| 86739 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
دو شرکاء (زید اور بکر)کی مشترکہ اراضی پر ایک شخص نے بھتہ وصول کرنے کی غرض سے قبضہ کیا۔ شریکین(زید و بکر) میں سے کوئی بھی اس کو بھتہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوا، چنانچہ قبضہ چھڑانے کے لیے دونوں شریک اکھٹے اپنی مقبوضہ زمین چلے گئے اور اس پر ہل چلانا شروع کیا۔ اس دوران ناجائز قابض نے فائرنگ شروع کی، کچھ دیر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، پولیس آئی، معاملہ تھانہ کچہری چلا گیا۔ اس کے بعد ایک شریک(بکر) جانی نقصان کے ڈر سے دوبارہ اس زمین کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے زمین ایک سال تک ایسی ہی پڑی رہی۔ سال بعد ناجائز قابض نے قبضہ پکا کرنے کے لیے اس زمین پر ایک قسم کی گھاس اگائی۔
زمین کے اصل مالکان میں سے ایک (زید) نے ناجائز قبضہ چھڑانے کے لئے اپنے پارٹنر(بکر) سے اس زمین پر جانے لئے کہا تو وہ جانی نقصان کے خدشہ کے پیش نظر دوسری بار جانے کے لیے تیار نہ ہوا اور کہا کہ مالی تاوان جتنا بھی آتا ہے، اس میں میں آپ کے ساتھ شریک ہوں گا۔ قبضہ چھڑانے کے لیے تیار شریک(زید) کا ایک بیٹا سعودی عرب میں مزدوری کر رہا تھا، والد نے اس کو قبضہ چھڑانے کے لئے بلایا۔ وہ سعودی عرب سے آیا تو اپنی زمین کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے گیا اور قبضہ چھڑا کر زمین کے ایک حصے میں گھر اور حجرہ بنایا۔ چونکہ ناجائز قابض کا گھر زمین کے قریب تھا، اس لیے قبضہ تو حاصل کیا لیکن قبضہ برقرار بھی رکھنا تھا، اس لیے وہ تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ سعودی عرب دو تین دن کے لیے اس غرض سے گیا کہ ویزہ ختم کر کے دوبارہ آ کر زمین کا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے یہاں مستقل رہائش اختیار کرے؛ کیونکہ ویزہ ختم نہ کرنے کی صورت میں اس پر تین سال تک سعودی عرب جانے پر پابندی عائد ہوجاتی، لہٰذا اس نے قبضہ برقرار رکھنے کی غرض سے اپنا ویزہ ختم کیا اور تقریبا دس مہینے مذکورہ زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وہاں گزارے ۔ اس دوران بہت دفعہ قبضہ گروپ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے ہوئے، جن میں دو بندے زخمی بھی ہوئے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
(1)۔۔۔ زمین حاصل کرنے پر جو اخراجات ہوئے ہیں، وہ تو دونوں شرکاء پر برابر برابر تقسیم ہوں گے۔ لیکن اس زمین کو ناجائز قبضہ جمانے والے سے واپس حاصل کرنے کے لئے جس شریک (زید)نے ویزہ ، اقامہ اور ٹکٹس کے خرچے کیے ہیں، کیا یہ بھی دونوں مالکان(زید و بکر) پر برابر برابر تقسیم ہوں گے یا یہ سارے خرچے صرف قبضہ حاصل کرنے والے(زید) پر ہی ہوں گے؟ اس بات میں ان کو شبہہ ہے۔
(2)۔۔۔ جس شریک(زید) نے دس ماہ اپنے خاندان سمیت سب کچھ چھوڑ کر زمین کا قبضہ واپس حاصل کرنے میں گزارے، اس دوران اپنے ساتھ دیگر آدمی بھی رکھے اور تکالیف بھی اٹھائیں، اس کو اس سب کا کوئی عوض ملے گا یا نہیں؟
دونوں شریک شریعت کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار ہیں۔ زمین دونوں شرکاء کی آدھی آدھی ہے، دونوں کا حصہ برابر ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ اگر زید نے واقعتاً اپنے بیٹے کو سعودی عرب سے صرف مشترکہ زمین کا قبضہ چھڑانے کے لئے بلایا تھا تو ویزہ ، اقامہ اور ٹکٹس کے اخراجات دونوں شرکاء (زید و بکر) پر برابر برابر تقسیم ہوں گے۔
(2)۔۔۔ جس شریک(زید) نے دس ماہ اپنے خاندان سمیت سب کچھ چھوڑ کر زمین کا قبضہ واپس حاصل کرنے میں گزارے، اس دوران اپنے ساتھ دیگر آدمی بھی رکھے اور تکالیف بھی اٹھائیں، اس کو اس محنت کی اجرتِ مثل ملے گی، یعنی اگر دوسرا شریک (بکر) اس زمین میں اپنے حصے کا قبضہ حاصل کرنے اور اتنی مدت تک برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے افراد کو اجرت پر رکھتا تو وہ اس سے جتنا معاوضہ لیتے، بکر اتنا معاوضہ اپنے شریک (زید) کو دینے کا پابند ہوگا۔
حوالہ جات
المجلة مع شرحها للعلامة الأتاسي (1/246):
مادة 87: الغرم بالغنم، يعني أن من ينال نفع شئ يتحمل ضرره.
الشرح:…………فلو کان الوقف دارا فالعمارة علی من له السکنی……کذلك ما في المادة 1308 : الملك المشترك متى احتاج إلى التعمير والترميم، يعمره أصحابه بالاشتراك على مقدار حصصهم؛ لأن منفعة کل منهم علی قدر حصته؛ لما في المادة 1073 أن کلا ینتفع من المال المشترك بقدر حصته.
وفي المادة 1152: التكاليف الأميرية إن كانت لأجل محافظة النفوس، تقسم على عدد الرؤوس، ولایدخل في دفتر التوزیع النساء ولاالصبیان، أي لأنها لتحصین الأبدان، وهي علی عدد الرؤس التي یتعرض لها، ولا شیئ علی النساء والصبیان؛ لأنه لا یتعرض لهم (رد المحتار عن الولوالجیة). وإن كانت لمحافظة الأملاك، فتقسم على مقدار الملك؛ لأنها لتحصینه، فکانت کمؤنة حفر النهر.
الدر المختار (6/ 271):
فروع: الغرامات إن كانت لحفظ الأملاك فالقسمة على قدر الملك، وإن لحفظ الأنفس فعلى عدد الرؤوس، ولا يدخل صبيان ونساء، فلو غرم السلطان قرية تقسم على هذا. ولو خيف الغرق فاتفقوا على إلقاء أمتعة فالغرم بعدد الرؤوس؛ لأنها لحفظ الأنفس.
المجلة مع شرحها للعلامة الأتاسي (1/246):
شرح المادة 1152: ……………ذکر في الدر و حواشیه أنه لو خاف أهل السفینة الغرق فاتفقوا علی إلقاء أمتعة لیخف حمل السفینة، فإن ذلك: لأجل حفظ الأنفس خاصة، فالغرم بعدد الرؤوس. وإن کان لأجل حفظ الأموال خاصة بأن کان الموضع لاتغرق فیه الأنفس وتتلف فیه الأمتعة، فهي علی قدر الأموال. وإن کان لأجل حفظ الأنفس والأموال بأن کان یخشی علیهما، فالقوا بعد الاتفاق لحفظهما، فعلی قدرهما. فمن کان غائبا وأذن بالإلقاء إذا وقع ذلك، اعتبر ماله لا نفسه. ومن کان حاضرا بماله، اعتبر ماله ونفسه. ومن کان بنفسه فقط اعتبر نفسه فقط.
قال في رد المحتار: والتقیید باتفاقهم علی ذلك، يفهم منه أنهم إذا لم يتفقوا على الإلقاء لا يكون كذلك، بل على الملقى وحده، وبه صرح الزاهدي في حاويه. قال رامزا: أشرفت السفينة على الغرق، فألقى بعضهم حنطة غيره في البحر حتى خفت، يضمن قيمتها في تلك الحال اه، رملي على الأشباه. وقوله "في تلك الحال" متعلق بقيمتها أي يضمن قيمتها مشرفة على الغرق. ثم قال الرملي: ويفهم منه أن لا شيء على الغائب الذي له مال فيها ولم يأذن بالإلقاء. فلو أذن بأن قال: إذا تحققت هذه الحالة فألقوا، اعتبر إذنه، اه.
الدر المختار (6/ 42):
وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له. وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج وشرط عليه كل شهر كذا جاز ولو لم يشترط فبعد التعليم طلب كل من المعلم والمولى أجرا من الآخر اعتبر عرف البلدة في ذلك العمل.
رد المحتار (6/ 42):
قوله ( فالعبرة لعادتهم ) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. قوله ( اعتبر عرف البلدة الخ ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ ، درر.
المحيط البرهاني (8/ 390):
في «مجموع النوازل»: رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجر، فإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


