03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیرت کے نام پر قتل کی شرعی حیثیت اورحدود
87442حدود و تعزیرات کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ مردوعورت کو ناجائز تعلقات کی بناء پر موقع پاکر قتل کردیتے ہیں،جس میں مختلف صورتیں ہوتی ہیں، جیسےبعض مردوعورت کی کال لیک ہوجاتی ہے، بعض مرتبہ ان کے ویڈیو یا مسیجز ملتے ہیں، بعض دفعہ اپنے گھر کےصحن ،اصطبل وغیرہ میں اجنبی مرد کو دیکھتے ہیں،بعض اوقات مردوعورت کی دواعی زنا میں پاتے ہیں، ان سب صورتوں میں بلا قید اذ ن حاکم ، بلا قید محصن وغیر محصن، بلا فرق زنا ودواعی زنا اور بلا شرط بینہ زنا مردووعورت دونوں کو موقع پاکر قتل کردیتے ہیں۔اب:

۱۔  سؤال یہ ہے کہ کیا  مذکورہ صورتوں میں کسی بھی صورت میں عند الاحناف یا کسی بھی مذہب میں شرعا اس قتل کی کوئی گنجائش ہے؟

ہمارےہاں بعض عوام وخواص کہتے ہیں کہ اگر قاتل زنا ودواعی کے ثبوت پر گواہ دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں گواہ لائے یا قاتل اس بد کاری  کے واقعہ اور ثبوت پر پکی قسم اٹھاسکے تو یہ قتل شرعا جائز ہے، اس میں قاتل پر قصاص یا دیت کچھ بھی لازم نہیں ہونگے، اس پر یہ حضرات درج ذیل  مقامات سے استدلال کرتے ہیں۔

۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات ،جیساکہ مسلم کی ایک روایت ہے کہ:

صحيح مسلم للنيسابوري - (ج 8 / ص 119):

 عن أنس أن رجلا كان يتهم بأم ولد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لعلى « اذهب فاضرب عنقه ». فأتاه على فإذا هو فى ركى يتبرد فيها فقال له على اخرج. فناوله يده فأخرجه فإذا هو مجبوب ليس له ذكر فكف على عنه ثم أتى النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال يا رسول الله إنه لمجبوب ما له ذكر.

۲۔بعض آثار صحابہ جیساکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اثر ہے کہ:

إرواء الغليل لمحمد الألباني - (ج 7 / ص 291):

روي عن عمر: أنه كان يوما يتغدى إذ جاء رجل يعدو وفي يده سيف ملطخ بالدم ووراءه قوم يعدون خلفه فجاء حتى جلس مع عمر فجاءالآخرون فقالوا: يا أمير المؤمنين إن هذا قتل صاحبنا فقال له عمرما تقول ؟ فقال: يا أمير المؤمنين إني ضربت فخذي امرأتي فإن كان بينهما أحد فقد قتلته فقال عمر: ما تقولون ؟ قالوا: يا أميرالمؤمنين إنه ضرب بالسيف فوقع في وسط الرجل وفخذي المرأة فأخذ عمر سيفه فهزه ثم دفعه إليه وقال: إن عاد فعد)( رواه سعيد)

۳۔علامہ ہندوانی کا قول ، علامہ شامی اور علامہ رافعی کی توجیہ  وتوسیع کے ساتھ حوالجات:

رد المحتار - (ج 15 / ص 209):

( ويكون ) التعزير ( بالقتل كمن ) وجد رجلا مع امرأة لا تحل له ، ولو أكرهها فلها قتله ودمه هدر ، وكذا الغلام وهبانية ( إن كان يعلم أنه لا ينزجر بصياح وضرب بما دون السلاح وإلا ) بأن علم أنه ينزجر بما ذكر ( لا ) يكون بالقتل ( وإن كانت المرأة مطاوعة قتلهما ) كذا عزاه الزيلعي للهندواني .

۴۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی کا اس مسئلہ سے متعلق رسالہ"الحکم الحقانی فی قتل الزانی" خصوصا اس کا الحاق وتتمہ۔

۵۔ عام بینہ اور قسم کے کافی ہونے میں علامہ رافعی کا فتاوی شامی میں اس مسئلہ کے تحت کلام۔

"قال الرافعی۔۔۔۔ قال الطرابلسی: لکن رایت العلامۃ ابا سعود نقل انہ یجوز قضاء ،لکن حیث تفحص الحاکم وظھر لہ ان المقتول متھم فی ذالک ویکتفی من القاتل بالیمین ۔۔۔ وافاد البزازی انہ  ان لم یکن معروفا بالشر والسرقۃ قتل القاتل قصاصا وان کان متھما بہ فکذلک قیاسا وفی الاستحسان الدیۃ فی مالہ لورثۃ المقتول۔۔۔ ثم رایت منسوبا للکبری انہ لا یحتاج الی البینۃ ھنا والیمین تقوم مقام البینۃ ولایفعل الا عند فوران الغضب اھ قال:ھذا اوسع"

حاصل استدلال: ان سب مقامات سے یہ ہے کہ یہ قتل حد نہیں ،بلکہ تعزیر ہے اور تعزیر غیر حاکم بھی جاری کرسکتا ہے، یا یہ قتل عن المنکر ہے، جو ہر مسلمان کرسکتا ہے، اس لیے کہ اس میں محصن وغیر محصن کا فرق نہیں ہے، زنا اور دواعی زنا میں فرق نہیں، نیز اس میں حدزنا والی بینہ بھی ضروری نہیں، اس لیےاگر یہ قاتل زنا یا دواعی زنا کے اثبات پر دو گواہ (دومرد یا ایک مرد دو عورتیں) لائے یا صرف قسم اٹھائے تو قصاص اور دیت سے بچ جائے گا۔

۲۔اب اس میں آپ حضرات سے دوسرا سؤال یہ ہے کہ کیا مذکورہ مقامات سے ان حضرات کا استدلال درست ہے؟ اگر نہیں  تو ان مقامات کا جواب اور درست توجیہ کیا ہوگی؟ اگر درست ہے تو اس مسئلہ پر صریح قرآنی آیات ،صحیح روایات اور جمہور امت کی مدلل رائے اور راجح موقف کا کیا جواب ہوگا؟

 برائے کرام مفصل اورمدلل جواب درکار ہے، جس میں اس مسئلہ کا صحیح اور راجح حکم بھی واضح ہو اور مذکورہ مستدلین کی آراء پر بھی مفصل اور مدلل تنقیدبھی ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فقہاء مذاہب اربعہ کےنزدیک قتل غیرت کی شرعی حیثیت کی تفصیل:

 جمہور (ائمہ اربعہ)کے نزدیک  قتل غیرت  دیانۃ جائز ہے،لیکن کےقاتل پر قضاء قصاص  لازم ہے،البتہ اس میں درج ذیل تفصیل ہے:

(۱) امام شافعی اورابوثور رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک اگر مقتول شادی شدہ ہواورزنا کےارتکاب کا قاتل کویقینی علم ہو تو اس کے لیے دیانۃ یہ قتل جائز ہے،لیکن قصاص سے بچنے کے لیےاثبات جرم(نفس زنا)پر چار گواہ  پیش کرنا ضروری ہوگا،ورنہ (اگرمقتول شادی شدہ نہ ہو،اگرچہ چار گواہ ہوں یا مقتول شادی شدہ تھا، لیکن چار گواہ نہ تھے یا دونوں باتیں نہ پائی جائیں یعنی نہ مقتول شادی شدہ ہو اور نہ ہی چار گواہ ہوں)توان تینوں صورتوں میں قضاء قاتل قصاصا قتل ہوگا۔

(۲)مالکیہ سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں:

۱۔امام ابن حبیب مالکی رحمہ اللہ تعالی کے مطابق مقتول کےشادی شدہ ہونے کی صورت میں چار گواہ پیش کرنے پر قاتل قصاص سے بچ جائے گا اور مقتول کے غیر شادی شدہ ہونے کی صورت  میں قاتل پر قصاص بہر صورت ہے، اگرچہ چار گواہ بھی پیش کرلے،یعنی اگرمقتول شادی شدہ نہ ہو،اگرچہ چار گواہ ہوں یا مقتول شادی شدہ تھا ،لیکن چار گواہ نہ تھے یا دونوں باتیں نہ پائی جائیں یعنی نہ مقتول شادی شدہ ہو اور نہ ہی چار گواہ ہوں)توان تینوں صورتوں میں قضاء قاتل قصاصا قتل ہوگا۔

۲۔جبکہ مالکیہ کی دوسری روایت ابن قاسم رحمہ اللہ تعالی سے ہے کہ اس بارے میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی تفریق کے بغیر جرم کےمشاہدہ پر مطلق بینہ(شرعی گواہی اگرچہ دو گواہ ہوں) کا فی ہے،جس سے قاتل قصاص سے بچ جائے گا،البتہ ابن قاسم رحمہ اللہ تعالی غیر محصن مقتول کی صورت میں استحباب دیت کے بھی قائل ہیں۔

 مذہب شافعی میں اور مالکی میں فرق یہ ہے کہ مذہب شافعی میں محصن اورغیرمحصن کے قتل میں فرق ہے جبکہ مذہب مالکی میں اس بارے میں دو روایتیں ہیں،نیز مذہب شافعی میں محصن کے قتل میں قصاص سے بچنے کے لیے چار گواہ پیش کرنا ضروری ہے جبکہ مذہب مالکی میں دو روایتیں ہیں۔امام ابن حبیب رحمہ اللہ تعالی کے مطابق چار گواہ جبکہ ابن قاسم رحمہ اللہ تعالی کے مطابق دو گواہ کافی ہیں۔تیسرا فرق یہ ہے کہ مذہب شافعی میں نفس زنا کی صورت میں یہ قتل دیانۃ جائز ہے، جبکہ مالکیہ کے نزدیک زنا کی تصریح نہیں ،لیکن امام ابن حبیب رحمہ اللہ تعالی کی روایت کی چار گواہ کی شرط سے نفس زنا پر گواہی معلوم ہوتی ہے ،جبکہ امام ابن قاسم رحمہ اللہ تعالی کی روایت میں رؤیت پر نفس بینہ سے دو گواہ کی شرط سے زنا کا شرط نہ ہونا بھی معلوم ہوتا ہے اور یہی معروف ہے،جیساکہ علامہ جزائری  رحمہ اللہ تعالی نے المذہب الاربعہ میں مذہب مالکی یہی لکھا ہے۔

 (۳) امام احمد اور امام اسحاق رحمہمااللہ تعالی کے نزدیک بیوی کے ساتھ غیر محرم کے پانےپر بینہ( شرعی گواہی) قائم ہونے پر قاتل قصاص سے بچ جائے گا،پھراس بارے میں اختلاف منقول ہے کہ بینہ سے کیا مراد ہے؟ایک روایت کے مطابق چار گواہ،جبکہ دوسری روایت کے مطابق دو گواہ اوریہی روایت مشہور اور راجح ہےاورامام احمد رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق  اس  حکم کےبارے میں مقتول کے شادی شدہ ہونے اور نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں،اسی طرح  مقتول کے اس جرم میں معروف ہونے اور نہ ہونے کی وجہ سے بھی فرق نہیں پڑتا(زاد المعاد)۔البتہ حنابلہ کے مطابق یہ متعلقہ شرائط کے ساتھ یہ قتل دیانۃ جائزہونے میں اختلاف اقوال  ہے۔(المبدع،زادالمعاد)بعض حنابلہ نے قتل کے جواز کو دفع بالاسہل کےممکن نہ ہونے کےساتھ بھی مشروط کیا ہے۔البتہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے امام احمد رحمہ اللہ تعالی سے اور احادیث کے ظاہر سے اس تفصیل کی نفی کی ہے۔بعض کتب حنابلہ میں اس قتل کےدیانۃوجوب کابھی قول منقول ہے۔کما فی (المبدع)

 ان تینوں مذاہب کی نصوص میں تصریح ہے کہ قتل کایہ حکم دیانۃ صرف زوجہ یا کسی محرم خاتون( بہن ،بیٹی) کے ساتھ یا بیٹے وغیرہ کے ساتھ بدفعلی کے ساتھ خاص ہے،لہذااجنبی یا اجنبیہ کے بارے میں ان کا کلام ساکت ہے،بلکہ مسئلہ کی تعلیل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ حکم اجنبیہ اور اجنبی کے لیے نہیں،چنانچہ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک علت اس حکم دیانت کی حرمت وحفاظت عرض وعزت بیان کی ہے۔کمافی کتب الحنابلہ، البتہ الحاوی میں علامہ ماوردی رحمہ اللہ تعالی نے مذہب شافعی میں یہ تفصیل لکھی ہے کہ بیوی اور محرمہ ومحرم کی صورت میں دفاع عزت کے پیش نظر قتل واجب ہے ،جبکہ اجنبیہ کے حق میں قتل جائز ہے، اس لیےکہ اجنبیہ کے حق میں دفاع عرض فرض کفایہ ہے ،جبکہ اپنوں کے حق میں دفاع فرض عین ہے۔نیز اسی الحاوی میں قتل کے جواز کے بارے میں مزید یہ تفصیل شامل کی ہے کہ اگر زنا کا عمل شروع نہیں ہوا تو قتل کے بغیر دفع ممکن ہو تو قتل جائز نہیں ،البتہ اگر زنا شروع کرچکا ہے تو فوری قتل جائز ہے۔

المبدع شرح المقنع لابن مفلح المقدسي - (ج 9 / ص 159):

فرع: ادعى زنى محصن بشاهدين، نقلهابن منصور، ونقل أبو طالب: بأربعة، قيل، وإلا ففيه باطنا وجهان. وقيل: وظاهرا، لكن كلام أحمدوغيره: لا فرق بين كونه محصنا أو لا، روي عن عمرو علي، وصرح به الشيخ تقي الدين، لأنه ليس بحد، وإنما هو عقوبة على فعله، وإلا لا عتبرت شروط الحد، وقال الشافعي: له قتله فيما بينه وبين الله تعالى، إذا كان الزاني محصنا، وللمالكية قولان في اعتبار إحصانه.

الفقه على المذاهب الأربعة - (ج 5 / ص 34):

مبحث من قتل الرجل الذي زنى بامرأته:

وكثيرا ما نرى الناس يقتل بعضهم بعضا من جراء الزنى ولذلك نجد القوانين في كل الشرائع قد رفعت القصاص عن قاتل الزاني بامرأته لأنها ترى أن هذه الخيانة تستوجب قتل مرتكبها  

 ( 1 ) اختلف العلماء في حكم من وجد مع امرأة رجلا وتحقق وجود الفاحشة منهما . فقتله هل يقتل ام لا ؟

 الجمهور - قالوا : لا يصح ان يقدم الرجل على قتل رجل وجده عند زوجته وتحقق من ارتكابه الفاحشة لما روى البخاري عن ابي هريرة رضي الله عنه : ( ان سعد بن عبادة رضي الله عنه قال : يارسول الله أرأيت ان وجدت مع امرأتي رجلا أمهله حتى آتي بأربعة شهداء ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نعم فإن قتله يقتص منه إلا أن يأتي ببينة على ارتكابه جريمة الزنا وهومحصن أو يعترف المقتول بذلك أما اذا قتلهما أو أحدهما ولم يستطع ان يأتي بالبينة وإحضار الشهداء على الزنا او الإعتراف . فإنه يطالب بالقود والقصاص أو الدية لأنه يجوز لرجل أن يدعو رجلا آخر لدخول بيته لعمل شيء ثم يقتله لضغن في نفسه ويقول : وجدته مع امرأتي كذبا  ويجوز ان يقتل الرجل زوجته ليتخلص منها لشيء في نفسه ثم يدعي عليها زورا أنه وجد معها رجلا يزني بها لذلك احتاط الشارع في هذا حفظا للأرواح بأنه يجب على القاتل إقامة البينة على دعواه فإن استطاع إقامة البينة فلا شيء عليه )

 وذهب بعض السلف : إلى انه لا يقتل أصلا ويعذر فيما فعله إذا ظهرت أمارات صدقه بكشف الطبيب الصادق عليهما أو وجود شبهات سابقة على سوء سلوك الزوجة أو اشتهار المقتول بالزنا أو غير ذلك

 الحنابلة والمالكية - : قالوا : إن أتى بشاهدين إلى انه قتله بسبب الزنا وكان المقتول محصنا فلا شيء عليه

 الهادوية - قالوا : يجوز للرجل أن يقتل من وجده مع زوجنه . أو أمته أو ولده حال الفعل ولا شيء عليه وأما بعد انتهاء الفعل فيأتي ببينة أو يقتص منه إن كان بكرا

 الشافعية - قالوا : إذا وجد الرجل مع امرأته رجلا فادعى أنه نال منها ما يوجب الحد وهما ثيبان فقتلهما . أو أحدهما ولم يأت بالبينة كان عليه القود أيهما قتل إلا أن يشاء أولياء الدم أخذ الدية أو العفو

 ولو ادعى على أولياء المقتول منهما أنهم علموه قد نال منها ما يوجب عليه القتل إن كان الرجل أو ميلا من المرأة إن كانت المرأة المقتولة اكن على أيهما ادعى ذلك عليه أن يحلف أنه ما علم

 وهكذا لو وجد رجلا يتلوط بابنه أو يزني بجاريته لا يختلف الحكم . ولا يسقط عنه القود والقتل إلا إذا أتى ببينة على الفعل

 ولو أن رجلا وجد مع امرأته رجلا ينال منها ما يوجب حد الزاني فقتلهما والرجل محصن والمرأة غير محصنة بأن كانت غير مسلمة أو أن العقد بغير شهود فلا شيء في الرجل وعليه القود في المرأة وإذا كان الرجل غير محصن والمرأة محصنة كان عليه القود في الرجل ولا شيء عليه في المرأة إذا استطاع أن يأتي بالبينة على ارتكابهما الزنا

 فقد روي عن ابن المسيب أن رجلا بالشام وجد مع امرأته رجلا فقتله وقتلها فكتب معاوية إلى أبي موسى الأشعري بأن يسأل له عن ذلك عليا رضي الله عنه فسأله فقال علي كرم الله وجهه : ( أنا أبو الحسن إن لم يأت بأربعة شهداء فليعط برمته ) . أي يقتل

 وروي عن سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه أنه أهدر دم المقتول وقال : هذا قتيل الله والله لا يودى أبدا

 وهذا الذي صدر عن سيدنا عمر لأن البينة قامت عنده على أن المقتول ارتكب الزنى وهو محصن أو على أن ولي المقتول أقر عنده بما وجب به أن يقتل المقتول  وقد قال : إن كان القاتل معروفا بالقتل فاقتلوه وإن كان غير معروف بالقتل فذروه ولا تقتلوه

(۴) لیکن احناف کے ہاں دیگر مذاہب کی بنسبت اس بارے میں قدرے تفصیل ہے ،  جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عین موقع پر عدم انزجار بمادون السلاح کی شرط کے ساتھ قتل کرنے کی صورت میں قصاص سے بچنے کے لیےنفس بینہ(دوگواہ) کافی ہیں،جبکہ عین حالت مباشرت  نہ ہو یا کسی اور طریقہ سے باز آنے کا ظن غالب تھا توقصاص سےبچنےکےلیےمقتول کے محصن(شادی شدہ) ہونے کی صورت میں چار گواہ پیش کرنا ضروری ہے،ورنہ قاتل بہر صورت قصاصا قتل ہوگا،نیز دیگر مذاہب میں یہ حکم صرف بیوی یا محرم خاتون یا بیٹے ،بیٹی کے ساتھ خاص ائمہ مذہب سےمنقول ہے ،جبکہ احناف میں اس بارے میں تخصیص زوجہ ومحرمہ یا بیٹا وبیٹی اور عدم تخصیص دونوں قسم کی روایات موجود ہیں،نیز عین موقع پر قتل اور بعد میں قتل کے بارے میں بھی فرق ہے۔نیزاحناف کے مطابق اس دیانۃ قتل کی علت امر بالمعروف یا نہی عن المنکر ہے،لہذا اصل حکم تو عین موقع پر جواز قتل دیانۃ ہے ، جبکہ حکومت اگر اپنی ذمہ داری پوری نہ کررہی ہو تو ایسی صورت میں بعض فقہی جزئیات  کی روشنی میں بعد از حالت مباشرت اورباوجود امکان انزجار بماوون السلاح کے  نفس قتل  دیانۃجائز(صرف اخروی لحاظ سےناقابل مؤاخذہ) ہوگا۔(الحکم الحقانی)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 10 / ص 98):

وسئل الفقيه أبو جعفر: عن رجل وجد رجلا مع امرأته أيحل له قتله؟ قال: إن كان يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح أو بالضرب بما دون السلاح، فإنه لا يقتله، ولا يقاتل معه بالسلاح، وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل والمقاتلة معه بالسلاح؛ حل له القتل، فكأنه إنما أخذ هذا من قول محمد رحمه الله، فإن محمدا رحمه الله أمره بالتحري مرة أخرى بعدما تحقق الشر بالتحري ليعلم أنه هل ينزجر بما دون القتل، أو لا ينزجر،

فتح القدير - (ج 12 / ص 156):

وسئل أبو جعفر الهندواني عمن وجد رجلا مع امرأة أيحل له قتله ؟ قال : إن كان يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح والضرب بما دون السلاح لا يقتله .

وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل حل له قتله ، وإن طاوعته المرأة يحل قتلها أيضا .

وهذا تنصيص على أن الضرب تعزير يملكه الإنسان وإن لم يكن محتسبا ، وصرح في المنتقى بذلك ، وهذا لأنه من باب إزالة المنكر باليد .

والشارع ولى كل أحد ذلك حيث قال { من رأى منكم منكرا فليغيره بيده ، فإن لم يستطع فبلسانه } الحديث .

وحاشیۃ الشلبی علی فتح القدیر:ج5/ص112):

  ثم وجدت فی المنتقی عن ابی یوسف کذالک لکن وضعھا وجد رجلا مع امراتہ او مع محرم لہ او مع جاریتہ وفی نوادر ابن سماعۃ عن محمد رای محصنا یزنی جاز لہ ان یرمیہ ویقتلہ وفی جامع قاضیخان فخر الدین فی باب  من الشھادۃ فی الحدود ان الاصل فی کل شخص اذا رای مسلما یزنی ان یحل لہ قتلہ وانما امتنع خوفا من ان یقتلہ   ولا یصدق فی قولہ انہ یزنی۔

الفتاوى الهندية - (ج 42 / ص 421):

وسئل الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - عن رجل وجد رجلا مع امرأته أيحل له قتله ؟ .

قال : إن كان يعلم أنه ينزجر عن الزنا بالصياح أو بالضرب بما دون السلاح فإنه لا يقتله ، ولا يقاتل معه بالسلاح ، وإن علم أنه لا ينزجر إلا بالقتل والمقاتلة معه بالسلاح حل له القتل ، كذا في في الذخيرة .

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 11 / ص 110):

قال في التبيين: وسئل الهندواني عن رجل وجد رجلا مع امرأة أيحل له قتله؟ قال: إن كان يعلم أنه ينزجر بالصياح والضرب بما دون السلاح لا، وإن كان يعلم أنه لا ينزجر إلا بالقتل حل له القتل، وإن طاوعته المرأة حل له قتلها أيضا. وفي المنية: رأى رجلا مع امرأته وهو يزني بها أو مع محرمه وهما مطاوعتان قتل الرجل والمرأة جميعا اه‍. فقد أفاد الفرق بين الاجنبية والزوجة والمحرم ففي الاجنبية لا يحل القتل إلا بالشرط المذكور من عدم الانزجار بالصياح والضرب، وفي غيرها يحل مطلقا. وفي المجتبى: الاصل في كل شخص إذا رأى مسلما يزني أن يحل له قتله وإنما يمتنع خوفا أن يقتله ولا يصدق في أنه زنى. وعلى هذا القياس المكابرة بالظلم وقطاع الطريق وصاحب المكس وجميع الظلمة بأدنى شئ له قيمة وجميع الكبائر والاعونة والظلمة والسعاة فيباح قتل الكل ويثاب قاتلهم اه‍. ولم يذكر المصنف من يقيمه قالوا: لكل مسلم إقامته حال مباشرة المعصية، وأما بعد الفراغ منها فليس ذلك لغير الحاكم. قال في القنية: رأى غيره على فاحشة موجبة للتعزير فعزره بغير إذن المحتسب فللمحتسب أن يعزر المعزز إن عزره بعد الفراغ منها. قال رضي الله عنه: قوله إن عزره بعد الفراغ منها فيها إشارة إلى أنه لو عزره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك وأنه حسن لان ذلك نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به، وبعد الفراغ ليس بنهي عن المنكر لان النهي عما مضى لا يتصور فيتمحض تعزيرا وذلك إلى الامام ا ه‍. وذكر قبله من عليه التعزير إذا قال لرجل أقم على التعزير ففعل ثم رفع إلى القاضي فإن القاضي يحتسب بذلك التعزير الذي أقامه بنفسه ا ه‍. وفي المجتبى: فأما إقامة التعزير فقيل لصاحب الحق كالقصاص، وقيل للامام لان صاحب الحق قد يسرف فيه غلظا بخلاف القصاص لانه مقدر بخلاف التعزير الواجب حقا لله تعالى حيث يتولى إقامته كل أحد بحكم النيابة عن الله تعالى اه‍. وفي القنية: ضرب غيره بغير حق وضربه المضروب أيضا أنهما يعزران بإقامة التعزير بالبادي منهما لانه أظلم والوجوب عليه أسبق اه‍.

دیانۃ جواز قتل غیرت کا فقہی مفہوم:

واضح رہے کہ  دیانۃ قتل کے جواز کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا قتل کرچکا ہے تو اس بارے میں متعلقہ کوائف اور شرائط کی تکمیل کی صورت میں وہ قتل ناحق کے گناہ کا مرتکب نہ ہوگا، لیکن یہ مطلب نہیں کہ قصاص یا دیت سے بچنے کے لیے وہ قانونی تقاضے بھی پورے کرنے سے بھی مکمل آزاد ہے یا اس قتل کے جواز کی قانونی یا شرعی حوصلہ افزائی کی جائے یا لوگوں کو اس کی فتوی کی روسے اجازت دی جائے، یہ مطلب ہرگز نہیں اور نہ ہی اس کی فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی کے کلام سےثبوت یا تایید ہوتی ہے،بلکہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی کی عبارات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ غیرت کے نام پرجائز قتل کرنے کی صورت میں  بھی ریاست کو قانونی تقاضے پورے کرنے کا مکمل اختیار ہے، یعنی  قاتل جواز قتل کی بنیادی شرطوں یعنی عین حالت مباشرت اور قتل کے بغیر کسی اور طریقے سے باز نہ آنے کا یقین یاظن غالب کے اثبات پرشرعی گواہی یا اس  کے متبادل ثبوت(مثلاجانچ شدہ ویڈیوریکارڈ) پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ لہذا اگراثبات جرم پر گواہی نہ ہواورعند البعض  دیگر ذرائع سےریاست اس کے اس اقدام کے جواز سے مطمئن نہ ہو تو وہ قاتل کو قصاصا قتل کرسکتی ہے۔

دیانۃ اور مشروط جواز قتل غیرت کےشرعی دلائل:

باقی قتل غیرت کے دیانت کے درجہ میں جائز ہونے کی  شرعی دلیل صحیح بخاری ، صحیح مسلم شریف ،موطا مالک اورسنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق کی روایات ہیں جن سے دیانۃ اجازت اور قضاء ممانعت پر اہل علم نے استدلال فرمایاہے،چنانچہ اس بارے میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی  لعان کے بارے میں مشہورروایت کے بعض طرق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےارشاد" اتعجبون من غیرۃ سعد؟ "اوربعض میں "کفی بالسیف شاھدا "فرمانےسے اس قتل کے دیانۃ جواز پراوراسی روایت کےبعض طرق میں اس کے بعد"لا،انی اخاف ان یتتابع فی ذالک السکران والغیران "اوربعض دیگر میں" یابی اللہ الا بالبینۃ"فرمانےسے،نیز اس جیسی دیگر روایات اور آثار میں ما من امر الابالبینۃ اور ان لم یجئ باربعۃ شہداء فلیدفع برامتہ سے قضاء عدم جواز پر استدلال کیا گیاہے۔(تکملۃ فتح المہلم(ج۱،ص۲۵۷)وغیرہ)چنانچہ متعدد آثار میں مادون الزناجرم( دواعی زنا یاصرف  قابل اعتراض خلوت ) ثابت ہونے کی صورت میں ایسے مجرم کوقضاءسو کوڑےمارنا بطور تعزیر ثابت ہے(اعلاء السنن:ج۱۱،ص۶۹۲)اورجن روایات سے اس قتل کامطلقا جواز معلوم ہوتا ہےوہ تمام روایات بصورت صحت نقل وثبوت اقامت بالبینہ کے ساتھ مقیدومؤول ہیں۔

فقہاء احناف کرام رحمہم اللہ تعالی کی ذکر کردہ صورتیں:

۱۔ اپنی بیوی کے ساتھ کسی  نامحرم مرد کو دیکھنا۔

۲۔ کسی اجنبی یا نامحرم عورت کے ساتھ کسی نامحرم مرد کو دیکھنا۔

۳۔ کسی محرم عورت کے ساتھ کسی اجنبی یا نامحرم مرد کو دیکھنا۔

۴۔ کسی  امردلڑکے نے کسی مرد کو اپنے ساتھ بدکاری کے ارادے میں دیکھا یا کسی نے کسی مرد کو امرد  لڑکےکے ساتھ بدکاری میں مبتلا دیکھا۔

پھر چاروں میں سے ہر ایک کی تین حالتیں ہیں:

 ۱۔عین حالت زنا(بد کاری)یابدفعلی دیکھنا۲۔بحالت دواعی زنا ومقدمات بدفعلی دیکھنا۳۔ صرف(قابل اعتراض) حالت خلوت میں دیکھنا۔(چار کو تین سے ضرب دینے سے بارہ صورتیں حاصل ہوئیں۔)

اور یہ تینوں حالتیں دو حال سے خالی نہیں یا تو عورت یامفعول  کی رضا مندی شامل ہوگی یا جبری ہوگا۔یہ کل چوبیس صورتیں ہوگئیں۔(بارہ کودو سےضرب دینےسےچوبیس صورتیں حاصل ہوئیں۔)

 فقہاء کرام کی بیان کردہ تفصیل کا حاصل:

اس کے بعد اس بارے میں اولا  روایات ائمہ وعبارات متون  وشروح میں اور ثانیا ان کی بنیاد پراقوال فقہاء کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے،اس بارے میں توجمہور کا اتفاق ہے کہ قتل کی اجازت مشروط ہے، البتہ اختلاف اقوال اس بارے میں یہ ہے کہ جواز قتل کی شرائط کیا ہیں؟لہذا پہلے شرائط کو ذکر کیا جاتا ہے، جن میں بعض شرائط اتفاقی اور بعض شرائط مختلف فیہ ہیں،نیز بعض شرائط تمام صورتوں کے لیے ہیں، جبکہ بعض شرائط خاص صورتوں کے لیے ہیں،جس کا حاصل درج ذیل ہے:

اتفاقی شرط:

براہ راست مشاہدہ ہونا۔

اختلافی شرائط:

۱۔ بدون جارحانہ کاراوائی سے کم درجہ کی مار اور صرف شور اور ڈانٹ وغیرہ سے باز نہ آنا۔(عامۃ الفقہاء)۲۔حالت مباشرت۔(عامۃ الفقہاء)۳۔احصان( شادی شدہ ہونا)(اضافی شرط ازخانیہ)۴۔ صرف زنا اور دواعی زنا  کا ارتکاب ہونا(حاصل تطبیق ازعلامہ شامی رحمہ اللہ تعالی)

 اختلاف اقوال فقہاء احناف کرام رحمہم اللہ تعالی:

۱۔پہلا قول یہ ہے کہ  مذکورہ چار صورتوں کی تینوں حالتوں میں اگرقتل کے علاوہ کسی اور کم درجہ کی سزا یا شور وغیرہ سےرکنے کی امیدنہ ہو اور اور عین حالت مباشرت معصیت یامحض خلوت ہو اور فاعل ومفعول دونوں راضی ہوں تو دونوں کو ورنہ فاعل راضی کو قتل کرنا جائز ہے۔(زیلعی ازھندوانی )

رد المحتار - (ج 15 / ص 209):

( ويكون ) التعزير ( بالقتل كمن ) وجد رجلا مع امرأة لا تحل له ، ولو أكرهها فلها قتله ودمه هدر ، وكذا الغلام وهبانية ( إن كان يعلم أنه لا ينزجر بصياح وضرب بما دون السلاح وإلا ) بأن علم أنه ينزجر بما ذكر ( لا ) يكون بالقتل ( وإن كانت المرأة مطاوعة قتلهما ) كذا عزاه الزيلعي للهندواني .

رد المحتار - (ج 15 / ص 212):

( قوله مع امرأة ) ظاهره أن المراد الخلوة بها وإن لم ير منه فعلا قبيحا كما يدل عليه ما يأتي عن منية المفتي كما تعرفه فافهم ( قوله فلها قتله ) أي إن لم يمكنها التخلص منه بصياح أو ضرب وإلا لم تكن مكرهة فالشرط الآتي معتبر هنا أيضا كما هو ظاهر .

ثم رأيته في كراهية شرح الوهبانية ، ونصه : ولو استكره رجل امرأة لها قتله وكذا الغلام ، فإن قتله فدمه هدر إذا لم يستطع منعه إلا بالقتل ا هـ فافهم

۲۔دوسرا قول یہ ہے کہ بیوی اورمحرم خاتون کےساتھ غیرمرد کودیکھنے کی صورت میں عدم انزجار بمادون السلاح شرط نہیں،بلکہ مطلقاقتل جائز ہے،جبکہ اجنبیہ کے ساتھ غیر مرد کو دیکھے تو عدم انزجار بمادون السلاح جواز قتل کی شرط ہے۔(ابن نجیم،البحر الرائق،صاحب درمختار)البتہ مفعول یا موطوءۃ کی رضامندی اس کےقتل کے جواز کے لیے دونوں صورتوں میں شرط ہے۔

رد المحتار - (ج 15 / ص 214)

ثم قال ( و ) في منية المفتي ( لو كان مع امرأته وهو يزني بها أو مع محرمه وهما مطاوعان قتلهما جميعا ) ا هـ وأقره في الدرر .

وقال في البحر : ومفاده الفرق بين الأجنبية والزوجة والمحرم ، فمع الأجنبية لا يحل القتل إلا بالشرط المذكور من عدم الانزجار المزبور ، وفي غيرها يحل ( مطلقا ) ا هـ .

ورده في النهر بما في البزازية وغيرها من التسوية بين الأجنبية وغيرها ، ويدل عليه تنكير الهندواني للمرأة ؛ نعم ما في المنية مطلق فيحمل على المقيد ليتفق كلامهم ، ولذا جزم في الوهبانية بالشرط المذكور مطلقا وهو الحق بلا شرط إحصان لأنه ليس من الحد بل من الأمر بالمعروف .

 ( قوله ومفاده إلخ ) توفيق بين العبارتين حيث اشترط في الأولى العلم بأنه لا ينزجر بغير القتل ولم يشترط في الثانية ، فوفق بحمل الأولى على الأجنبية والثانية على غيرها وهذا بناء على أن المراد بقوله في الأولى مع امرأة : أي يزني بها ويأتي الكلام عليه ( قوله مطلقا ) زاده المصنف على عبارة المنية متابعة لشيخه صاحب البحر( قوله بما في البزازية وغيرها ) أي كالخانية ، ففيها : لو رأى رجلا يزني بامرأته أو امرأة آخر وهو محصن فصاح به فلم يهرب ولم يمتنع عن الزنا حل له قتله ولا قصاص عليه .ا هـ .

( قوله فيحمل على المقيد ) أي يحمل قول المنية قتلهما جميعا على ما إذا علم عدم الانزجار بصياح أو ضرب .

۳۔تیسرا قول یہ ہے کہ  چاروں صورتوں کی پہلی اوردوسری حالت( مباشرت زنا  وبدفعلی یااس کے دواعی)میں مطلقا( بلا فرق مفعول وعورت)قتل جائز ہے اورتیسری حالت یعنی صرف  قابل اعتراض خلوت میں عدم انزجار بمادون السلاح کی شرط کے ساتھ قتل جائز ہے۔(شامیہ ابن عابدین)لیکن اصولی طور پر یہاں بھی قتل مفعول یا عورت کے لیے رضا کی شرط ہوگی۔

رد المحتار - (ج 15 / ص 215)

قلت : وقد ظهر لي في التوفيق وجه آخر ، وهو أن الشرط المذكور إنما هو فيما إذا وجد رجلا مع امرأة لا تحل له قبل أن يزني بها فهذا لا يحل قتله إذا علم أنه ينزجر بغير القتل سواء كانت أجنبية عن الواجد أو زوجة له أو محرما منه .

أما إذا وجده يزني بها فله قتله مطلقا ، ولذا قيد في المنية بقوله وهو يزني ، وأطلق قوله قتلهما جميعا ، وعليه فقول الخانية الذي قدمناه آنفا فصاح به غير قيد ، ويدل عليه أيضا عبارة المجتبى الآتية ثم رأيت في جنايات الحاوي الزاهدي ما يؤيده أيضا ، حيث قال : رجل رأى رجلا مع امرأته يزني بها أو يقبلها أو يضمها إلى نفسه وهي مطاوعة فقتله أو قتلهما لا ضمان عليه ، ولا يحرم من ميراثها إن أثبته بالبينة أو بالإقرار ، ولو رأى رجلا مع امرأته في مفازة خالية أو رآه مع محارمه هكذا ولم ير منه الزنا ودواعيه قال بعض المشايخ حل قتلهما .وقال بعضهم : لا يحل حتى يرى منه العمل : أي الزنا ودواعيه ، ومثله في خزانة الفتاوى .ا هـ .وفي سرقة البزازية : لو رأى في منزله رجلا معه أهله أو جاره يفجر وخاف إن أخذه أن يقهره فهو في سعة من قتله ، ولو كانت مطاوعة له قتلهما فهذا صريح في أن الفرق من حيث رؤية الزنا وعدمها تأمل

۵۔ چوتھا قول یہ ہے کہ چاروں صورتوں کی پہلی حالت میں عین مباشرت زنااورعدم انزجار بمادون السلاح  اور احصان کی شرط کے ساتھ قتل جائز ہے،ورنہ نہیں۔( قاضی خان، فتاوی خانیہ)

رد المحتار - (ج 15 / ص 215)

( قوله بما في البزازية وغيرها ) أي كالخانية ، ففيها : لو رأى رجلا يزني بامرأته أو امرأة آخر وهو محصن فصاح به فلم يهرب ولم يمتنع عن الزنا حل له قتله ولا قصاص عليه .ا هـ .

۶۔پانچواں قول یہ ہے کہ جب فقہائے کرام کی ذکر کردہ( چاروں) صورتوں کی تینوں حالتوں میں سے کسی بھی صورت وحالت کا براہ راست مشاہدہ ہو اور عورت یا مفعول کی رضامندی بھی شامل ہو تو دیکھنے والے کے لیےدونوں کوقتل کرنا جائز ہے، ورنہ صرف فاعل مرد کو قتل کرنا جائز ہے،خواہ قتل کے علاوہ کسی اور کم درجہ کی سزا یا شور وغیرہ سےرکنے کی امید ہو یا نہ ہو، اسی طرح حالت عین مباشرت  میں قتل ہویا بعد میں، اسی طرح  زانی محصن ہو یا کہ غیر محصن۔

حاصل اس قول کایہ ہے کہ  حالت مباشرت میں پانا اورمقتول کا قتل کےعلاوہ کسی اورسزاسے باز نہ آنے کاظن

غالب کی شرطیں قاتل کےنزدیک جرم کےتحقق کےبعدنفس جواز قتل کےلیے شرط نہیں،بلکہ  قضاءقصاص سےبچنے کےلیےان شرائط کے تحقق پر اقامت بینہ شرط ہیں۔لہذا یہ کوئی مستقل قول نہیں،بلکہ فقہاء کرام کےسابقہ کلام کی صحیح تفہیم وتطبیق ہے۔(الحکم الحقانی مندرج احسن الفتاوی ازمفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی)

 سؤال میں ذکر کردہ اور ان سے ملتی جلتی صورتیں اوران کاحکم:

۱۔ ٹیلی فون یا موبائل فون کے ذریعہ کال لیک ہونا۔

۲۔خلوت میں ملاقات یا قابل اعتراض حالت یا دواعی زنا یا زنا کی ویڈیوز کی دستیابی۔

۳۔خطوط یا فون میسجز یا ایمیل کے نوٹس ملنا۔

۴۔ گھر کے صحن میں غیر مرد کو پانا۔

۵۔اصطبل وغیرہ میں غیر مرد کو پانا۔

۶۔بند کمرے میں موجودگی کا علم ہونا۔

۷۔بالواسطہ اجنبی مرد اور خاتون میں ناجائز تعلقات،قابل اعتراض حالت، زنا ودواعی زنا میں ملوث ہونے یا خلوت کی ملاقات  کا علم ہونا۔

۸۔گاڑی میں اجنبی مردکے ساتھ تنہا سفر کرتے پانا یا دیکھنا یا اس کی خبرہونا۔

۹۔عوامی تفریحاتی مقامات یا بازار یا ہوٹل وغیرہ پر غیر مرد کے ساتھ گھومتے یا بیٹھے دیکھنا۔

۱۰۔زنا یا دواعی زنا میں یا خلوت کی ملاقات میں مرتکب پانا۔

 اقوال فقہاء  احناف رحمہم اللہ تعالی کا حاصل:

بنیادی اوراصولی لحاظ سےقتل کےجوازوعدم جواز کےبارے میں تین صورتیں بنتی ہیں:۱۔ بالاتفاق جائز ۲۔ بالاتفاق ناجائز ۳۔ مختلف فیہ

 ۱۔( پہلی صورت:بالاتفاق ناجائز )مذکورہ صورتوں میں سے جن صورتوں میں بنیادی شرط ہی نہیں پائی گئی ،یعنی بالواسطہ معلومات حاصل ہوئی، مثلا پہلی سات صورتیں تو ان میں تو بالاتفاق مطلقا(قضاء ودیانۃ) قتل جائز نہیں، لہذااگر کوئی ایسےقتل کامرتکب ہوتووہ اصولی طورپرقاتل ناحق کامرتکب قرارپائے گا،لہذا اس کو بلا شبہ قصاصا قتل کیا جائے گااور اس بارے میں کسی قسم کی دلیل اور ثبوت قصاص سے خلاصی کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔

۲۔(دوسری صورت:بالاتفاق جائز)جن صورتوں میں بالاتفاق جملہ شرطیں پائی جائیں:مثلا آخری صورت میں اگر عورت کی رضامندی کے ساتھ مرد میں عدم انزجار بمادون السلاح   اور عین حالت مباشرت ہو اور صفت احصان بھی پایا جائےیا کم از کم بنیادی دو  متفق علیہ شرطیں( براہ راست دیکھنا اور قتل کے علاوہ کسی اور تدبیر سے بازنہ آنے کا ظن غالب)تو ایسی صورت میں قتل فی نفسہ جائز ہے، اگرچہ اس کاجواز راجح قول کے مطابق دیانۃ ہے۔لیکن  بصورت قتل قاتل حاکم کے سامنے بینہ یادیگرقطعی شواہد وثبوت سے جملہ شرائط کی تکمیل ثابت نہ کرنے کی صورت میں قصاصا قتل ہوگا،لہذا شرعی گواہ یادیگرقطعی شواہد وثبوت پیش کرنے پراسے قتل قصاص سے خلاصی مل سکتی ہے،ورنہ  قضاءقتل کیا جاسکتا ہے، البتہ عدالت مقتول کےاس برائی میں مشہورومعروف ہونے کی صورت میں مطلقا اور متہم ہونے کی صورت میں عند البعض  حلف ویمین کی شرط پرقاتل کو معاف بھی کرسکتی ہے۔

(تقریرات رافعی)

۳۔ (تیسری صورت: مختلف فیہ)اگر بعض کے نزدیک شرائط مکمل ہوں اور بعض کے مطابق شرائط قتل مکمل نہ ہوں تو ایسی صورت میں صحیح یہی ہے کہ قضاء ودیانۃقتل جائز نہیں،البتہ اگر کوئی اقدام قتل کر لےتویہ قتل اگرچہ دینۃ نا جائزہے ،لیکن اختلاف فقہاء کے باعث یہ قتل بھی  اثبات جرم بالشواہد کی صورت میں صرف مسقط قصاص ہوگا۔لہذا دیت لی جائے گی۔(احسن الفتاوی)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ  بدکاری کے جرم کے نتیجہ میں کسی مرد یا اس کے ساتھ عورت کو بھی قتل کرنے کی  اجازت بعض فقہاء کرام نے مشروط انداز میں دی ہے(عینی) اور ان شرائط میں ان میں شدیداختلاف بھی ہے،نیز قتل کی اجازت بھی دیانۃ دی گئی ہےنہ کہ قضاء(شامیہ) یعنی قانونی طور پر ایسا قاتل اگرچہ متعلقہ کیس میں جواز قتل کی تمام شرائط کی تکمیل کرچکا ہو تب بھی وہ عدالت میں قصاص سے بچنے کےلیےمقتول پر اثبات جرم کےلیےشواہد پیش کرنے کاپابند ہوگا۔

واضح رہے کہ دوسری صورت جس میں قتل غیرت کا دیانۃ جواز متفق علیہ ہے ، عدالت میں مقتول کے جرم کو شواہد سے ثابت کرنے کی صورت میں   قاتل کوسزا بالخصوص  قتل کی سزا سے معافی دینااس کاایک شرعی حق ہے، اس کے خلاف  فیصلہ اور اقدام خلاف مصلحت شرعیہ ہوگا۔

 قتل غیرت میں بینہ(شواہد)کامصداق کیا ہے؟

 اگرقتل غیرت کی جوازکی تمام یا بنیادی دو شرطیں(حالت مباشرت اورعدم انزجار بمادون السلاح کا ظن غالب)پوری ہوتے ہوئےقتل ہواہوتو ایسی صورت میں قصاص اوردیت سےبچنےکےلیے قضاء صرف اپنے دعوی(مذکورہ دوشرطوں کے تحقق) پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی پیش کرکافی ہے،نیزبوقت ضرورت ثبوت جرم کےقانونی طور پر دیگرمعتبرقرائن  قویہ (مثلا جانچ شدہ ویڈیو ریکارڈ)بھی اس کے قائم مقام ہوسکتی ہیں،البتہ اگرشرعی گواہی یا قطعی قرائن میں سے تو کوئی نہ پایا جائے،لیکن  اگر مقتول اس قبیح فعل میں لوگوں میں معروف ومشہور ہوتومطلقابالاتفاق اوراگرمتہم ہوتو ایسی صورت میں  عندالبعض قاتل کی یمین کےساتھ قصاص ساقط ہوگا،لیکن دیت لازم ہوگی۔(تقریرات رافعی)

اورجہاں یہ دونوں شرطیں(حالت مباشرت اورعدم انزجار بمادون السلاح کا ظن غالب) یا کوئی ایک نہ پائی گئی ہو تو ایسی صورت میں قصاص اور دیت سے بچنے کے لیےنفس زنا پر قضاء چارعادل گواہوں کا پیش کرنا ضروری ہے،بشرطیکہ مقتول شادی شدہ بھی ہو،اس لیے کہ ایسی صورت میں قتل حد کے طور پر ہے اوراس کےلیے ثبوت زنا اور زانی کامحصن ہونا شرط ہے)ورنہ(یعنی چارگواہوں کے ذریعہ ثبوت زنااورمقتول  کاشادی شدہ بھی  ہونا یہ دونوں یاان دونوں میں سے کوئی ایک بات ثابت  نہ ہوتو)قاتل قصاصا قتل ہوگا،اگرچہ  قاتل کے نزدیک نفس زناکے تحقق اورمقتول کےشادی شدہ ہونے کی صورت میں دیانۃ نفس قتل کا گناہ نہ ہوگا،لیکن قانون کی خلاف ورزی(بلاذن امام اجراءحد) کا گناہ ہوگا،ورنہ(مذکورہ دوباتوں(زنا اوراحصان زانی) میں سے کسی ایک بات کےبھی تحقق نہ ہونے کی صورت میں ناحق قتل کا گناہ ملے گا۔البتہ اگرغیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں مقتول کاجرم سےقتل کےبغیر باز نہ آنے کا یقین یا ظن غالب تھااورقتل بھی حالت معصیت میں کیاتھایا تو ایسی صورت میں بھی قتل ناحق کا گناہ نہ ہوگا،لیکن قصاص  بلا بینہ ساقط نہ ہوگا۔

واضح رہے کہ چونکہ یہ قتل از قبیل تعزیر ہے،لہذاحالت مباشرت اورعدم انزجار بمادون السلاح کا ظن غالب یہ قتل غیرت کےدیانۃنفس جواز(اخروی مواخذہ سے بچنے) کےلیےشرط نہیں،بلکہ قضاء قصاص اوردیت سے بچنے کےلیے عدالت میں شرعی شواہد سے ان کا ثبوت و تحقق ضروری ہے۔(ماخوذ از احسن الفتاوی مع الحاق الحکم الحقانی)

رد المحتار - (ج 15 / ص 204)

وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصية ،۔۔۔۔۔۔وأنه قد يسقط بالتقادم بخلاف التعزير فهي عشرة .

رد المحتار - (ج 15 / ص 214)

( ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية ) قنية ( و ) أما ( بعده ) ف ( ليس ذلك لغير الحاكم ) والزوج والمولى كما سيجيء

 ( قوله ويقيمه إلخ ) أي التعزير الواجب حقا لله تعالى ؛ لأنه من باب إزالة المنكر ، والشارع ولى كل أحد ذلك حيث قال صلى الله عليه وسلم " { من رأى منكم منكرا فليغيره بيده ، فإن لم يستطع فبلسانه } " الحديث ، بخلاف الحدود لم يثبت توليتها إلا للولاة ، وبخلاف التعزير الذي يجب حقا للعبد بالقذف ونحوه فإنه لتوقفه على الدعوى لا يقيمه إلا الحاكم إلا أن يحكما فيه .ا هـ .فتح

( قوله قنية ) هذا العزو لقوله حال مباشرة المعصية ، وأما قوله يقيمه كل مسلم فقد صرح به في الفتح وغيره

( قوله وأما بعده إلخ ) تصريح بالمفهوم .قال في القنية ؛ لأنه لو عزره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك ؛ لأنه نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به ، وبعد الفراغ ليس بنهي ؛ لأن النهي عما مضى لا يتصور فيتمحص تعزيرا ، وذلك إلى الإمام .ا هـ .وذكر قبله أن للمحتسب أن يعزر المعزر إن عزره بعد الفراغ منها

اس تفصیل یہ بات واضح ہوگئی کہ قتل غیرت میں قصاص اور دیت سے بچنے کے لیے نفس زنا اور دواعی زنا پر دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں بطور گواہ پیش کرنا یا پکی سچی قسم اٹھانا بہر صورت کافی نہیں،بلکہ اس میں وہ تفصیل ہے جو ابھی گزرچکی۔

سؤال میں پیش کردہ  حدیثی روایات وفقہی عبارات کا جواب:

 لہذا تفصیل بالا سے معلوم ہوا کہ اس بارے میں سؤال میں پیش کردہ دلائل ( روایات وعبارات فقہیہ)سے مطلقا

 استدلال بھی درست نہیں،بلکہ وہ  روایات وفقہی عبارات بھی اصول ونصوص کی روشنی میں واجب التاویل ہیں۔

فقہی روایات  سے استدلال کا جواب: سؤال  میں منقول فقہی عبارات سےذکر کردہ استدلال کہ "اگر کوئی شخص ثبوت جرم پر شرعی گواہ پیش کرسکے یا سچی قسم اٹھاسکے تو ایسی صورت میں یہ قتل جائز ہوگا اور قاتل پرقصاص اور دیت کچھ لازم نہ ہو گا۔"یہ استدلال درست نہیں:

 اولا اس لیے کہ اس استدلال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں اس کے لیے یہ قتل قضاء بھی جائز ہوگا اور اس کو عدالت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، حالانکہ فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق ایسی صورت میں بھی    یہ قتل صرف دیانت کی حد تک جائز ہوگا،جس کی وضاحت جواب کے شروع میں گزرچکی۔

 ثانیا اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کے ذمہ بہر صورت صرف دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کافی ہے، حالانکہ یہ بھی خلاف تحقیق وتصریحات فقہاء کے ہے ، اس لیے کہ فقہاء کرام کے کلام میں بالعموم اور الحکم الحقانی  میں بالخصوص تصریح ہے کہ اگر عین موقع پر قتل نہیں کیا تو مقتول کے محصن ہونے کی صورت میں قصاص سے بچنے کے لیے چار عادل مردوں کی گواہی پیش کرنا ضروری ہے، ورنہ (مقتول کے محصن ہونے کی صورت میں چار گواہ نہ تھےیامقتول محصن نہ تھا ) تو ایسی دونوں صورتوں میں قاتل قصاصا قتل ہوگا۔ کما مر مفصلا ومکررا ۔

ثلاثا  اس استدلال سے یہ بھی  معلوم ہوتا ہے کہ قصاص سے بچنے کے لیے بہر صورت صرف قاتل کی سچی قسم بھی کافی ہے،حالانکہ یہ بھی خلاف حقیقت اور خلاف تحقیق بات ہے،اس لیے کہ  تقریرات رافعی میں قاتل کی یمین کا اعتبار صرف مقتول کے متہم ہونے کی صورت میں نقل کیا گیاہے،لہذا اس  سےسقوط قصاص ودیت کےلیےمطلقا قاتل کی یمین کے اعتبار کو ثابت کرنا درست نہیں۔(ملاحظہ ہو عبارات تقریرات رافعی)

حدیثی روایات سے استدلال کاجواب:

پہلی روایت کا جواب:اسی طرح محدثین کرام رحمہم اللہ تعالی نےسؤال میں ذکرکردہ پہلی روایت ازصحیح مسلم کی مختلف تاویلیں بیان فرمائی ہے،مثلا ماریہ قبطیہ کے ساتھ ہم وطن ہونے کے وجہ سے اس کے خصوصی تعقات تھے،جس پر کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کے غلط تعلق کی گواہی دی تھی یا قتل کی کوئی دوسرا وجہ تھی اور قتل ہونے کا واقعہ روایت میں ذکر نہیں کیا گیا(تکملہ)، یا یہ معاہد تھا یعنی اس سے ماریہ قبطیہ سے بات نہ کرنے کا خصوصی عہد لیا گیا تھااور عہد شکنی پر قتل کا یہ حکم جاری ہوا تھا (کشف)یا یہ منافق تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عمل سے ایذاء دینا چاہتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیاد پر اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ،(اکمال المعلم)یا بعض دیگر تفصیلی روایت میں قتل کا یہ حکم مشروط تھا کہ اگر اسے اس باندھی کے ساتھ تنہائی میں پاؤ توقتل کرڈالو ۔بہر حال  یہ روایت دیگر نصوص قطعیہ کی روشنی میں واجب التاویل ہے ،اس کے ظاہر سے استدلال درست نہیں۔(تکملۃ فتح الملہم: ج۶،ص۹۱،کشف المشکل لابن الجوزی،المفہم لمااشکل من تلخیص مسلم للقرطبی، اکمال المعلم للقاضی عیاض) حاصل یہ کہ اس اس قتل کا تعلق قتل غیرت سے نہیں، یااس قتل کے جواز کی وجہ عہد شکنی وغیرہ دیگر اسباب تھےیا قتل کا حکم بینہ کی بنیاد پر تھا۔بہرحال روایت مؤول ہے۔

 دوسری روایت کا جواب:سؤال میں پیش کردہ دوسری حدیثی روایت سےبھی استدلال درست نہیں،اس لیے کہ اول تو یہ روایت متعلقہ ماخذ میں دستیاب نہیں،لہذا غیرثابت ہےجیساکہ استذکار میں لکھا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے قاتل کو بلا بینہ معاف کرنے کے بارے میں کوئی روایت سندا صحیح منقول نہیں۔ ثانیا اگر ثابت مان بھی لیا جائے تو بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں اھدار دم عن قاتل کے بارے میں مختلف روایات ہیں،لہذا ایہ  روایات  تعارض کی وجہ سے ساقط الاعتبار ہیں۔ثالثا یہ فیصلہ شرعی بینہ کی بنیاد پر کیا تھا،چنانچہ بعض حضرات محدثین نے لکھا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی یہ معافی قاتل کی طرف سے اقامت بینہ کے بعد ہی تھی۔حاصل یہ کہ یہ روایت بھی اول توسندا ثابت نہیں یا تعارض نقل کے پیش نظرقابل اعتبار نہیں یامعنی کے لحاظ سے مؤول ہے۔

نیزاس  روایت میں  تصریح ہے کہ عین حالت مباشرت میں قتل کیا تھااورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس کو ان عاد فعد سےحکم دینا بطور عمومی حکم قضاء کے نہیں تھا،بلکہ صورت واقعہ سننے کے بعد قرائن قویہ کی بنیادپرریاست کی مطمئن ہونے کی صورت میں سابق عمل کی تاییدتھی اور آئندہ کےلیے بھی اس کی دیانۃ  اجازت کی تقریر تھی،چنانچہ ارواء العلیل کی اس روایت سے قبل علی رضی اللہ عنہ مروی روایات میں قاتل کے اس اقدام پر چار گواہ نہ پیش کرنے پر قصاصا قتل کا حکم منقول ہے،لہذا معلوم ہوا کہ یہ حکم واجازت دیانۃ تھی اوروہ بھی مشروط تھی حالت مباشرت میں پانے کے ساتھ۔بہر حال عمر رضی اللہ عنہ سے ،مروی یہ روایت اول تو احادیث کے متداول ذخائر میں دستیاب نہیں اوربتصریح بعض محدثین ثابت نہیں اور ثانیا یہ مختلف طریقوں سے مؤول  ہونےکی بناءپر محتمل ہے،کمامرمفصلا۔لہذا اس سے بھی استدلال درست نہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

03/ ذیقعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب