03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
I divorce you, I am leaving you forever کہنے کا حکم
86836طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندے نے اپنی بیوی کو انگلش کے ان الفاظ میں طلاق نامہ لکھا وہ الفاظ یہ ہیں:

To, Sobia Hayat

From, Javed Iqbal

It is Informed you that I am leaving you forever, now you are free from Nikah. And I divorce you.

ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟طلاق دینے والا بندہ خود اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ میرا مقصد ڈرانا تھا اور اسے یہ معلوم نہیں تھاکہ ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک ہی مجلس میں متعدد بار مختلف الفاظ سے طلاق دینے کے بارے میں اصول یہ ہےکہ اگر دوسرے جملے سے  انشاء طلاق مقصود ہویعنی دوسری طلاق کی نیت ہو، تواس سےدوسری   طلاق واقع ہوگی اور اگر انشاء طلاق مقصود نہ ہو، بلکہ  وہ الفاظ پہلے والے  طلاق پر تفریع کا احتمال رکھتے ہوں ،یعنی پہلے والے جملے کی وضاحت یا تاکید  کا امکان ہواور شوہر کی نیت بھی نئی طلاق کی نہ ہو ،بلکہ وضاحت مقصود ہو، تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور اگر وہ الفاظ پہلے والے  طلاق پر تفریع کا احتمال نہ  رکھتے ہو ں تو پھر دوسری اور تیسر ی طلاق بھی واقع ہوگی ۔

صورت مسئولہ  میں پہلا جملہI am leaving you forever (میں تمہیں ہمیشہ کے لئے  چھوڑرہا ہوں(یہ الفاظ ہمارے عرف میں  طلاق کے معنیٰ میں صریح ہیں اور بغیر نیت کے ان سے طلاقِ رجعی واقع ہوجاتی ہے، لیکن اگر طلاق میں کسی صریح لفظ کے ساتھ کوئی ایسی صفت ذکر کی جائے،جس سے اس لفظ کے معنی میں شدت پیدا ہوتی ہوتو وہ رجعی طلاق بھی بائن بن جاتی ہے،لہٰذااس جملہ سے ایک طلاق بائن واقع  ہوگئی،جبکہ now you are free from nikah ( اب تم نکاح سے آزاد ہو( یہ کوئی مستقل جملہ نہیں ، بلکہ سابقہ طلاق کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے کہا کہ میں نے آپ  کو چھوڑدیا ہے، اب توتم آزاد ہو، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ نیز nowکا لفظ اس پر دلیل ہے کہ یہ   کوئی مستقل جملہ نہیں ہے   ، بلکہ سابقہ طلاق کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے کہاگیا ہے ۔

دوسر اجملہ (I divorce you) میں ڈائیورس کا لفظ انگریزی زبان میں طلاق ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے ،جس سے بھی صریح طلاق واقع ہوتی ہے،لیکن پچھلی بلاق بائن کی وجہ سے یہ بھی بائن بن گئی ۔  

لہٰذا مذکورہ صورت میں  دو طلاق بائن  واقع ہوگئی ہیں ۔اب حکم یہ ہے کہ نکاح ختم ہوچکا ہے، شوہر رجوع نہیں کرسکتا، البتہ یہ دونوں باہمی  رضامندی سے نئے سرے سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ،عدت کے اندر بھی اور عدت گزرنے کے بعد بھی ۔ آئندہ کے لیے شوہر  کو فقط ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا، اگرشوہر نے اس کے بعد ایک بھی طلاق دی تو یہ عورت مکمل طور پر اس کے لیے حرام ہو جائے گی ۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 370):

(‌الصريح ‌يلحق ‌الصريح) أي إذا قال أنت طالق أنت طالق أو قال أنت طالق وطالق تطلق ثنتين وهو ظاهر.(و) الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال أنت طالق يقع الطلاق.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 299):

‌فإن ‌سرحتك ‌كناية ‌لكنه ‌في ‌عرف ‌الفرس ‌غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 372):

ومتى وصفه بصفة يوصف بها الطلاق فلا يخلو إما أن لا تنبئ عن زيادة كقوله أحسن الطلاق.... أو تنبئ عن زيادة كقوله أشد الطلاق ونحوه فالأول رجعي والثاني بائن على أصولهم ولو قال أنت طالق أقبح الطلاق أو أفحشه أو أخبثه أو أسوأه أو أغلظه أو أشره أو أطوله أو أكبره أو أعظمه ولم ينو شيئا أو نوى واحدة أو ثنتين في غير الأمة كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا فثلاث كذا في التبيين.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 378):

ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا ‌وإن ‌كانت ‌مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.

البناية شرح الهداية (5/ 474):

وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

09/شعبان 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب