| 86731 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کوئی اگر دوسرے شخص کا مذاق داڑھی کی وجہ سے اڑائے، یا اس کی بےتوقیری کرے اور وہ شخص جواب میں یہ کہے کہ داڑھی تو نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور نبی کریم ﷺ کی سنن مبارک کی بے حرمتی کرنا تو کافروں کا کام تھا۔کیا تم کافر ہو؟ اس صورت میں دونوں اشخاص کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
داڑھی رکھنا رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور اسلامی شعائر میں سے ہے۔ مردوں کے لیے کم از کم ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے۔ شعائر اسلام یا سنت مبارکہ کی گستاخی کرنا ،یا اس کا مذاق اُڑانا توہین کے مترادف ہے، جو بسا اوقات انسان کو کفر کے قریب لے جا سکتا ہے۔
مذاق اُڑانے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ کسی کا بھی مذاق نہ اُڑائے، کیونکہ کسی کی بے توقیری کرنا اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے،خاص طور پر داڑھی کی وجہ سے کسی کا مذاق اُڑانا اور بھی زیادہ سنگین عمل ہے۔اس شخص کا مقصود اگر داڑھی کا مذاق اڑانا نہ تھا ،محض دوسرے شخص پر غصہ نکالنا تھا تو یہ گناہ گار ہوگا،کیونکہ کوئی دانستہ طور پر مسلمان سنت اور شعائر اسلام کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اگر اس کا مقصود داڑھی کی سنت کا مذاق اڑانا تھا،تو تجدید ایمان لازم ہے، اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔
دوسرا شخص جس کا مذاق اڑایا گیا ہے اس کو چاہئے کہ ایسی صورت میں کسی کو کفریہ کلمات سے عار دلانے کی بجائے نرمی اور حکمت سے سمجھائے ،شعائر اسلام اور سنت کے بارے میں اسے تعلیم دے ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم:[الحجرات: 11]
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٞ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهُنَّۖ وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُواْ بِٱلۡأَلۡقَٰبِۖﵞ
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 252):
وفي (الفتح) من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو كافر العناد، والألفاظ التي يكفر بها تعرف في الفتاوى وفي (المسايرة) ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة وأفعال تصدر من المتهكمين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا لها بسبب أنها إنما فعلها عليه الصلاة والسلام زيادة .
في النهر عن البزازية: لو لم ير السنة حقا كفر لأنه استخفاف.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


