03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نامعلوم ایپ سے ملنی والی یقینی کمائی کا حکم
86909خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ایک باہر کے ملک کی ایپ ہے  جس میں پہلےاکیس ہزار( 21000) جمع کرنے ہوتے ہیں۔ہمیں  کوئی علم نہیں کہ ہماری رقم کس کام میں لگ رہی ہے،لیکن ایپ والے ہمیں روزمنافع کے طور پر کچھ رقم دے رہے ہیں،کبھی کم کبھی زیادہ  ۔ اس ایپ میں بس ایک بار رقم جمع کروانی ہوتی ہے، پھر زندگی بھر منافع ملتا رہتا  ہے،نقصان کوئی نہیں ۔  یہ ایپ کبھی بھی بند ہو سکتی ہے،لیکن پچھلے6 سال سے بند نہیں ہوئی۔ ایپ کا نام تو معلوم نہیں لیکن کام یہی ہے ۔اس سے حاصل ہونے والی  رقم حلال ہے یا حرام؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی کمپنی یا ایپ  میں رقم  انویسٹ کرکے منافع لینا شرعی لحاظ سے  یا تو شرکت کا عقد ہوسکتا ہے یا مضاربت کا۔دونوں کے جائز ہونے کے لئے شرط ہے کہ کمپنی یا ایپ کا کاروبار حقیقی طور پر موجود ہو ، حلال بھی  ہویعنی شرعاً کوئی ناجائز کام نہ ہو،منافع  کی تقسیم فیصدی تناسب سے ہو ،اگر شرکت کا عقد ہو تو نقصان دونوں کا ان کے سرمایہ کے تناسب سے ہو، جبکہ مضاربت میں انویسٹر کو نقصان کی صورت میں نفع نہ ملتا ہو ۔

سوال میں مذکور صورتحال  کے مطابق اس ایپ میں پیسہ خرچ کرنا جائز نہیں ،کیونکہ انویسٹر کو صرف نفع ملتا  ہے، نقصان کا کوئی خدشہ نہیں ، اسی طرح کاروبار کی نوعیت بھی  معلوم نہیں ہے اور نفع کا تناسب بھی مجہول  ہے ۔مزید یہ کہ ایسے   ایپ(App) عام طور دھوکہ دہی اور فراڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح کی ایپس پر پیسے نہ لگائے جائیں۔

حوالہ جات

تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (3/ 301):

وقوله تعالى: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى ‌وينهاهم ‌عن ‌التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(3/ 352):

المادة (1337) - (يشترط أن تكون حصة الربح الذي بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع فإذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا من الربح تكون الشركة باطلة)

يشترط أن تكون حصة الربح الذي سيقسم بين الشركاء جزءا شائعا كالنصف والثلث والربع، وبتعبير آخر يجب أن لا يكون في تعيين الربح حال يقطع الشركة أي يجب أن يكون الربح أولا: جزءا، فإذا شرط كل الربح لأحد الشركاء لا تصح الشركة، ثانيا: أن يكون شائعا، فلذلك إذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا كمائة درهم من الربح وأن يكون باقيه كاملا للآخر أو مشتركا تكون الشركة باطلة.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (3/ 367):

قال: (ولا تجوز المضاربة على أن لأحدهما دراهم معلومة).

وذلك لأن هذا يخرجها عن باب الشركة، لجواز أن لا يربح إلا هذا القدر، ولا يشاركه الآخر فيه، ومتى خرجت عن باب الشركة، صارت إجارة، والإجارة لا تجوز إلا بأجر معلوم، لقوله صلى الله عليه وسلم: "من استأجر أجيرا فليعلمه أجره.

فقہ البیوع (1/366):

وكذلك إن كانت الشركة تجارتها حراماً، مثل: الشركات التي تتعامل في الخمر أو الخنزير، أو البنوك الربوية، يحرم تداول أسهمها.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

23/شعبان /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب