| 86377 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب کوئی عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے والدین کے اجازت کی بغیر خود اپنا نکاح کسی مسلمان مرد سے گواہوں کے سامنے اپنی مرضی سے کرلے ، تو کیا اس لڑکی کا یہ نکاح شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں ؟ نکاح اگر درست ہوا تو کیا والدین کو پتہ لگنے کے بعد اس لڑکے سے طلاق دلوا کر اور لڑکے کو جلا وطن کرنے پر مجبور کر رہےہیں ۔ تو کیا ان لوگوں کا اس لڑکے اور اس کی فیملی کو جلا وطن کرنا شرعی لحاظ سے درست ہے ؟ جبکہ لڑکا اپنےاس فعل پر لڑکی کی والدین سے معذرت بھی پیش کرتا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کوئی عارضی اور وقتی معاملہ نہیں ،بلکہ زندگی بھر کے لیے ایک اہم فیصلہ اور بڑی اہمیت اور ذمہ داری کا حامل معاہدہ ہے،اس میں عموما والدین کا فیصلہ اولاد کے حق میں خیر خواہی پر مبنی ہوتا ہے،جبکہ والدین کی اجازت کے بغیر از خود نکاح کے لیے کوئی قدم اٹھانا انتہائی نا پسندیدہ ہونے کےعلاوہ خاندان کی نا راضگی ،قطع تعلقی اور طلاق جیسے خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے،جن کا برداشت کرنا بعض دفعہ انسان کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
البتہ اس کے باوجود بھی اگر کوئی عاقلہ بالغہ لڑکی اپنے ہم پلہ لڑکے ساتھاپنے والدین کی رضا مندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے تو شرعا ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے ،اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح شرعا و اخلاقا پسندیدہ نہیں۔
اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو (غیر ہم پلہ)میں نکاح کیا تو یہ نکاح سرے سے منعقد نہیں ہوتا اور اس میں ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی جائز نہیں ۔کفو کا مطلب یہ ہےکہ لڑکا دین میں ،دیانت داری میں ،مال وپیشہ میں لڑکی کے برابر ہو،اس سے کمتر نہ ہو۔
لڑکی نے اگر نکاح کفو میں کیا ہو تو والدین کے لیے یہ جائز نہیں کہ لڑکے سے طلاق دلواکر نکاح ختم کریں اور نہ لڑکی کے والدین کو یہ حق ہے کہ وہ لڑکے اور اس کے خاندان کو جلا وطن کریں یا کسی قسم کی سزا دیں ۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدین رحمه الله: أن المرأة إذا زوجت نفسها من كفء لزم على الأولياء وإن زوجت من غير كفء لا يلزمأو لا يصح. (ردالمحتار : 3/85)
قال العلامة ابن نجیم رحمه الله: وروى الحسن عن الإمام أنه إن كان الزوج كفؤا نفذ نكاحها وإلا فلم ينعقد أصلا وفي المعراج معزيا إلى قاضي خان وغيره والمختار للفتوى في زماننا رواية الحسن.(البحر الرائق :3/118)
قال العلامة ابن ھمام رحمه الله: قوله:( معتبرة) قالوا: معناه معتبرة في اللزوم على الأولياء حتى إن عند عدمها جاز للولي الفسخ ،ثم استدل بقوله صلى الله عليه وسلم :ألا لا يزوج النساء إلا الأولياءولا يزوجن إلا من الأكفاء.(فتح القدیر :3/292)
قال العلامة المرغینانی رحمه الله: وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح .(الھدایۃ:1/191)
و في فتاوی قاضي خان: واختلفوا في العاقلة البالغة إذازوجت نفسها: روي أبو سليمان عن محمد: إن نكاحها باطل... ..وروي الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى: إنه يجوز النكاح إن كان كفأ، وإن لم يكن كفأ لا يجوز النكاح أصلا....والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن رحمه الله تعالى. قال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي: رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط ؛اذ لیس کل ولي یحسن المرافعۃ الی القاضي ولا کل قاض یعدل، فکان الأحوط سد باب التزویج علیھا من غیر کفء. (فتاوی قاضي خان:1/296)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
14/رجب المرجب، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


