| 86548 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
بیوی اور شوہر کی ایک دو دن پہلے لڑائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے آپس میں ناراضگی تھی، بیوی نے گلے شکوے کرتے وقت شوہر سے کہا کہ اگر آپ نے ایساکام کرنا ہے تو مجھے چھوڑ دے، شوہر نے بھی ناراضگی میں کہا کہ میں نے چھوڑا ہوا ہے، شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی بلکہ مطلب یہ تھا کہ میں نے تمہیں کوئی پکڑا تو نہیں ہوا نہ تو مذاکرہ طلاق تھا اور نہ ہی شوہر غصے کی حالت میں تھے بلکہ جوابا ایسا کہا کہ چھوڑا ہی تو ہوا ہے یعنی کہ پکڑا تو نہیں ہوا تو۔ کیا طلاق ہو جائے گی ؟جبکہ بیوی کو بھی نیت یاد نہیں کہ واقع میں نے مطالبہ طلاق کے لیے ایسا کہا یا ویسے ہی یہ الفاظ بولے تھے کیونکہ بیوی اکثر یہ الفاظ بولتی رہتی ہے کہ مجھے چھوڑ دو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کے سوال ’’ اگر آپ نے ایسا کام کرنا ہے تو مجھے چھوڑ دے‘‘ کے جواب میں شوہر نے کہا کہ ’’ میں نے تجھے چھوڑا ہوا ہے‘‘ صریح طلاق کے الفاظ ہیں ، لہذا اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی، اس طلاق کے بعد عدت گزرنے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر شوہر نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگرشوہر نے عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں طلاق کی عدت تین ماہواریاں ہیں اور اگر عورت حاملہ ہو تو وضع حمل (بچے کی پیدائش) عدت ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي. ( رد المحتار 3/ 299)
وفیہ ایضا:(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ.( رد المحتار :3/ 409)
قال العلامۃ برھان الدین المرغیناني رحمہ اللہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة.(الهداية :2/ 254)
وفیہ ایضا:وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء...وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها ".(الهداية: 272/2)
قال العلامۃ النسفي رحمہ اللہ: هي تربص يلزم المرأة بسبب زوال النكاح المتأكد بالدخول أو الموت.عدّة الحرّة للطّلاق أو الفسخ ثلاثة أقراء أي حيضٍ أو ثلاثة أشهرٍ إن لم تحض... وللحامل وضعه.(كنز الدقائق)(ص304):
جملہ ثانیہ ’’ تجھ کو میں نے چھوڑ دیا ‘‘ سرحتك کی طرح صریح طلاق ہے، لہذا بلانیت ہی اس سے طلاقِ رجعی ہوگئی۔( احسن الفتاوی : 166/5)
احسان اللہ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
/19رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ بن سحرگل | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


