| 86453 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
جس کپڑے کے بارے میں یہ شک ہو کہ یہ اصل ریشم کا ہے یامصنوعی ریشم کا ،اس کے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرد کے لیے ریشم کا کپڑا پہننا جائز نہیں ۔جس کپڑے کے بارے میں شک ہو کہ یہ اصل ریشم کا ہے یا مصنوعی ریشم کا ، اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔کیونکہ شک کی وجہ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔لیکن اگر غالب گمان ہوجائے کہ کپڑا اصل ریشم کا ہے تو اس کا ستعمال بھی جائز نہیں ہوگا ۔ احتیاط اسی میں ہے کہ استعمال سے پہلے ریشم کے ماہرین سے تصدیق کرلی جائے ۔
حوالہ جات
قال إبراهيم الحَلبي الحنفي رحمه اللہ تعالى: ويحل للنساء لبس الحرير ولا يحل للرجال إلا قدر أربع أصابع كالعلم. ولابأس بتوسده وافتراشه خلافا لهما. ولا بأس بلبس ما سداه ابريسم ولحمته غيره وعكسه لا يلبس إلا في الحرب ويكره لبس خالصه خلافا لهما. (ملتقى الأبحر : 192)
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں : جہاں شبہات ناشی عن دلیل ہوں ، وہاں شبہات سے بچنا مستحب ہے یا واجب؟ اس کا اصول یہ ہے کہ اگر اصل اشیاء میں اباحت ہو، اور حرمت کا شبہ پیدا ہو جائے ، اور وہ شبہ ناشی عن دلیل ہو، تو اس شبہ کے نتیجے میں اس مباح چیز کا ترک کرنا واجب نہیں ہوتا ، بلکہ مستحب ہوتا ہے اور تقوی کا تقاضا ہوتاہے۔ اور اگر اصل اشیاء میں حرمت ہو، اور پھر شبہ پید ہو جائے ، اور شبہ ناشی عن دلیل ہو تو اس صورت میں اس شبہ سے بچنا واجب ہے محض مستحب نہیں ۔
( انعام الباری : 6/ 95 )
مفتی محمدتقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں: دل میں جو شبہ پیدا ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔
ایک قسم شبہ کی وہ ہے جو ناشی عن دلیل ہو یعنی کوئی دلیل ہو جس سے وہ شبہ پیدا ہوتا ہے چاہے وہ دلیل دوسری دلیل کے مقابلہ میں مرجوح ہو لیکن فی نفسہ دلیل ہے جس کی بنیاد پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس شبہ کا اعتبار ہے اور اس شبہ کی وجہ سے تنزہ اور احتیاط تقوی کا تقاضا ہے۔
دوسری قسم شبہ کی وہ ہے کہ جو ناشی عن غیر دلیل ہو یعنی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اس کو وسوسہ کہتے ہیں ۔ یہ شبہ نہیں ہوتا ، لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس صورت میں وسوسہ کی وجہ سے کسی جائز کام کو ترک کرنا تقوی کا تقاضا نہیں بلکہ ایسے وسوسہ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس پر عمل نہ کرے بلکہ اس کی طرف دھیان ہی نہ دے۔شبہ اور وسوسہ میں فرق یہ ہے کہ شبہ ناشی عن دلیل ہوتا ہے اور وسوسہ غیر ناشی عن دلیل ہوتا ہے۔ (انعام الباری:93/6)
حماد الرحمن بن سیف الرحمن
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۱۷ رجب۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الرحمن بن سیف الرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


