| 86908 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
میں 47 سالہ خاتون ہوں ،کوایجوکیشن جیسے انگلش لینگویج انسٹیٹیوٹ میں تدریس کرتی ہوں، جہاں کا نظام کافی مناسب ہے، ہر عمر کے طلبہ اور طالبات پڑھنے آتے ہیں،زیادہ تر طالبات حجاب و نقاب میں ہوتی ہیں، اور فرض نمازوں کی ادائیگی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے، میرے لیےعبایا اور حجاب میں رہتے ہوئے تدریس کرنا جائز ہے؟ جزاک اللہ خیرًا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خواتین اساتذہ کا بالغ یا قریب البلوغ لڑکوں کو تعلیم دینا اصولی طور پر شرعا ناپسندیدہ ہے،لیکن چونکہ آج کل مخلوط نظام تعلیم کا رواج ہے اور کالج و یونیورسٹیوں میں لبرل و سیکولر ذہن رکھنے والے اساتذہ طلبہ کو فکری اور عملی لحاظ سے دین سے متنفر اور دین بیزار بنارہے ہیں،اگر دینی ذہن رکھنے والے اساتذہ وہاں نہیں جائیں گے تو ان کے باطل نظریات کے آگے بندھ باندھنے والا کوئی نہ ہوگا،جیسا کہ آج کل اکثر یونیورسٹیوں میں ہوبھی رہا ہے،اس لیے اس اہم ضرورت کے مدنظر اگر کوئی عورت کسی مخلوط تعلیمی ادارے میں پڑھارہی ہو تو درج ذیل شرائط کی سختی سے پابندی کے ساتھ اسے پڑھانے کی گنجائش ہوگی:
1۔نیت یہ ہو کہ اس ادارے کے ماحول کو دینی لحاظ سے بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کروں گی۔
2۔ممکن ہو تو لڑکوں کو لڑکیوں سے الگ ایک طرف بٹھایاجائے اور لڑکیوں کو برقع کا پابند بنایا جائے،ورنہ کم از کم اسکارف یا حجاب کا پابند بنایا جائے۔
3۔ عورت توجہ لڑکیوں کی طرف رکھے۔
4۔درسگاہ سے باہر بلاضرورت نامحرموں سے بات چیت نہ کرے۔
5۔لڑکیوں کو پردے کی ترغیب دی جاتی رہے اور حتی الامکان دینی لحاظ سے طلبہ کی ذہنی،فکری اور عملی تربیت کی کوشش جاری رکھی جائے۔
6۔کسی بھی نامحرم سے تنہائی میں ملاقات نہ کرے،چاہے تعلیم کی نیت سے ہی کیوں نہ ہو،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ کوئی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے،کیونکہ تیسرا وہاں شیطان ہوتا ہے۔
تاہم اگر کسی کا ذہن پختہ اور طبیعت قوی نہ ہو اور ایسے اداروں میں پڑھانے سے اس کے کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتو پھر ایسی حلت میں مخلوط نظام تعلیم والے ادارے میں پڑھانا جائز نہ ہوگا۔
حوالہ جات
قال الله تبارك وتعالى:ﵟوَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّﵞ [النور: 31]
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗﵞ [الأحزاب: 59]
أخرج الإمام أبو داود: عن أم سلمة، قالت: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده ميمونة، فأقبل ابن أم مكتوم وذلك بعد أن أمرنا بالحجاب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: احتجبا منه، فقلنا: يا رسول الله، أليس أعمى لا يبصرنا، ولا يعرفنا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أفعمياوان أنتما ، ألستما تبصرانه.( سنن أبي داود:4/ 63،رقم الحدیث: 4112)
عورتوں کامخلوط تعلیمی نظام میں تدریس کرنا
محمد مجاہدبن شیر حسن
دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
/20شعبان ،6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مجاہد بن شیر حسن | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


