| 86622 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
مرد کے لیے انگوٹهی کا استعمال صحیح ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں مردوں کیلئے بہتر تو یہ ہے کہ انگوٹھی کے استعمال سے اجتناب کریں ،البتہ ضرورت کی صورت میں بھی صرف چاندی کی انگوٹھی استعمال کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کا وزن ایک مثقال سے کم ہو، اورایک مثقال پانچ ماشے یعنی۴گرام،۸۶۰ ملی گرام (4.860 gm) کے برابر ہوتا ہے۔چاندی کی انگوٹھی میں پتھر کا نگینہ لگا ہو تووہ بھی پہن سکتے ہیں، اسی طرح صرف چاندی کا حلقہ (چھلا) پہننا بھی جائز ہے بشرطیکہ چاندی مذکورہ وزن سے کم ہو۔چاندی کے علاوہ دھاتوں کی بنی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے اور سونے کی انگوٹھی پہننا مرد کے لیے حرام ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (9/516-520):
( ولا يتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا (إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منها) أي الفضة إذا لم يرد به التزين. (ولا يتختم بغيرها كحجر وذهب وحديد وصفر). (ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها.ولا يزيده على مثقال. (وترك التختم لغير السلطان والقاضي) وذي حاجة إليه كمتول (أفضل).
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 361):
(قوله وترك التختم إلخ) أشار إلى أن التختم سنة لمن يحتاج إليه كما في الاختيار قال القهستاني: وفي الكرماني نهى الحلواني بعض تلامذته عنه، وقال: إذا صرت قاضيا فتختم وفي البستان عن بعض التابعين لا يتختم إلا ثلاثة: أمير، أو كاتب، أو أحمق وظاهره أنه يكره لغير ذي الحاجة لكن قول المصنف أفضل كالهداية وغيرها يفيد الجواز، وعبر في الدرر بأولى وفي الإصلاح بأحب، فالنهي للتنزيه.
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
21/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


