03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق واقع ہونے کے لئے زبان سے ادائیگی لازم ہے
86900طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

موبائل استعمال کرتے ہوئے کئی بارمختلف websitesاورLinkedInوغیرہ پر   ایسے اشتہارات آ تے ہیں جہاں طلاق کا لفظ استعمال ہوا ہوتا ہے ، کئی بار اس اشتہار کو بند یا کاٹ دیتا ہوں کہ کہیں میں طلاق کا لفظ استعمال نہ کرلوں۔ کچھ  دن پہلے میں گھر پر اکیلا تھا اور job سرچ کرتے ہوئے آ دھی رات ہو چکی تھی، میں نے  ایسے ہی ایک اشتہار دیکھا، میں نے پڑھا تومجھے لگا جیسے میں نے وہ الفاظ شاید اپنی بیوی کے لیے استعمال کر لیے ہیں، مگرنہ میری آواز نکلی تھی نہ زبان سے ادا کیاتھا  ،لیکن  مجھے ایسے لگا جیسے میری زبان ہلکی سی منہ کے اندر ہلی ہے ۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، شاید نیند کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے، اس لیے میں سو گیا مگر جیسے اٹھا توپھر سے  خیال آنا شروع ہوگئے کہ کہیں میں نے وہ الفاظ اپنی بیوی کے لیے استعمال نہ کئے ہوں، مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔

 میں بہت پریشان ہوا میں نے اپنی زبان کی حرکت معلوم  کرنے کے لیے قرآن مجید کی آ یت " الطلاق  مر تان "صرف یہیں تک اس نیت سے پڑھی کہ   کیاوہ آوازایسی   تھی یا نہیں ۔ اسی اثناء میں مجھے پھر شیطان کی طرف سے خیال آیا کہ یہ میں  اپنی بیوی کے لیے استعمال کر رہا ہوں مگر نیت یہ نہیں تھی ۔مجھے پہلے بھی اور اب   پھر سے اسلام اور اللہ کے بارے میں نعوذ باللہ برے خیالات آ رہےہیں ۔ میں hypertension اور overthinking کا بھی مریض ہو ں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کے واقع ہونے کے لئے یہ اصول ہےکہ  زبان سےالفاظ طلاق ادا   کئے ہوں ،فقط  وسوسہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،نیز طلاق کی اضافت  ونسبت بھی اپنی بیوی کی طرف ہونالازم ہے ۔

مذکورہ صورت میں جب  سائل کو  یقین ہے کہ اس نے زبان سے طلاق نہیں دی تو محض ان شیطانی وسوسوں  سے طلاق نہیں ہوگی، سوال میں جوذہنی کیفیت آ پ کی ہے اگریہ تفصیل واقعہ کے مطابق ہے تواس کی روسے آپ کو وہم اوروسوسہ کامرض ہے، ان شیطانی  وسوسوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے،آپ مطمئن رہیں اورآئندہ کے لئے ایسے خیالات پربالکل دھیان نہ دیں ۔

نیز غیر اختیاری طور پر دل میں اسلام کے متعلق برے خیالات آنےسےانسان دینِ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ اس کو جھڑکنااوردل سے برا سمجھناایمان کی علامت ہے،لہذا ان خیالات اور وسوسوں سے پریشان نہ ہوں ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (1/ 119 ت عبد الباقي):

عن أبي هريرة؛ قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه:إنا ‌نجد ‌في ‌أنفسنا ‌ما ‌يتعاظم ‌أحدنا أن يتكلم به. قال: "وقد وجدتموه؟ " قالوا: نعم. قال" ذاك صريح الإيمان".

مرقاۃ المفاتیح 1/238:

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ تجاوزعن امتی ماوسوست بہ صدورہامالم تعمل بہ اوتتکلم متفق علیہ ۔قال الملاعلی قاری :الخواطران کانت تدعوالی الرذائل فہی وسوسۃ ۔۔۔۔ماوسوست بہ صدورہاای ماخطر فی قلوبہم من الخواطرالردیئۃ...مالم تعمل بہ ای مادام لم یتعلق بہ العمل ان کان فعلیا،اوتتکلم بہ ای مالم یتکلم بہ ان کان قولیا۔

رد المحتارعلی الدرالمختار 16 / 259:

لا يجوز طلاق الموسوس قال : يعني المغلوب في عقله ، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب ۔

حاشية رد المحتار3 / 275:

أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله، كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

20/شعبان 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب