03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سرمایہ کاری کے لئے قرض لے کر متعین نفع دینے کاحکم
87318شرکت کے مسائلمعاصر کمپنیوں کے مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ہماری کمپنی میڈیکل کے شعبے سے متعلق مشینوں کا کاروبار کرتی ہے۔کمپنی کے پاس مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کی ڈیلر شپ ہے۔کمپنی مختلف حکومتی ٹینڈرز میں شرکت کرتی ہے۔ کسی ٹینڈر میں شرکت کرنے کے لیے طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے ایک متعین رقم (آرڈر کی کل مالیت کا ۱ یا ۲فیصد) بطور سیکیورٹی(Bid Security or Earnest Money) کے حکومتی ادارے کو جمع کروائی جاتی ہے۔اس رقم کا بینک کے ذریعے متعلقہ ادارے کے نام پے آرڈریا سی ڈی آر وغیرہ بنوایا جاتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ میں آرڈر ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ واپس مل جاتی ہے۔ اگر آرڈر مل جائے تو جتنی مالیت کا آرڈر ملا ہے اس کا ۵ فیصد پرفارمنس بانڈ کے طور پر جمع کروانے پر سیکیورٹی کی یہ رقم واپس مل جاتی ہے۔پرفارمنس بانڈ کا مقصد سپلائی کی جانے والی چیز کی صلاحیت کی سیکیورٹی ہے۔اس کی مدت زیادہ سے زیادہ ۵ سال ہوتی ہے۔ ۵ سال تک اگر سپلائی کی ہوئی چیز مثلاً مشین درست کام کرتی رہے تو یہ رقم بھی مکمل واپس مل جاتی ہے۔ سپلائی کیا جانے والا مال بعض دفعہ تو سٹاک میں موجود ہوتا ہے ۔ بعض دفعہ کچھ سامان موجود ہوتا ہے اور کچھ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ مکمل سامان امپورٹ کیا جاتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں ہماری کمپنی سامان کو خرید کر پھر حکومتی ادارے کو فروخت کرتی ہے جسے اصطلاح میں ایف او آر (یعنی سامان متعلقہ ادارے میں پہنچانا) کی بنیاد پر مال سپلائی کرنا کہا جاتا ہے۔

 بعض دفعہ حکومت ٹینڈر اس طرح کرتی ہے کہ آپ سیکیورٹی ادا کر کے ٹینڈر میں شرکت کریں ۔ ریٹ دیں۔ اگر آپ کوآرڈر مل گیا تو حکومتی ادارہ بیرون ملک میں موجود کمپنی سے بذات خود سامان منگوائے گا۔ اور اس مقصد کے لیے ادارہ متعلقہ بین الاقوامی ادارے کے نام خود ایل سی کھلوائے گا۔مال کو خود امپورٹ کرے گا اور کمپنی کو بذات خود ادائیگی کرے گا۔ اس اقدام سے مقصد ٹیکس کی چھوٹ سے فائدہ اٹھانا ہے۔اس طرح ٹینڈر کرنے کو سی اینڈ ایف وغیرہ کی بنیاد پر ٹینڈر کرنا کہتے ہیں۔ پاکستان میں موجود ڈیلر (ہماری کمپنی ) کا کام ایسے ٹینڈر کی سپلائی میں یہ ہوتا ہے کہ یہ مال کی انسپیکشن کرتی ہے اسے انسٹال کرتی ہے، ٹریننگ دیتی ہے اور وارنٹی کو کور کرتی ہے۔ ہماری کمپنی(ڈیلر) کا بین الاقوامی کمپنی ( پرنسپل) سے ایک ریٹ طے ہوتا ہے یا موقع پر مزید بھاؤ تاؤ کیا جاتا ہے۔اس طے شدہ ریٹ سے زائد رقم جہاز کا کرایہ اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ نکال کر ہمارا نفع شمار ہوتی ہے جو کمپنی رقم وصول ہونے پر ہمیں بھجوا دیتی ہے یا کسی طرح ایڈجسٹ کر لیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ: 1۔ ہم بعض دفعہ کسی ٹینڈر میں شرکت کے لیے سیکیورٹی کی مد میں کسی سے سرمایہ لیتے ہیں جس کی بنیاد پر ہماری کمپنی ٹینڈر میں شرکت کرتی ہے۔ آرڈر نہ ملے تو یہ رقم بعینہ بغیر کسی نفع کے سرمایہ کار کو واپس کر دی جاتی ہے اور آرڈر مل جائے تو اسے نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ 2۔ بعض دفعہ کسی سرمایہ کار سے یہ طے ہوتا ہے کہ آپ شرکت کے لیے سیکیورٹی بھی ادا کریں اور آرڈر ملنے پر ۵ فیصد پرفارمنس بانڈ کی رقم بھی ادا کریں ۔ پرفارمنس بانڈ بنواتے ہوئے پہلے ادا شدہ سیکیورٹی کی رقم واپس مل جاتی ہے۔ ایسے سرمایہ کار کے ساتھ بھی یہ طے کرتے ہیں کہ اگر آرڈر نہ ملا تو بغیر کسی نفع کے آپ کی سیکیورٹی کی رقم واپس مل جائے گی اور اگر آرڈر مل گیا تو پہلی صورت کے مقابلے میں زائد نفع کے تناسب کے ساتھ ہم سرمایہ کار کو نفع میں شریک کر لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ نفع کا تناسب شروع ہی سے طے کیا جاتا ہے۔ پرفارمنس بانڈ کی رقم چونکہ ہماری کمپنی کو ۵ سال بعد واپس ملتی ہے اس لیے ادارے سے رقم وصول ہونے پر ہم ۵ فیصد ادا کی ہوئی پرفارمنس بانڈ کی رقم سرمایہ کار کو واپس کر دیتے ہیں۔ گویا کہ سرمایہ کار کو اصل رقم اور نفع ۳ سے ۴ ماہ میں واپس مل جاتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ اگر یہ صورتیں درست نہیں تو درست متبادل صورت کیا ہے؟

 تنقیح :1۔سرمایہ کار سے سیکیورٹی کی رقم لینا:اگر آرڈر نہ ملا تو بعینہ رقم  واپس، اور آرڈر ملے   تو طے شدہ نفع  بھی دینا۔

2سرمایہ کار سے سیکیورٹی اور پرفارمنس بانڈ کی رقم لینا: آرڈر نہ ملنے پر بعینہ  رقم واپسی، آرڈر ملنے پراصل رقم   نفع کے ساتھ واپس کرنا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ  کمپنی  سے متعلقہ افراد جو  رقم کسی دوسرے فریق سے لیتے ہے، اگر دوسرا فریق صرف اس بات پر یہ رقم مہیا کرتا ہے کہ اس کو کاروبار سے کوئی لینا دینا نہیں ، صرف کمپنی کے ٹینڈر کی منظوری   پر نفع کا امیدوار ہے، یعنی بالفرض اگر کمپنی کو اد ا کی گئی رقم میں کسی طرح کا کوئی  نقصان ہو جاتا ہے  تو اس کے  باوجود  بھی کمپنی  سے متعلقہ افراد کو پابند کرتا ہے کہ اس کی ادا کی گئی رقم اسے مکمل واپس ادا کی جائے گی، تو یہ قرض کی صورت ہے، اور دوسرا فریق  قرض پر مشروط نفع حاصل کرتا ہے ، جو کہ سود کے زمرے میں آتا ہے، ایسا عقد شرعا درست نہیں۔

 اس معاملے کی درست متبادل  صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جتنی رقم آپ کو قرض چاہیے ،  فریق ثانی اس رقم کی کوئی چیز خرید کر آپ کو  ادہار پر بازار سےمہنگے داموں  فروخت کر دے، پھر آپ اس چیز کو  بازار  میں کسی تیسرے فریق کو اصل قیمت پر فروخت کے کے نقد رقم وصول کرلیں ، یاد رہے کہ یہ چیز واپس فریق ثانی کو بیچنا جائز نہیں۔

 مثلاً  فریق اول کو  دس لاکھ روپے  قرض چاہیے، فریق ثانی بازار سے دس لاکھ  مالیت کی گاڑی خرید کر آپ کو ادہار پر گیارہ لاکھ کی فروخت کر دیں ، فریق اول اس گاڑی کو دس لاکھ نقد قیمت پر فریق ثالث  کو فروخت  کر دے ، یوں فریق اول کے لئے نقد رقم کا بندوبست بھی ہو جائے گا اور فریق ثانی کو گاڑی فروخت کرنے  پر منافع بھی ہو جائے گا ۔

حوالہ جات

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (3/ 469):

(هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال)

هو فضل مال) ولو حكماً فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة كالبيع بشرط فإنهم جعلوها من الربا وهذا أولى من قول بعضهم المقصر تعريف الربا المتبادر عند الإطلاق وذلك إنما هو رد الفضل (بلا عوض) خرج به ما سيأتي في الصرف من أنه لو باعه كر بر وشعير بضعفهما جاز بصرف الجنس إلى خلاف جنسه فضل قفيزي شعير على قفيز بر فإنه بعوض (في معاوضة مال) خرج به الهبة.

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 166):

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(5/ 326):

ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

27/شوال  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب