| 87020 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
مسجد کی چھت پر بچوں کےپڑھنے کےلیے جگہ بنانا ،کہ بچے اس میں پڑھیں۔کیااس کو مدرسہ کا نام دے کر رجسٹرکرانا جائز ہے؟ جبکہ رجسٹریشن کے وقت بچے پڑھ رہےہو،شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بوقت ضرورت مسجدکی چھت پر بچوں کےپڑھنے کےلیے جگہ بنانا جائز ہے،لیکن چونکہ مسجد شرعی تحت الثریٰ سے لے کرآسمان کی فضا تک مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے،اسی لیےمذکورہ صورت میں مسجد کی حیثیت تبدیل کرکے مدرسہ کے نام سے رجسٹر کراناجائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ :(و) كرهه تحريما (الوطئ فوقه، والبول والتغوط) لانه مسجد إلى عنان السماء.(الدرمع الرد:(707/1
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ:فإذا تم ولزم ،لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن.(الدرمع الرد:(351/4
قال العلامۃ بدر الدين العينى رحمہ اللہ: وإذا صح خرج من ملك الواقف، ولم يدخل في ملك الموقوف عليه؛ لأنه لو دخل في ملك الموقوف عليه، لا يتوقف عليه، بل ينفذ بيعه كسائر أملاكه، ولأنه لو ملكه لما انتقل عنه بشرط المالك الأول، كسائر أملاكه.البناية شرح الهداية:(431/7
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27شعبان المعظم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


