| 86831 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم! مجھے درپیش ایک سنگین مسئلہ کےبارے شرعی راہنمائی درکار ہے، میرے والدین نے 2016 میں، میری رضا مندی، اور اجازت کے بغیر، میرا نکاح میرے چاچو کے بیٹے کے ساتھ طے کیا جس کا میں نے انکار کیا۔لیکن میرے والد میری دادی کی وصیت کو پورا کرنے کے واسطے مجھے جذباتی انداز میں مجبور کیا اور زبردستی نکاح کروا دیا ۔ میرے انکار کی وجہ دلوں کی بے رغبتی، مزاج میں اختلاف، سوچ میں فرق، اور میرے سسرال والوں کی طرف سے میرے کردار پہ بے بنیاد الزامات لگانا شامل تھے، لیکن میرے ابو اپنی والدہ کی وصیت کو پورا کرنے کےواسطے مجھے مجبوراً میرے چاچو کے بیٹے کے ساتھ نکاح میں باندھ دیا۔ میں 2016سے لے کر فروری 2022 تک میں رخصتی سے انکار، اور طلاق کا مطالبہ کرتی رہی لیکن میرے والدین نے نہیں مانا کہ دادی کی خواہش اور خاندان کی فضول رسومات آڑے آتی رہی ہیں۔ مارچ 2022 میں میری رخصتی کردی گئی۔ اور میں تقریباً دو یا سوا دو سال اپنے سسرال میں رہی، سسرال والوں کی خدمت سمیت امور خانہ داری میں برابر شریک رہی۔ لیکن میری اپنے شوہر کے ساتھ کبھی دلی وابستگی قائم نہ ہوسکی، لیکن پھر بھی میں نے کبھی اس کو شرعی حق لینے سے انکار نہیں کیا۔ ان دو سالوں میں اس نے مجھے سے اپنا ازدواجی حق لینے کے علاوہ میرے لئے کچھ نہیں کیا۔ سال 2024 میں عید الاضحیٰ کے دن میرے شوہر اور سُسر نے مجھے مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا کہ میرے کان سے خون نکل آیا اور میرے بال کھینچے گئے، لاتوں اور گھونسوں سے مارا گیا۔میں نے گھر کال کی اور میرے والدین مجھے لے گئے۔ چونکہ میرا دل اور مزاج 2016 سے آج تک اپنے شوہر کے ساتھ نہیں بن سکا۔ تو میں واپس نہیں گئی اور طلاق کا مطالبہ کیا جس کی بناء پہ مجھے شوہر، اور خاندان کے دوسرے افراد کی طرف سے قتل کی دھمکی بھی دی گئی۔میرے سسرال نے خاندان میں ہر جگہ مجھے بدنام اور موردِ الزام ٹھہرایا جس سے میرا دل اب مکمل طور پہ اُچاٹ ہو گیا۔ میں شرعی طور پہ اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہوں، میں نے اپنے شوہر کو کال پہ علیحدگی واسطے طلاق کا مطالبہ کیا، خاندان میں دوسرے لوگوں یعنی پھوپھو، چاچو، دیور اور دیورانی کے ذریعے طلاق کے مطالبہ کی درخواست کی لیکن میرا شوہر مجھے طلاق نہیں دینا چاہتا۔ میں نے کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے لیکن وہ کورٹ میں بھی نہیں آنا چاہ رہے اور نہ ہی اپنی طرف سے کسی وکیل کا بندو بست کیا ہے۔ جب میرا کیس کورٹ میں چل رہا تھا، تو میں نے آپ کے مدرسے کی ویب سائیٹ پہ ایک فتویٰ پڑھا کہ عدالت سے یکطرفہ فیصلہ جائز نہیں۔ جب کہ عدالت مجھے یکطرفہ فیصلہ دینے کے قریب تھی، تو میں نے عدالت سے اپنا خلع کا کیس واپس لے لیا۔ اس کے بعد میں نے اپنے والدین، سسرال اور خاندان کے بڑوں سے شرعی طور پہ طلاق کا مطالبہ کیا۔ میرے چاچو نے مجھ سے دو مہینوں کا وقت مانگا کہ نومبر اور دسمبر کے بعد اگر آپ میاں بیوی کا نباہ نہ ہوسکا تو ہم آپ کو طلاق دلوا دیں گے۔ یہ سب اس لئے کیا گیا تاکہ میرا شوہر پاکستان سے باہر چلا جائے اور کسی عدالتی کیس میں اس کی پیشی نہ ہو۔ پھر میرا شوہر چپکے سے سعودیہ عرب چلا گیا، اور اب دسمبر گزر جانے کے بعد میرے سسرال اور خاندان والے نہ تو عدالت میں آنا چاہتے ہیں اور نہ ہی شریعت کی رُو سے کسی مفتی، یا شرعی قاضی کے پاس آنا چاہتے ہیں۔ میرے سسرال اور شوہر میرے بار ہا کہنے کے باوجود مجھے طلاق دینے سے انکاری ہیں اور دوسری طرف پورے خاندان اور علاقہ میں ، میری کردار کُشی اور عزت دری کر رکھی ہے۔ مجھے راہنمائی چاہیے کہ میں کس طرح اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرسکتی ہوں؟ اگر میں عدالت کی طرف رجوع کرتی ہوں تو عدالت یکطرفہ فیصلہ کرتی ہے۔۔۔ اگر میں شریعت پہ جاتی ہوں تو میرا شوہر نہیں آنا چاہتا۔ میرے شوہر نے کسی بھی صورت مجھے طلاق نہیں دینی تو کیا عدالت سے جاری کردہ ڈگری سے میرا نکاح ختم ہوجائے گا؟ اگر بار بار کے مطالبے اور عدالت کے سمن کے باوجود بھی میرا شوہر مجھے ذلیل کرنے واسطے مجھے طلاق نہ دے تو کیا کورٹ سے میری خلع شرعاً قرار ہوجائے گی؟ کیا میں عدالت میں اپنا کیس دوبارہ دائر کردوں؟ یا میں ساری زندگی شوہر کے طلاق نہ دینے اور عدالت کے یکطرفہ فیصلے کے ناجائز ہونے پہ سسک سسک کر مرجاؤں؟ اسلام میں کسی ذی انسان کو مجبوراً کسی کام واسطے باندھا نہیں گیا، اور میرا دل مکمل اچاٹ ہوچکا ہے اپنے خاوند پاس واپس جانے کا خیال میرے دماغ میں بھی آجائے تو مجھے بڑی کوفت اور تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ براہِ کرام میری شرعی طور پہ مکمل راہنمائی فرمائی جائے۔ اس سارے بیان میں کسی قسم کا جھوٹ نہیں اور میں اپنی آخرت کے واسطے فکر مند ہوں کہ اگر کورٹ فیصلہ جاری کرے اور بعد میں اگر میری شادی کسی اور سے قرار پائے تو میرا پہلا نکاح ختم ہو جانا چاہیے، اور کسی قسم کاغیر شرعی فعل انجانے میں سرزد نہ ہو۔ نیز ہماری دو سالوں میں کوئی اولاد نہیں ہو پائی۔۔۔ آپ کی راہنمائی کی مشکور رہوں گی۔ جزاک اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت حال کے مطابق عدالت سےیکطرفہ طور پر خلع لینے کی شرعاًگنجائش نہیں اور نہ ہی ایسا فیصلہ شرعاً نافذ ہوگا ،بلکہ اس فیصلے کے بعد بھی آپ کا نکاح اسی شوہر کے ساتھ برقرار رہے گا ۔
اس قسم کے حالات پیداہونے کااصل سبب یہ ہے کہ شرعی تعلیمات پر عمل نہیں ہوتا ہے۔شریعت میں اولاد کے لیے ہدایت ہے کہ والدین کی نافرمانی سے بچیں،ان کی اطاعت اور فرمابرداری اختیار کریں، یہا ں تک کہ شادی کے معاملے میں بھی ان کی رضامندی کا خیال رکھیں ،اسی طرح والدین کے لیے ہدایت یہ ہے کہ اولاد کے تمام حقوق کاخیال رکھیں۔ حتی کہ نکاح کے معاملے میں ان کی رضامندی ملحوظ رکھیں۔ اسی طرح خاوند کوبیوی کےحقوق ادا کرنے اور بیوی کو خاوند کےحقوق ادا کرنے کی تعلیم دی گئی ہےان تمام ہدایات پرجب عمل ہوجائےتواس قسم کی صورت حال ہرگزپیدا نہیں ہوتی ۔
لیکن آپ کے والدین نے جب یہ فیصلہ کیاتھا اور آپ نے نہ چاہتے ہوئے بھی رخصتی کے وقت اسے قبول کیا تھا، اب اس پر اگر آپ دل سے راضی ہوجائیں اور صبر واستقامت کامظاہرہ کریں تو بہت بڑی سعادت ہوگی ۔ آپ کے شوہر کو اس طرح تشدد کرنے کا شرعا کوئی حق نہیں اور نہ ہی خاندان والوں کو بے جا الزامات لگانے کاحق حاصل ہے ۔ لہذا ان کو ایسے افعال سے احتراز کرنا لازم ہے جن سےبلاوجہ آپ کی دل آزاری ہو ۔ آپ دعاؤں کا خاص اہتمام کریں۔ اپنے ا چھے اخلاق اور کردار سے ان کو متاثر کریں۔امید ہے کہ وہ اس قسم کے برے افعال سے بازآجائیں گے۔اورآپ اپنےمعاشرےکی ایک معززخاتون کی حیثیت سےدیکھی جائےگی ۔
حوالہ جات
قال العلامة الملا على القاري رحمه الله تعالى :تحت قول النبي صلى الله عليه وسلم :المنتزعات والمختلعات هن المنافقات: بكسر الزاي أي التي يطلبن الخلع والطلاق عن أزواجهن من غير بأس.(مرقاة: 5/ 2144)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله:( لو فات الإمساك بالمعروف) ما لو كان خصيًّا أو مجبوبًا أو عنينًا أو شكازًا أو مسحرًا، و الشكاز: بفتح الشين المعجمة و تشديد الكاف و بالزاي: هو الذي تنتشر آلته للمرأة قبل أن يخالطها، ثم لاتنتشر آلته بعده لجماعها، و المسحر بفتح الحاء المشددة: و هو المسحور، و يسمى المربوط في زمانناح عن شرح الوهبانية." (رد المحتار: 3/229)
قال العلامة الحصکفی رحمه الله تعالى: (ولو قضى على غائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا. (الدر المختار: ص472)
(الحیلۃ الناجزۃ:77)
محمد مجاہد بن شیر حسن
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
/4 شعبان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مجاہد بن شیر حسن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


