| 86413 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میرا نام مجاہد حسین ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ تقریباً تین سال قبل میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا: ’’میں بڑی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد جان بوجھ کر یا بلاوجہ تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، اگر ایسا کیا تو تمہیں میری طرف سے طلاق ہو جائے گی۔‘‘ اس کے بعد ایک دن میری بیوی نے زبان درازی شروع کر دی اور ناقابلِ برداشت الفاظ کہنے لگی۔ میں نے اسے بار بار روکا، مگر وہ باز نہ آئی۔ شدید غصے کی حالت میں میں نے طیش میں آ کر اُس پر ہاتھ اٹھا دیا۔ اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ جو قسم میں نے کھائی تھی، اُس کی خلاف ورزی سے طلاق واقع ہو گئی ہے۔ تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جان بوجھ کر مارنے کی وجہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔ اس طلاق کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں( اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزرنے سے پہلے تک آپ کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگرآپ نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگر عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا ،پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔
حوالہ جات
القرآن الکریم (34/04):
الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم فالصالحات قانتات حافظات للغيب بما حفظ الله واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا إن الله كان عليا كبيرا .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 415):
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده.
الھدایہ (254/01):
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى : { فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : 231 ] من غير فصل .
مختصر القدوري (ص159):
إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.
والرجعة أن يقول: راجعتك أو راجعت امرأتي أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها شهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة، ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة۔
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14 /رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


