| 87349 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا کوئی ریاست یا قانون کسی شخص کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کا کوئی حصہ کسی مخصوص فرد کو گفٹ کرے، اگرچہ وہ ایسا نہ چاہتا ہو؟ آیا ایسا تحفہ (gift) شرعی لحاظ سے معتبر ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی عاقل اور بالغ شخص کے مال میں اس کی مرضی اور منشا کے بغیر تصرف کی شرعا کسی کو اجازت نہیں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ کسی شخص کا مال(استعمال میں لانا) اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہوتا،اس لئے شرعا یہ ہبہ معتبر نہیں ہوگا اور جائیداد کا یہ حصہ بدستور دادا کی ملکیت رہے گا،پوتوں کی ملکیت میں منتقل نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"سنن الدارقطني" (3/ 424):
"عن أنس بن مالك أن رسولﷲ صلى ﷲ عليه وسلم قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه»".
"الفتاوى الهندية "(4/ 403):
"قال لها وهي لا تعلم العربية: قولي: وهبت مهري منك، فقالت: وهبت، لا يصح بخلاف الطلاق والعتاق، ولهذا لو أكره على الهبة فوهب لا تصح، كذا في الوجيز للكردري".
"الفتاوى الهندية "(5/ 36):
"لو أكره على البيع وقبض الثمن طوعا كان إجازة؛ لأن القبض طائعا دليل الرضا وهو الشرط، بخلاف ما إذا أكره على الهبة دون التسليم وسلم، حيث لا يكون إجازة وإن سلم طوعا، وإن قبضه مكرها فليس ذلك بإجازة وعليه رد الثمن إن كان قائما في يده لفساد العقد بالإكراه".
"الفتاوى الهندية "(5/ 38):
"ولو أكره على هبة جاريته لعبدﷲ فوهبها لعبدﷲ وزيد، جازت الهبة في حصة زيد وبطلت في حصة عبد ﷲ، كذا في فتاوى قاضي خان".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
02/ذی قعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


