03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مروجہ دعوت و تبلیغ کے حوالے سے چند اشکالات کے جوابات
87258علم کا بیانتبلیغ کا بیان

سوال

اپنی دلی تسلی کےلئے معزز علماء کرام سے چند سوالات کے جواب مطلوب ہیں :

 1- تبلیغی جماعت میں اگر کوئی چلہ کیلئے نکلا ہو اور چلہ پورا کیے بغیر واپس گھر آجائے، تو کیا ایسا شخص ملامت کا مستحق ہوگا؟ کیا یہ اس کے دین سے محروم ہونے کی علامت ہے ؟

 2- جو شخص تبلیغی جماعت میں چلہ کیلئے نکلا ہو۔ اس کو روز ڈھائی گھنٹے کی تعلیم سننے کیلئے زور دینا اور مجبور کرنا اور نہ سننے پر اس کو ملامت کرنا درست ہے ؟ جبکہ اس کو روز ڈھائی گھنٹے کی تعلیم سننے کی وجہ سے اکتاہٹ محسوس ہو رہی ہو؟بخاری شریف میں جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ان سے لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں روزانہ نصیحت کیا کریں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں ہفتہ میں صرف ایک دن نصیحت کرتےتھے تاکہ اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں۔ اس حدیث کا محمل کیا ہوگا؟

 3- تبلیغی جماعت کے تمام بیانات چھ نمبروں کے اندر منحصر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی عالم چلہ کیلئے نکلا ہو اور وہ اس سے ہٹ کر بیان کرنا چاہےتو اس عالم کو چھ نمبر کے بیان پر پابند کرنا درست ہے؟

 4- بعض لوگ تبلیغی جماعت والوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تبلیغ تو کافروں کو ہوتی ہے نہ کہ مسلمانوں کو۔ تو اس اعتراض کے بہتر جواب کی طرف رہنمائی فرما دیجئے ۔ جزاک اللہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

-1قرآن وحدیث سے  دین کی دعوت وتبلیغ کرنا  ثابت ہے، اس کا طریقہ کار مثلاً تین دن کے لیے، چالیس دن کے لیے یا چار مہینے کے لیے وقت لگانا، گشت کرنا وغیرہ اگرچہ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں، لیکن بزرگ علمائے کرام اور بزرگان ِتبلیغ نے اپنے تجربے کے مطابق عوام کے لئے  مفید سمجھ کر یہ طریقہ اپنا یا ہے اور اس پر عمل کی تاکید کرتےرہتے  ہیں ،تاکہ انتظام و انصرام اور اس کام کی اہمیت  برقرار رہے ۔اسی طرح تبلیغی عمل میں ایک مرتبہ نظم کی پابندی کا عہد کرنے کے بعد خلاف ورزی قابل مذمت  ہے ،اگرکوئی عذر  ہو تو ذمہ دار کے سامنے رکھا جاسکتا ہے،کیونکہ  ضرورت شدیدہ کے بغیر کسی بھی ادارے کے ترتیب کی خلاف ورزی  نہیں کرنی  چاہئے، لیکن اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو اس کو لعن طعن کا نشانہ بنانا بھی جائز نہیں،کیونکہ  سہ روزہ ،چلہ یا سال کےلیےجانا کوئی شرعی حکم( واجب ،سنت وغیرہ) نہیں کہ درمیان میں چھوڑنے کی وجہ سے گناہ  ہو ۔ اگر کوئی ضرورت ہو تو نہ صرف  گھر واپس آسکتے ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں شرعا واپس آنا لازم  بھی ہوسکتا ہے  ۔

-2تبلیغ کے بنیادی اصولوں میں ایک یہ بھی ہے کہ تبلیغ یا نصیحت کرتے وقت سامعین کی توجہ اور دلچسپی کی رعایت رکھی جائے، بے جا اور بے وقت انہیں نصیحت و تبلیغ کرنا شروع نہیں کرنا چاہئے کہ سامعین اکتاہٹ کا شکار ہوجائیں۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بھی وعظ ونصیحت کرتے وقت اس بات کا خیال کرتے تھے کہ سامعین اکتاہٹ میں مبتلا نہ ہوں، حالانکہ مسلمانوں اور خصوصاً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے سب سے زیادہ رغبت اور شوق والا کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات سننا ہی تھا، تاہم امت کوتعلیم وتبلیغ کا صحیح منہج اور طریقہ کارسکھلانے کے لیے آپ ہر روز نصیحت کرنے کے بجائےناغے(گیپ) کے ساتھ وعظ فرماتے تھے، تاکہ سامعین کی رغبت باقی رہے۔لیکن چونکہ تبلیغ میں نکلنے والوں نے اس مخصوص مدت کے لئے خود کو دین کے سیکھنے کے لئے فارغ کیا ہوتا ہے ،لہٰذا یہ حصول علم کے سفر  کی طرح ہے  جس میں تسلسل مفید اور درکار ہوتا ہے،اسی طرح اگر بالکل ہی ڈھیلا چھوڑدیا جائے گا تو تبلیغ میں نکلنے کا مقصد فوت ہو جائے گااور ہر دوسرا آدمی پھر  تبلیغ کے معمولات میں نہیں بیٹھے گا۔جہاں تک  حدیث ابن مسعودکا تعلق ہے تو وہ حدیث عام زندگی کی حالت سے متعلق ہے، تبلیغی دورہ ایک ٹرینگ اور تربیت کی طرح ہے، اس میں عام معمول سے زیادہ تعلیم اور  تربیت  مطلوب ہے جس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔

-3اکابرتبلیغی جماعت  نے عوام کی تربیت اور ان کو تبلیغی نظام میں چلانے کے لیے دین کی چند اہم اور بنیادی باتوں کو جمع کر کے عوام کےلیے بطورِ نصاب منتخب کیا ہے اور  اسے چھ نمبر کا نام دیا ہے، چھ نمبر بیان کرنے کی  مشق سےمقصدیہ ہے کہ جب دین کے اہم ترین اعمال و احکام (یعنی توحید و رسالت کا اقرار و یقین، نماز کا اہتمام، دین کا علم، اللہ تعالیٰ کا ذکر و استحضار، اخلاق نبویہ،اخلاص نیت اور دعوت دین)کا علم ہوجائے گا ،تو اس پر عمل بھی ممکن ہوگا۔اسی طرح پھر رفتہ رفتہ دیگر احکام کا علم حاصل کرنا اوران پر  عمل کرنا آسان ہوجائے گا۔لہٰذا عالم دین کو بھی چاہئے کہ جو وقت جس کام کے لئے منتخب کیا گیا ہے ،اسی پر عمل کرے، الا یہ کہ اگر لوگ دین کا  کوئی عظیم حکم پامال  کررہے ہوں اور کوئی دوسرا موقع نہ ہو ان کو سمجھانے کے لئے ،تو پھر اس اہم موضوع پر بات کرنی چاہئے۔

-4یہ بات درست نہیں کہ تبلیغ صرف کافروں کو ہوتی ہے ،آیاتِ کریمہ اور احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے کہ مطلقاًیعنی کسی خاص طریقہ اور ہیئت کے بغیر،مسلمانوں کو نہی عن المنکر یعنی بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا امت کے ہرفرد پر لازم ہے۔ البتہ تمام احکام شرعیہ کی طرح اس میں بھی ہرشخص کی قدرت واستطاعت پر احکام جاری ہوں گے، جس کو جتنی قدرت ہو اتنا ہی یہ فر یضہ اس پر عائد ہوگا، بشرطیکہ آدمی کو معروف اور منکر کا علم ہو۔

حوالہ جات

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دا الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

22/شوال /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب