03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیمار بیٹے کے لیےوالد کی جائداد کو ان کی اجازت کے بغیر بیچنے کاحکم
87256نان نفقہ کے مسائلوالدین،اوراولاد کے نفقہ اور سکنی کے احکام

سوال

میری  عمر 43 سال ہے۔14سال کی عمر سے اپنے والد کے  گھر کی ذمہ داری اٹھا  رہا ہوں ۔گھر میں صرف میں  اورمیری   والدہ رہتے ہیں۔والد نے شادی بھی نہیں کرائی ۔ہم 2بھائی ہیں۔ میرا والد دبئی میں کام کرتا ہے۔صاحب حیثیت ہے۔13 سال سےشدید بیمار ہوں۔والد  میرا علاج نہیں کراتا   اور اپنا موبائل نمبر بھی  بند کیا ہے ۔بھائی بھی دبئی میں کام کرتا ہے۔ان کی شادی   بھی ہوچکی ہے، 2 بچے ہیں۔ بھائی کو کہتا ہوں  کہ میرا  علاج کراؤ۔بھائی کہتا ہے میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ۔جب بھائی کو زیادہ کہتا ہوں تو میرا نمبر بلاک کرتا ہے۔میں   13 سال سے شدید بیمار ہوں۔13 سال سے والد سے رابطہ نہیں ہورہا ہے ۔کیا علاج کے لیے میں اپنے والد صاحب کا پلاٹ یا زمین بیچ سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر  آپ   واقعتاً ایسی شدید بیماری میں مبتلاء ہیں کہ آپ اپنے کاموں  کے لیے دوسروں کےمحتاج ہیں ،یعنی خود کوئی کام  روزگار وغیرہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں    تو آپ معذور  ہیں جس کی وجہ سےشرعاً   آپ کا نفقہ اور ضروری علاج آپ کے والد صاحب کی ذمہ داری بنتی ہے۔انکار کرنے کی صورت میں آپ اپنے والد کی جائیداد میں سے اتنا بیچ سکتے ہیں جو آپ کے  نفقہ اور ضروری علاج کے لیے  کافی ہو۔

 اور اگر  بیماری  معذوری کی حد تک نہ  ہو یعنی آپ   اتنی کمائی پر قادر ہوں کہ جس سے آپ کا علاج اور کھانے پینے کا  بندوبست ممکن ہوتو اس صورت میں آپ کو والد صاحب کی ملکیت میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ۔

حوالہ جات

وفی الفتاوى الهندية: ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان.   ( الفتاوى الهندية: 1/ 563)

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:وحکم ولد الکبیر الزمن أو الانثیٰ مطلقاً کالصغیر لماسیأتی. (البحر الرائق: 4/194)                 

قال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ:والذکور إِما عاجزون عن الکسب لزمانۃ وعمی او شلل او ذھاب عقل فعلیہ نفقتہم). فتح القدیر:/4 217)

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:وإذا طلب الابن الكبير العاجز أو الأنثى أن يفرض له القاضي النفقة على الأب أجابه القاضي ويدفع ما فرض لهم إليهم؛ لأن ذلك حقهم ولهم ولاية الاستيفاء .

فعلى هذا لو قال الأب للولد الكبير أنا أطعمك ولا أدفع إليك شيئا لا يلتفت إليه، وكذا الحكم في نفقة كل محرم لكن لا يشترط يسار الأب لنفقة الولد الكبير العاجز؛ لأنه كالصغير كما في البدائع.  (البحر الرائق: 4/ 230)

الاحكام الشرعيةفي الاحوال الشخصية : (2103)فإن كان الولد غنياّ فنفقته في ماله سواء كان صغيراّ أو كبيراّ وسواءكا مذكراّ أو مؤنثاّ لأن نفقته، إنما وجبت علي ابيه للحاجة وبغناه اندفعت حاجته فلا تجب علي غيره. )الاحكام الشرعية: 2/993 (

سخی گل  بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

/18شوال المکرم ،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب