| 87197 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہم بھائیوں نے مل کر اپنی ذاتی رقم سے ایک گھر خریدا، اس میں نہ میراث کی کوئی رقم شامل تھی، نہ مشترکہ خاندانی فنڈ، اور نہ ہی کچن کے اخراجات سے کوئی بچت استعمال کی گئی۔ بلکہ یہ مکمل طور پر ہماری اپنی ذاتی کمائی سے خریدا گیا تھا، اور اس وقت ہم سب بھائی مالی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے۔
کیا ہماری والدہ صاحبہ اس گھر کی ملکیت میں حقدار ہیں؟ والدہ کا احترام ہم پر فرض ہے، اور ان کے علاج، خدمت اور خوشی کے ساتھ رہائش کا انتظام کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ والدہ کو بے گھر کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ، شرعی طور پر اس گھر کی قیمت فروخت میں والدہ کا حق بنتا ہے یا نہیں، کیونکہ والدہ نے اس کی خریداری میں کوئی رقم شامل نہیں کی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ یہ مکان موروثی نہیں ہے، اس لیے والدہ صاحبہ کا بیٹوں کی زندگی میں شرعاً اس میں کوئی حصہ نہیں بنتا۔ البتہ، اگر والدہ کا خیال رکھتے ہوئے آپ انہیں کوئی مناسب حصہ دینا چاہیں تو یہ آپ کی اپنی مرضی اور احسان ہوگا، مگر شرعاً لازم نہیں۔
واضح رہے کہ اگر کسی کے والدین ضرورت مند ہوں تو ان کی رہائش اور نان و نفقہ کی ذمہ داری اولاد پر واجب ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية 17,18/2:
(أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له، كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه."
البناية شرح الهداية :99/5
"فصل وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته، إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه. أما الأبوان فلقوله تعالى: {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15]، فأنزلت في الأبوين الكافرين.
م: (فصل) ش: أي هذا فصل، ولما فرغ من بيان نفقة الأولاد شرع في بيان نفقة الآباء والأجداد والخادم. م: (وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء) ش: وفي " المبسوط ": على الرجل الموسر نفقة أبيه وأمه، وأب الأب وإن علا، وأم الأب وإن علت، وأم الأم وإن علت. وشرط الشافعي في ذلك أن يكون الأب زمنًا ولم يوافقه أحد. وفي " التنبيه ": ويجب على الأولاد ذكورهم وإناثهم نفقة الوالدين، وإن علوا بشرط الفقر والزمانة، والجنون مع الصحة قولان، أظهرهما: لا يجب.
و في الرد علی الدر:61/4
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
19رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


