| 86690 | جائز و ناجائزامور کا بیان | پردے کے احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک ہسپتال میں بطور نرس جاب کرتی ہوں، جہاں پر مرد و خواتین دونوں مریض ہوتے ہیں۔ بطور نرس میرا کام مریضوں کو انجکشن لگانا، ڈرپ لگانا اور بلڈ پریشر چیک کرنا ہے۔ اس کے علاؤہ وارڈ میں میل نرس اسٹاف بھی موجود ہوتے ہیں، کام کے سلسلے میں ان سے بات وغیرہ بھی کرنی پڑتی ہے، میں مکمل پردے میں رہتی ہوں اور چہرے کا پردہ بھی کرتی ہوں۔
1.کیا شریعت میں میرا اس جگہ پر جاب کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2. میری آمدن حلال ہے یا نہیں؟ کیونکہ مرد مریضوں کو انجکشن وغیرہ لگاتے ہوئے ہاتھ ٹچ ہو جاتے ہیں ،لیکن ہاتھوں پر دستانے لگے ہوتے ہیں؟
3۔ ساتھ موجود میل اسٹاف وغیرہ سے کس حد تک بات کی جا سکتی ہے؟
4۔ کیا مندرجہ بالا حالات میں بھی خدمت خلق کا ثواب ملے گا؟
5۔ اگر ہسپتال میں گائنی وارڈ میں جاب کی جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے وہاں پر صرف خواتین ہی ہوتی ہیں۔
برائے مہربانی تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرآن پا ک میں ازواج مطہرات کوخاص طورپراورباقی مومنات کوعام طورپریہ حکم دیاگیاہے کہ وہ گھرمیں رہیں ،لہذاملازمت کے لئے گھرسے باہرنکلناعام حالات میں جائز ہی نہیں ،یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیرکفالت عورتوں کے خرچ کاانتظام کریں ، جب تک نکاح نہ ہواہوتو لڑکی کانققہ والدپرہوتاہے اورنکاح کے بعدشوہرپر، جس کی بناءپر عوت کوملازمت کرنے یاکوئی دوسراذریعہ معاش تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے،لیکن اگرنفقہ اورضروریات زندگی پوراکرنے والاکوئی نہ ہواورگھرمیں رہتے ہوئے سلائی کڑھائی یاٹیوشن پڑھاکربھی انتظام نہ کیاجاسکے توایسی شدیدضرورت کے وقت شرعی حدودکی رعایت رکھتے ہوئے گھرسے باہرملازمت کے لئے نکلنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ بے پردہ اوراظہارزینت کے ساتھ نہ نکلے،ملازمت کےدوران مردوں سے بقدرضرورت بات چیت سے زائد بے تکلفی اورہنسی مزاح سےاجتناب کرے۔
مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق آپ کے سوالات کاجواب درج ذیل ہے:
۱۔مجبوری کی صورت میں مذکورہ جگہ ملازمت جائزہے۔
۲۔ملازمت چونکہ جائزہےتو آمدن بھی حلال ہوگی ۔
۳۔بوقت ضرورت بقدرضرورت میل اسٹاف سےبات چیت کی گنجائش ہوگی۔
۴۔شریعت کےاحکامات پرشریعت کےمطابق عمل کیاجائےتو خدمت خلق کاثواب بھی لازمی ملےگا۔
۵۔گائنی وارڈ میں ملازمت مل جائےتو بہت اچھا،وہاں میل اسٹاف سےپردہ اور بات چیت کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا،البتہ پردےکےحوالےسےاحتیاط وہاں بھی شرعالازم ہوگا۔
حوالہ جات
"تفسير ابن كثير " 6 / 409، 410:
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآَتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33)
وقوله: { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ } أي: الزمن بيوتكن فلا تخرجن لغير حاجة. ومن الحوائج الشرعية الصلاة في المسجد بشرطه، كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، وليخرجن وهن تَفِلات" وفي رواية: "وبيوتهن خير لهن"
وقال الحافظ أبو بكر البزار: حدثنا حميد بن مَسْعَدةحدثنا أبو رجاء الكلبي، روح بن المسيب ثقة، حدثنا ثابت البناني عن أنس، رضي الله عنه، قال: جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله، ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى، فما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قعد -أو كلمة نحوها -منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله". ثم قال: لا نعلم رواه عن ثابت إلا روح بن المسيب، وهو رجل من أهل البصرة مشهور ۔
وقال البزار أيضا: حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان، وأقرب ما تكون بروْحَة ربها وهي في قَعْر بيتها".ورواه الترمذي، عن بُنْدَار، عن عمرو بن عاصم، به نحوه ۔
وروى البزار بإسناده المتقدم، وأبو داود أيضا، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "صلاة المرأة في مَخْدعِها أفضل من صلاتها في بيتها، وصلاتها في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها" وهذا إسناد جيد۔
وقوله تعالى: { وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولَى } قال مجاهد: كانت المرأة تخرج تمشي بين يدي الرجال، فذلك تبرج الجاهلية. وقال مقاتل بن حيان: { وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولَى } والتبرج: أنها تلقي الخمار على رأسها، ولا تشده فيواري قلائدها وقرطها وعنقها، ويبدو ذلك كله منها، وذلك التبرج، ثم عمت نساء المؤمنين في التبرج.۔
"البحر الرائق " 11 / 133:
( قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة ؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا ۔۔۔والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
26/رجب 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


