03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرچیز آرڈر جاری کروانے کے لیے رشوت دینے کا حکم
86961جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ہماری ٹیکسٹائل ڈائنگ اور پرنٹنگ فیکٹری ہے، ہماری فیلڈ میں برانڈز کا کام ہوتا ہے ،پر برانڈز یا ان کے ایمپلائز بغیر رشوت دیے پرچیز آرڈر ریلیز نہیں کرتے ، ہمارا کام کافی معیاری بھی ہے اور ہم کچھ ناجائز تقاضا نہیں کرتے ، البتہ پھر بھی برانڈز ان کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں جو ان کو رشوت دیتے ہیں ، ان حالات میں کیا ہم ان کو رشوت دے سکتے ہیں  ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مذکورہ  میں پرچیز آرڈر جاری کروانے پر رشوت دینا  جائز نہیں ، اس سے بچنا ضروری ہے ۔آپ کو چاہیے کہ برانڈز کا جو طریقۂ کار ہے اس کے  مطابق  ہی پرچیز آرڈر جاری کروائیں۔ حدیث شریف میں رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت بھیجی گئی ہے ۔البتہ  اگر کہیں صورت حال ایسی ہو کہ آپ کو اصولی طور پر پرچیز آرڈر جاری کرانے  میں مشکل پیش آرہی ہو کہ آپ کو رشوت نہ دینے پر ضرر لاحق ہورہا ہو اور اس کے بغیر کام کرنا مشکل ہو  تو  ایسی مجبوری کی صورت میں رشوت دے کر پرچیز آرڈر جاری کرانے کی گنجائش  ہے۔لیکن لینے والوں کے لیے بہر صورت رشوت لینا  سخت ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

قال العلامة علاءالدین رحمه الله: وقوله عليه الصلاة والسلام لعن الله ‌الراشي والمرتشي والمراد به إذا كان هو الظالم فيدفعها لبعض الظلمة يستعين بها على الظلم.

وأما لدفع الضرر عن نفسه فلا شبهة فيها، حتى روي عن أبي يوسف أنه أجاز ذلك للوصي من مال اليتيم لدفع الضرر عن اليتيم الخ.رملي.(تکملۃ ردالمحتار:8/351)

قال العلامة ابن نجیم رحمه الله: ومنها إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع. (البحرالرائق :6/285)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

25‏ شعبان ‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب