03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قضاء نماز کی نیت کا طریقہ
87355نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

قضاء نمازوں کے بارے میں ایک جگہ تحریر ہے کہ قضاء کی نیت اس طرح کریں کہ "میں فجر یا ظہر ِ اول کی قضاء کی نیت

 کرتا ہوں"، اور اسی طرح آخر تک قضاء کی نیت کرتا رہے۔ یہاں "اول" کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر قضاء مثلاً: دس سال کی ہے، جو کہ تقریباً 3600 نمازیں بنتی ہیں، تو جب "اول" نماز کی قضاء کر لے گا تو پھر نوبت تو دوسری نماز کی آئے گی، پھر تیسری کی، چوتھی کی، اور اسی طرح آخر تک۔

اگر ہر بار "اول" کہتا رہے گا تو کیا دوسرے، تیسرے، چوتھے نمبر کی نمازوں کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہے گی؟
اگر سب نمازیں اسی طرح نیت کرکے ادا کی تو کیا یہ طریقہ صحیح ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی کو قضاء نماز کی تاریخ یاد ہو، مثلاً یکم ربیع الاول 1446ھ کی فجر کی نماز فوت ہو گئی ہو، تو قضاء میں اسی متعین تاریخ/دن کی نیت کی جائے، مثلاً:"میں یکم ربیع الاول 1446ھ کی فجر کی قضاء نماز پڑھ رہا ہوں"۔اور اگر تاریخ /دن یاد نہ ہو، تو پھر یوں نیت کی جائے:"اے اللہ! میرے ذمے جو سب سے پہلی فجر کی قضاء نماز ہے، میں وہ پڑھ رہا ہوں۔"اس کے بعد دوسری نماز کے لیے بھی اسی طرح نیت کی جائےکہ:"اے اللہ! اب میرے ذمے جو پہلی فجر کی قضاء نماز ہے، میں وہ ادا کر رہا ہوں۔"اور اسی طرح آخر تک عمل کرتا جائے۔لہٰذا، ہر دفعہ نیت میں "اول فجر"، "اول ظہر" وغیرہ کہنے سے بھی قضاء نمازیں ادا ہو جائیں گی، اور "دوسری"، "تیسری" وغیرہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پہلی فجر ادا کر لی جائے، تو اب جو نماز باقی ہے، وہی نئی "پہلی" بن جاتی ہے۔یعنی حقیقت میں وہ دوسری ہے، مگر چونکہ پہلی ادا ہو چکی ہے، اس لیے اب وہی پہلی شمار ہو گی۔اسی طرح ہر پچھلی نماز کی قضاء مکمل ہونے کے بعد، اگلی نماز "اول" بن جائے گی — اور یہ عمل آخر تک چلتا رہے گا۔لہٰذا اس انداز سے نیت کرنا بالکل صحیح اور معتبر ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 76)

'' كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره''۔

''(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً أو يقول آخر فجر، فإنّ ما قبله يصير آخراً، ولا يضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت''.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

02/11/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب