03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفریہ کلمات کےبعد تجدیدنکاح کاطریقہ کار
86709ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

سوال: میرا نام محمد شفقت ہے، میں ابو ظہبی میں جاب کرتا ہوں۔

میری اور میری اہلیہ کے درمیان عرصہ 1 ماہ سے کسی مسئلے کو لے کر بحث ہو رہی تھی جو کہ کل زیادہ طول پکڑ گئی، اور وہ دل برداشتہ ہوگی اور غلطی سے اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ " تم نے مجھے اتنا پریشان کر دیا ہے کہ میں نے نماز بھی نہیں پڑھی دفعہ کرو ایسی نمازوں کو، تمہاری نمازوں نے بھی مجھے تباہ کردیا

جب بعد میں، میں نے اہلیہ سے اس کی وضاحت پوچھی تو اس نے کہا یہ الفاظ مجھ سے سراسر غلطی سے ادا ہوئے ہیں، میں صرف یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ کی دی ہوئی پریشانی کی وجہ سے میں  آج کی نماز نہیں پڑھ سکی اور آپ نماز کی پابندی کرتے ہوئےبھی مجھے اتنا پریشان کرتے ہو۔ اِس کے بعد اُس نے فوراً اپنے الفاظ سے رجوع کیا اور توبہ کی۔

اب اس کے بعد ہمارے لیے تجدید نکاح  کیا حکم ہے، ہم تجدید نکاح کیسے کریں گے میں ابو ظہبی میں ہوں اور میری اہلیہ پاکستان میں، میرے پاس ایسے 2 گواہ موجود نہیں، جو میری اہلیہ کو جانتے ہوں۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سےتوبہ توسائل نےکرلی ہے،مزید تجدیدایمان کےساتھ ساتھ تجدیدنکاح بھی کرنا ہوگا،تجدید نکاح کےلیےوہیں ابوظہبی میں ہی مجلس نکاح منعقدکرکےنکاح کرلیاجائے، بیوی کی طرف سےکسی کووکیل بنالیاجائےاوراگرکوئی اور نہ ملےتو بیوی سےاجازت لےکرخوداس کی طرف سےوکیل بن کرگواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیاجائے،دوعادل مردیاایک عادل مرداور دوعورتوں کی موجودگی میں باقاعدہ نئےسرےسےمہرمتعین کرکے نکاح کرلیاجائےتوشرعانکاح ہوجائےگا۔

گواہوں کاآپ کی اہلیہ کومکمل طورپرجانناضروری نہیں،گواہوں کےسامنےبیوی کےنام،ان کےوالداورداداکےنام کےذریعہ تعارف کروانا کافی ہے۔

حوالہ جات

"ھدایہ 286/2:

ولاینعقدنکاح المسلمین الابحضور شاہدین حرین عاقلین بالغین مسلمین اعلم ان الشہادۃ شرط فی باب النکاح لقولہ علیہ السلام لانکاح الابشہود۔

"رد المحتار " 9 / 233:

(و)شرط(حضور)شاهدين(حرين)أوحروحرتين(مكلفين سامعين قولهمامعا)على الأصح ( فاهمين ) أنه نكاح على المذهب بحر ( مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين۔

الھندیۃ"197/1:

وفی الھندیہ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانيةالخ ( ج 1س 194 الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ط ماجدیہ)۔

"ردالمحتار"221/:
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: وشرط حضور شاهدين) أي يشهدان على العقد،(الی قولہ) أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها.(الی قولہ) والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس۔

"ردالمحتارعلی الدرالمختار"393/:

كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر (قوله فإن له ذلك) أي تزويجها لنفسه بشرط أن يعرفها الشهود، أو يذكر اسمها واسم أبيها وجدها أو تكون حاضرة منتقبة، فتكفي الإشارة إليها وعند الخصاف لا يشترط كل ذلك: بل يكفي قوله زوجت نفسي من موكلتي كما بسطه في الفتح والبحر"

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/رجب 1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب