03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعلیق طلاق کی ایک صورت (بیوی:فلاں لڑکی ہمارے گھر آئی تھی، اگر نہیں آئی ہو تو میں آپ پر تین شرطوں کے ساتھ طلاق ہوں،شوہر: ٹھیک ہے۔)
86947طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ نے کہا کہ فلاں دن فلاں لڑکی ہمارے گھر آئی تھی، اگر نہیں آئی ہو تو میں آپ پر تین شرطوں(تین طلاق) کے ساتھ طلاق ہوں۔ اس پر زید نے جواباً کہا کہ ٹھیک ہے، مگر زید کی نیت طلاق کی نہیں تھی، ویسے "ٹھیک ہے "کہا تھااور بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکی نہیں آئی تھی اور ہندہ نے بھی اقرار کیا کہ میں نے جھوٹ بولا تھا، اب کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اور کتنی واقع ہوگئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ ہندہ نے مخصوص دن اور مخصوص لڑکی کے نہ آنے کی صورت میں تین طلاقوں کی شرط لگائی تھی اور زید نے بھی جواباً ٹھیک ہے کہا تھا،لہذا یہ زید کی طرف سےطلاق کی تعلیق ہوگئی،پھربعد میں جب یہ ثابت ہوا کہ لڑکی حقیقت میں اس دن گھر نہیں آئی تھی، تو اس صورت میں شرط پائے جانے کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ: قوله:( وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها ‌طلقت ‌لأن ‌التعليق ‌بأمر ‌كائن ‌تنجيز.           (فتح القدير ، ط الحلبي:4/ 105)

إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح ... ‌وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا.(الفتاوى الهندية:1/ 420)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

25/شعبان المعظم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب