| 86724 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک ہسپتال میں بطور نرس جاب کرتی ہوں، جہاں پر مرد و خواتین دونوں مریض ہوتے ہیں۔ بطور نرس میرا کام مریضوں کو انجکشن لگانا، ڈرپ لگانا اور بلڈ پریشر چیک کرنا ہے۔ اس کے علاؤہ وارڈ میں میل نرس اسٹاف بھی موجود ہوتے ہیں، کام کے سلسلے میں ان سے بات چیت بھی کرنا پڑتی ہے۔میں مکمل پردے میں رہتی ہوں اور چہرے کا پردہ بھی کرتی ہوں۔ چونکہ میراشوہر جاب کے سلسلے میں بیرونِ ملک ہیں، لیکن میں چاہتی ہوں کہ وہ واپس آ جائیں اور یہیں کام کریں، لیکن یہاں رہ کر اکیلے ان سےگھر کےاخراجات پورے نہیں ہو سکتے،تو میں بھی گھر کے اخراجات میں مدد کرنا چاہ رہی ہوں ۔
1.کیا شریعت میں میرا اس جگہ پر جاب کرنا جائز ہے ؟
2۔ اگر ہسپتال میں گائنی وارڈ میں جاب کی جائے،جہاں صرف خواتین ہوتی ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
3۔ ساتھ موجود میل اسٹاف وغیرہ سے کس حد تک بات کرنا جائز ہے؟
4. میری آمدن حلال ہے یا نہیں؟ کیوں کہ مرد مریضوں کو انجکشن وغیرہ لگاتے ہوئے ہاتھ ٹچ ہو جاتے ہیں لیکن ہاتھوں پر دستانے لگے ہوتے ہیں؟
5۔ کیا مندرجہ بالا حالات میں بھی خدمت خلق کا ثواب ملے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے کسب معاش کی ذمہ دارعورت کو نہیں ،بلکہ مردوں کو بنایا ہے چنانچہ شادی تک لڑکیوں کا نان و نفقہ والد کے ذمہ اور شادی کے بعد شوہر پر واجب قرار دیا ہے، یہی لوگ اس کے نان و نفقہ کے ذمہ دار ہیں۔اس لیے اگرکسی عورت کو نفقے کی تنگی یا معاشی بدحالی کا سامنا نہیں، تو محض معیار زندگی بلند کرنے اور زندگی میں خوشحالی پیدا کرنے کی غرض سے گھر سے با ہر نکل کر ملازمت کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ عمل نہیں۔البتہ کوئی عورت ایسی ہے جس کا نہ شوہر ہے ،نہ باپ ہے اور نہ کوئی دوسرا ایسا رشتہ دار جو اس کی معاشی کفالت کرسکے ،اور نہ خود اس عورت کےپاس اتنا مال ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ضروریات پوری کرسکے، اپنی رہائش گاہ میں لیڈیزکلینک، ٹیوشن وغیرہ کا بھی بندوبست نہ ہوسکے، تو اس صورت میں عورت کے لیے بقدرِ ضرورت کسب ِ معاش کے لیے درج ذیل شرائط کے ساتھ گھر سے نکلنا جائز ہے:
(۱) شرعی پردہ کی پوری رعایت کے ساتھ باہر نکلے ،یعنی لباس سادہ اور ڈھانکنے والا ہو، پرکشش نہ ہو۔
(۲) بناوٴ سنگار کے ساتھ نہ نکلے۔
(۳) دوران ملازمت مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط نہ ہو۔
(۴) ملازمت کی وجہ سے خانگی امور میں لاپرواہی اور حق تلفی لازم نہ آئے ۔
اسی طرح علاج کے باب میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ مرد مریض مرد ڈاکٹر سے علاج کرائیں اور عورتیں خاتون ڈاکٹر سے، الا یہ کہ مرد مریض کو مرد ڈاکٹر دستیاب نہ ہو، یا خاتون مریض کو خاتون ڈاکٹر دستیاب نہ ہو تو ایسی ضرورت کے وقت مخالف جنس کا علاج کرنا جائز ہے۔لہٰذا اس ضرورت کے پیش نظر خواتین ڈاکٹروں کا خواتین کے علاج کے لئے درج بالا شرائط کے ساتھ گھر سے نکلنا جائز ہے ۔
اس تفصیل کے بعدجوابات بالترتیب مذکور ہیں ۔
-2,1اگر واقعی شوہر کی کمائی اتنی کم ہے کہ گھریلو ضروریا ت (مناسب کھانا پینا ،لباس اور بچوں کی تعلیم) پوری نہ ہوتی ہو،تو مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ گائنی وارڈ میں کام کرنا جائز ہے ،اور اگر گائنی وارڈ میں کوشش کے باوجود جگہ نہ مل سکے تو مجبوری میں دوسرے وارڈز میں بھی درج بالا شرائط کے ساتھ کام کی گنجائش ہے ۔
-3عورت کے لیے بلاضرورتِ شرعیہ نامحرم مرد سے بات چیت کرنا شرعاً درست نہیں ہے ۔ اگر کسی ضرورت اور مجبوری سے نامحرم سے بات کرنی پڑے تو بہت مختصر بات کرے، جہاں تک ممکن ہوآواز پست رکھے اور لہجہ میں کشش پیدا نہ ہونے دے۔ جیساکہ قرآنِ پاک میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہنّ کو (امہات المؤمنین ہونے کےباجود) ہدایت کی گئی کہ اگر کسی امتی سے بات چیت کی نوبت آجائے تو نرم گفتگو نہ کریں ۔
-4 عورت کی کمائی کے حلال یا حرام ہونے کا مدار اس کے کام کی نوعیت پر ہے، اگر کام حلال ہو تو کمائی بھی حلال ہوگی اور اگر کام حرام اور گناہ کا ہے تو کمائی بھی حرام ہوگی۔چونکہ مذکورہ ملازمت فی نفسہ جائز ہے ،اس لئے اس کی آمدنی بھی شرعاً حلال ہوگی ۔
-5 معاملات میں اگر خدمت خلق اور رضائے الہٰی کی نیت ہوتو عمل پر ثواب ملتا ہے ،نیت نہ ہو تو خدمت خلق کا ثواب نہیں ملتا ۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت بشار (2/ 467):
عن عبد الله،عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان.
أحکام القرآن-للتهانوی-( 3/474-471):
وبالجملة فاتفقت مذاهب الفقهاء وجمهور الأمة علی أنه لايجوز للنساء الشواب کشف الوجوه والأکف بين الأجانب، ويستثنی منه العجائز لقوله تعالیٰ:"القواعد من النساء"، الآية، والضرورات مستثناة فی الجميع بالإجماع. فلم يبق للحجاب المشروع إلا الدرجتان الأولیتان: (1) الأولیٰ القرار فی البيوت وحجاب الأشخاص، وهو الأصل المطلوب. (2) والثانية خروجهن لحوائجهن مستترات بالبراقع والجلابيب وهو الرخصة للحاجة.
ولاشك أن کلتا الدرجتين منه مشروعتان، غير أن الغرض من الحجاب لما کان سد ذرائع الفتنة، وفی خروجهن من البيوت ولو للحوائج والضرورات کان مظنة فتنة، شرط عليهن الله ورسوله صلی الله عليه وسلم شروطاً يجب عليهن التزامها عند الخروج: -
1.أن یترکن الطیب ولباس الزینة عند الخروج، بل یخرجن وهن تفلات، کما مر فی کثیر من روایات الحدیث مما ذکرنا.
2.أن لايتحلين حلية فيها جرس يصوت بنفسه، کما فی حديث رقم42.
3.أن لايضربن بأرجلهن ليصوت الخلخال وأمثاله من حليهن، کما هو منصوص القرآن.
4.أن لا يتبخترن فی المشية کيلا تکون سبباً للفتنة، کما مر فی حديث رقم15 .
5.أن لا تمشین فی وسط الطریق، بل حواشیها، کما فی حدیث رقم38.
6.أن يدنين عليهن من جلابیبهن بحیث لایظهر شئ منهن الا عیناً واحدةً لرؤیة الطریق، کما مر من تفسیر ابن عباس لهذه الآیة.
7.أن لایخرجن إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم 37 .
8.أن لایتکلمن أحداً إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم50.
9.وإذا تکلمن أحداً من الأجانب عند الضرورة فلایخضعن بالقول فیطمع الذي في قلبه مرض، کما هو منصوص الکتاب.
10 . وأن يغضضن أبصارهن عن الأجانب عند الخروج.
.11أن لایلجن فی مزاحم الرجال، کمایستفاد من حدیث ابن عمر رضی الله عنه، لو ترکنا هذا الباب للنساء! (رقم25).فهذه أحد عشر شرطاً وأمثالها، یجب علی المرأة التزامها عند خروجها من البیت للحوائج والضروریات، فحیث فقدت الشروط منعن من الخروج أصلًا.
الموسوعة الفقهية الكويتية (37/ 359):
وأما مصافحة الرجل للمرأة الأجنبية الشابة فقد ذهب الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة في الرواية المختارة، وابن تيمية إلى تحريمها، وقيد الحنفية التحريم بأن تكون الشابة مشتهاة، وقال الحنابلة: وسواء أكانت من وراء حائل كثوب ونحوه أم لا (3) .
واستدل الفقهاء على تحريم مصافحة المرأة الأجنبية الشابة بحديث عائشة رضي الله عنها قالت: كانت المؤمنات إذا هاجرن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يمتحن بقول الله عز وجل {يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين} (4) - الآية - قالت عائشة: فمن أقر بهذا من المؤمنات فقد أقر بالمحنة، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقررن بذلك من قولهن قال لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم: انطلقن فقد بايعتكن، ولا والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امرأة قط غير أنه يبايعهن بالكلام، قالت عائشة: والله ما أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم النساء قط إلا بما أمره الله تعالى، وما مست كف رسول الله صلى الله عليه وسلم كف امرأة قط، وكان يقول لهن إذا أخذ عليهن: قد بايعتكن كلاما.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
27/رجب 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


