہے  لہذا نوکری کی پروا ہ نہ کی جائے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جمعہ کے دن کسی شرعی عذر کے بغیر   نمازِ جمعہ  چھوڑنا ہر گز جائز نہیں،ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص  شرعی عذر  کے بغیر سُستی کی وجہ سے مسلسل تین جمعے چھوڑے گااللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیں گے۔ دوسری حدیث میں ہے کی ایسے شخص کو اس کتاب میں منافق لکھ دیا جاتا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔کمپنی کے مالک یا افسر کو شرعاً یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملازمین کو اس اہم فریضے کی ادائیگی سے روکیں۔ ملازمین کو چاہیے کہ وہ مالک یا افسران سے  اچھے سمجھے ہوئے انداز سےبات کر کے نماز ِ جمعہ کے وقت کام میں وقفہ طے کروائیں۔   ایسی بہت سی کمپنیاں موجود ہیں جن میں جمعہ پڑھنے کی رعایت کے باوجود کارکردگی میں فرق نہیں آتا۔ ایسی کمپنیوں کے نظام کو دیکھ کر کمپنی کے مالک کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔اس کے باوجود  اگر اس کمپنی میں رہتے ہوئے نماز جمعہ کی ادائیگی کی ترتیب نہ بن رہی ہو تو ایسی ملازمت ترک کر کےکسی دوسری جگہ ملازمت اختیار کرنی چاہیے کیونکہ ملازمت کوئی ایسا عذر نہیں جس کی وجہ سے نماز جمعہ ترک کر دی جائے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:والأصح وجوبها على مكاتب ومبعض وأجير، ويسقط من الأجر بحسابه لو بعيدا، وإلا لا.

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قوله :(وأجير) مفاده أنه ليس للمستأجر منعه وهو أحد قولين، وظاهر المتون يشهد له كما في البحر.(رد المحتار :2/ 154)

وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: وأشار باقتصاره على هذه الشروط إلى أنها لا تسقط عن الأجير، وفي الخلاصة: وللمستأجر منع الأجير عن حضور الجمعة، وهذا قول الإمام أبي حفص، وقال الإمام أبو علي الدقاق: ليس له أن يمنعه ،لكن تسقط عنه الأجرة بقدر اشتغاله بذلك إن كان بعيدا، وإن كان قريبا لا يحط عنه شيء، وإن كان بعيدا أو اشتغل قدر ربع النهار حط عنه ربع الأجرة، فإن قال الأجير حط عني الربع بمقدار اشتغالي بالصلاة لم يكن له ذلك اهـ. (البحر الرائق :2/ 163)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

14/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب