03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نشے کی حالت میں طلاق کا حکم
86937طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

السلام علیکم ! میری شادی کو سات سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ کل کسی گھریلو بات پر میری بیوی نے میری ماں سے بدتمیزی کی، جس کی وجہ سے میری اور میری بیوی میں بہت لڑائی ہوئی ۔ میں شراب کے نشے میں اس سے لڑا اور جب مجھے بہت غصہ آگیا تو میں نے اسے ایک سادھے کاغذ پر لکھ کر طلاق دے دی۔۔ میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا مگر نشے اور غصے نے کروا دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسے طلاق ہو جاتی ہے کیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نشے کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں سائل نے اپنی بیوی کو جو نشے کی حالت میں طلاق دی ہے، وہ واقع ہو گئی ہے۔

حوالہ جات

 في الهندية: وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى.(الفتاوى  الهندية: 1/353)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح. (رد المحتار :235/3)
 

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
20/رجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب