| 86605 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک مدرسہ سے بحیثیت معلم منسلک ہوں۔ ہمارے یہاں دن میں چھ گھنٹے تعلیم ہوتی ہے، چار گھنٹے صبح اور دو گھنٹے شام میں ۔ہمارے یہاں نظام یہ ہے کہ جو استاذ یا ملازم جتنے منٹ تاخیر کرے گا اس کی تنخواہ سےچھ گھنٹے کے حساب سے کٹوتی کی جائے گی، مثلا اگر کسی کی تنخواہ ایک دن کی 360 روپے بنتی ہے تو 10 منٹ تاخیر کرنے پر 10 روپے کٹوتی کی جائے گی، لیکن اگر کوئی شام کے اوقات میں غیر حاضر ہوتا ہے، جس میں صرف دو گھنٹے پڑھائی ہوتی ہے تو اس کی تنخواہ سے تین گھنٹے یعنی 180 منٹ کی تنخواہ کاٹ دی جاتی ہے۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مدرسہ کی انتظامیہ اور استاد کے درمیان ہونے والا معاملہ اجارہ کا ہوتا ہے اور استاد کی حیثیت عموماً اجیر خاص کی ہوتی ہے، جس میں متعین وقت پر اجارے کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس لئے درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
معقود علیہ معلوم و متعین ہو ، یعنی استاد سے لی جانے والی خدمات جیسے کہ کتنے گھنٹے تدریس ان کے ذمہ ہے،یہ معلوم ہو۔اجرت معلوم اور متعین ہو ،یعنی تنخواہ کی مقدار معلوم ہو۔استاد کی خدمات کا وقت متعین ہو، یعنی وہ کس وقت آئیں گے اور کس وقت ان کو جانے کی اجازت ہے۔ اسی طرح تنخواہ میں کٹوتی کی اجازت بھی اتنی ہی مقدار میں ہے جس قدر استاد غیر حاضر ہو ، زائد کٹوتی کی اجازت نہیں ہے ۔ لہذا صورت مذکورہ میں اگر اساتذہ کا انتظامیہ سے اس قسم کا معاہدہ ہوا ہےکہ چھ گھنٹےکے حساب سےدس منٹ پر دس روپے کی بقدر تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی تو شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں، اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے، لیکن اس صورت میں اگر کوئی استاد شام کے دو گھنٹے میں غیر حاضر ہےتو دو گھنٹے کے حساب سے ایک سو بیس منٹ کی تنخواہ کاٹنے کی اجازت تو ہوگی اس سے زائد نہیں، کیونکہ اس صورت میں اضافی کٹوتی مالی جرمانے کے زمرے میں آئے گی جو شرعا جائز نہیں ہے ۔
البتہ اگر شام کے اوقات میں انتظامی مسائل درپیش ہیں تو مدرسہ کی انتظامیہ اساتذہ کے ساتھ الگ سے معاہدہ کر لے، جس میں شام کے اوقات میں تنخواہ صبح کی بنسبت زیادہ رکھ لے، تاکہ اساتذہ کی رغبت بھی زیادہ ہواور تنخواہ کی کٹوتی کے ڈر سے غیر حاضری کی شکایت بھی کم رہے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 70):
«وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل»
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص583):
«وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.»
«فقه المعاملات» (1/ 123 بترقيم الشاملة آليا):
«واتفق الفقهاء على أن للعاقدين أن ينظما طريقة دفع الأجرة ، فلهما أن يتفقا على تعجيلها ، أو تأجيلها ، أو دفعها على دفعات (تنجيمها)»
«موسوعة الفقه الإسلامي - التويجري» (3/ 532):
«لأجير الخاص: وهو من يستأجره الإنسان مدة معلومة ليعمل عنده، فهذا لا يحل له العمل عند غير مستأجره، فإن عمل عند غيره في المدة نَقَص من أجره بقدر عمله.»
الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثالث ج 4، ص 447 :
إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة۔
الفتاوی الھندی ج4، ص:455:
(ومما يتصل بهذا الفصل إذا جمع في عقد الإجارة بين الوقت والعمل) إذا استأجر رجلا ليعمل له عملا اليوم إلى الليل بدرهم صباغة أو خبزا أو غير ذلك فالإجارة فاسدة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وفي قولهما يجوز استحسانا ويكون العقد على العمل دون اليوم
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 44):
«والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال،»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 61):
«مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
20/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


