| 87293 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلہ کے بارے میں معلومات کرنی تھی، گاؤں میں میرے والد کی زمین تھی۔ ان کے انتقال کے بعد وہ زمین ہم بھائیوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ اس میں بہن کا بھی حصہ ہے۔ اب ہم اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ اس زمین میں بہن کے حصے کی جگہ کے بدلے، اگر ہم اسے رقم دے دیں، تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ مثال کے طور پر، ہمارے ساڑھے تین پلاٹ ہیں: تین پلاٹ ہمارے بھائیوں کے ہیں، اور آدھا پلاٹ ہماری ایک بہن کا بنتا ہے۔ تو اگر ہم اس کو اس پلاٹ کی جگہ پر اس کی قیمت کے برابر پیسے دے دیں، تو کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میت کے متروکہ مال وجائیداد میں ورثاء اپنے اپنے شرعی حصص کے بقدر مستحق ہوتے ہیں،اگر کوئی وارث ترکہ سے اپنا حصہ لینے کے بجائے حصے کی قیمت لینے پر راضی ہو ، تو بقیہ ورثاء اس کے حصے کی مالیت لگاکر اس کی قیمت ادا کرکے اس کا مالک بن سکتے ہیں ۔ لہذا صورت مسولہ میں اگر بہن اپنے حصے کی جگہ کے بدلے میں رقم لینے پر راضی ہے تو دوسرے ورثاء کیلے جائز ہے اس کو رقم ادا کرکے اس کے حصے کا بھی مالک بن جایے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 300):
)وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء وشجر وزرع مشترك قهستاني»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 300):
«والفرق أن الشركة إذا كانت بينهما من الابتداء، بأن اشتريا حنطة أو ورثاها.
كانت كل حبة مشتركة بينهما فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي، بخلاف ما إذا كانت بالخلط أو الاختلاط كان كل حبة مملوكة بجميع أجزائها ليس للآخر فيها شركة، فإذا باع نصيبه من غير الشريك لا يقدر على تسليمه إلا مخلوطا بنصيب الشريك فيتوقف على إذنه، بخلاف بيعه من الشريك للقدرة على التسليم والتسلم.
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
27 /شوال /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


