| 86505 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارےمحلےکی مسجدکےلیےامام مقررہے، کبھی کبھارجب امام نہیں آتے توہمیں زیدنامی عالم ِدین نماز پڑھاتاہے، جبکہ وہ کرکٹ کھیلتاہے اوراس کے ساتھ میچ کھیلنےوالے کھلاڑیوں کاکہنا ہےکہ میچ کھیلنےمیں یہ پیسے لگاتاہے، ہم ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے، اب پوچھنایہ ہےکہ کیازیدنمازپڑھا سکتا ہےیانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرزیدکرکٹ میں جوے کے طورپرپیسےلگانےمیں مشہورہےاوروہ اس کاانکاربھی نہیں کرتاتوعام حالت میں اس کےپیچھےنمازپڑھناجائزنہیں ہے،جس سےاحترازکرناچاہیے، البتہ اگرفی الوقت کوئی دوسرامتقی پرہیزگارامام میسرنہ ہو اورجماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو اس صورت میں اس کے پیچھے باجماعت نماز ادا کرنا انفرادی طورپر نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله تعالى: فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيه، فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد وينبغي أن يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى. (البحر الرائق: 1/ 370)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم؛ لما ذكرنا. (رد المحتار: 1/ 560)
راز محمد بن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
19رجب الخیر1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


