| 87060 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ڈاکٹر کا ہر مریض سے الگ فیس لینا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈاکٹر کی حیثیت شرعاً اجیر خاص کی ہوتی ہے، جو اپنی مہارت اور وقت کا معاوضہ لیتا ہے۔ اس بنا پر ہر مریض سے الگ فیس لینا جائز ہے، البتہ فیس کا متعین اور معروف طریقے کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى :(سئل) في رجل به داء في ظهره اتفق مع طبيب على مداواته وجعل له أجرة ولم يضرب له مدة وداواه ويريد الطبيب أجرة مثله وما أنفقه في ثمن الأدوية فهل له ذلك؟
(الجواب) : نعم والمسألة في الخيرية من الإجارة .(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: 138/2 )
واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02/رمضان1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | واجد علی بن عنایت اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


