03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سفارش كے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کا حکم
86624جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سفارش کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے کا  شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جائز امور میں کسی کی سفارش کرنا مستحب ہے بشرطیکہ جس  کی سفارش کی جائے وہ سفارش کا اہل ہو۔حدیث شریف میں ایسی سفارش کرنے پر  اجر کی بشارت بھی آئی ہے۔ اگر کوئی شخص ملازمت کا اہل ہو ،لیکن بغیر سفارش کے ملازمت کا ملنا دشوار ہو، تو  ایسے شخص کا کسی سے ملازمت  کے حصول کے لئے سفارش کرانا اور دوسرے شخص کا  اس کے حق میں سفارش کرنا جائز ہے، البتہ اگر کوئی شخص کسی عہدہ یا ملازمت کا اہل نہ ہو تو اس کے حق میں سفارش کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

( سورة النساء:85):

قال تعالی: مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَہُ نَصِیْبٌ مِنْہَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَہُ کِفْلٌ مِنْہَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُقِیْتًا.

(مدارک التنزیل وحقائق التأویل ۱/۳۸۰)

(مَنْ یّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً) هي الشفاعة فی دفع شر أو جلب نفع مع جوازها شرعا .

صحيح البخاري (6/ 2718):

عن أبي موسى قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه السائل، وربما قال: جاءه السائل أو صاحب الحاجة، قال: (‌اشفعوا فلتؤجروا، ويقضي الله على لسان رسوله ما شاء).

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/ رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب