03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سونے اور چاندی کے نصابِ زکوٰۃ کی وضاحت
87158زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

میری بہن کے پاس ایک تولہ سونا  اور دس تولہ چاندی ہے۔کیا اس پر زکوٰۃ دینا واجب ہے ۔جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ سونا ساڑھے سات تولہ ہو تو زکوٰۃ واجب  ہوتی ہے،اسی طرح   چاندی ساڑھے باون تولہ ہو تو زکوٰۃ واجب  ہوتی ہے ۔رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ   سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ، اسی طرح چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ  اس وقت ہے، جب  دو نوں کے ساتھ مال تجارت یا نقدی شام نہ  ہو،لیکن  اگر سونا اور چاندی دونوں موجود ہوں، یا کسی ایک کے ساتھ مالِ تجارت یا نقدی بھی شامل ہو، تو زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر شمار کیا جائے گا۔

مذکورہ صورت میں ایک تولہ سونا اور دس تولہ چاندی کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سےزیادہ ہے، اسی لیے آپ کی بہن  پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع :22/2

"لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."

 وفیہ أیضاً18/2:

فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم.....فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌ذهب ‌مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال.

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

10رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب