| 86886 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم! جناب عرض ہے کہ میری زوجہ نے میرے خلاف خلع کا کیس کیا ہے۔ ہمارا ایک دو سال کا بچہ بھی ہے۔ہماری عدالت میں پہلے سے مصالحت بھی ہو چکی ہے،جس میں میں نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ اگر وہ بچہ مجھے دے دیتی ہے تو میں اس کی ہر شرط پوری کرنے کے لیے آمادہ ہوں،حتی کہ شرعی خلع دینے اور سات تولے حق مہر چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہوں۔لیکن وہ بچہ واپس کرنے سے انکاری ہو گئی اور عدالت نے میری رضامندی کے بغیر اسے خلع دے دی۔کیا عدالت کی طرف سےدی گئی خلع سے شرعی خلع واقع ہو گئی ہے؟اگر شرعی طور پر خلع واقع نہ ہوئی ہو اور لڑکی دوسری شادی کر لے تو میری رضامندی کے بغیر ہونے والے اس خلع کی وجہ سے مجھ پر کوئی گناہ یا اللہ کی ناراضگی تو نہیں ہوگی؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:سائل نے خلع کی ڈگری اور فیصلہ بھی ارسال کیا ہے،جس کی تفصیل یہ ہے:
مدعیہ یعنی بیوی نے عدالت میں خلع کے لیے مقدمہ دائر کیا، مؤقف اپنایا کہ وہ شوہر (............) کے ساتھ مزید زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس سے شدید نفرت کرتی ہے۔
مدعا علیہ یعنی شوہر نے عدالت میں جواب جمع کرایا کہ میں مدعیہ سے صلح کرنے اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوں۔مدعیہ کو حق مہر میں سات تولے سونا دیا جا چکا ہے، جو اس کے پاس موجود ہے۔مدعیہ نے خود اپنے والدین کے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور وہ ناشزہ ہے، اس لیے نان و نفقہ کی حق دار نہیں۔البتہ بچے کی دیکھ بھال کے تمام اخراجات میں خود برداشت کر وں گا۔
عدالت کا فیصلہ:
- مصالحت کی کوشش ناکام ہونے پر مدعیہ کا خلع کا دعویٰ منظور کر لیا گیا۔
- بچے کے نان و نفقہ کے طور پر مدعا علیہ کو سات ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
- مدعا علیہ کو ہر ماہ تیسرے ہفتے کے ہفتے کے دن صبح 10 سے 12 بجے تک بچے سے ملاقات کا حق دیا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شرعی خلع کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر عدالت شوہر یا اس کے وکیل کی غیر موجودگی میں یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کرے، تو وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتی۔ صورت مسئولہ میں چونکہ عدالت نے بغیر کسی شرعی حق کے صرف اس بناء پر خلع کا فیصلہ دیا ہے کہ بیوی شوہر سے نفرت کرتی ہے اور مزید اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی، اس لیے یہ خلع شرعاً قابل قبول نہیں ہے۔نکاح بدستور قائم ہے، لہٰذا عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کرے گی تو زنا کی مرتکب ہوگی اور سخت گناہ گار ہوگی ۔تاہم ایسی صورت میں شوہر گناہ گار نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله تعالى:فيحتمل الفسخ بالتراضي أيضا، وذلك بالخلع، واعتبر هذه المعاوضة المحتملة للفسخ بالبيع والشراء في جواز فسخها بالتراضي.(المبسوط: 6/ 171)
و قال ایضاً: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (المبسوط: 6/173)
وقال العلامۃ الكاساني رحمه الله تعالى:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول. (بدائع الصنائع : 3/ 145)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمه الله تعالى:(و) الخلع (هو من الكنايات فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) من قرائن الطلاق، لكن لو قضي بكونه فسخا نفذ ؛لأنه مجتهد فيه، وقيل لا. )رد المحتار :3/ 444(
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمه الله تعالى: ولا يخفى أن المراد بقوله: نفذ، هو ما لو حكم به حنبلي في مسألتنا، بخلاف الحنفی، فإنه وإن صح حكمه بغير مذهبه على أحد القولين، لكنه في زماننا لا يصح اتفاقا ؛لتقييد السلطان قضاءه بالحكم الصحيح من مذهبنا، فلا ينفذ حكمه بالضعيف فضلا عن مذهب الغير.(رد المحتار: 3/ 444)
وقال العلامۃ الجصاص رحمه الله تعالى: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين ؛لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان، وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ...وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها . (أحكام القرآن 153/3)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
20/شعبان المعظم6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


