03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویڈیو ایڈیٹنگ میں بیک گراؤنڈ میوزک لگانے  سے کمائی کا حکم
87486جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

اگر بیک گراؤنڈ میوزک لگا کر ویڈیوز مکمل کر کے کلائنٹ کو فراہم کریں اور اس پر اجرت وصول کریں، تو کیا یہ آمدنی شرعاً حلال ہوگی یا حرام؟اگر یہ آمدنی حرام ہو، تو کیا اس رقم کا کچھ حصہ بغیر ثواب کی نیت کے فقراء و مساکین میں تقسیم کر دینے سے شرعی ذمہ داری کچھ حد تک پوری ہو سکتی ہے؟ یا مکمل رقم چھوڑنا واجب ہے؟

 

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر ویڈیو غیر شرعی امور، جیسے نامحرم خواتین کی تصاویر یا ناجائز اور حرام اشیاء کی تشہیر پر مشتمل ہو، تو اس کی ایڈیٹنگ جائز نہیں، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے۔ تاہم، اگر ویڈیو غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو، تو اس کی ایڈیٹنگ جائز ہے۔ البتہ، ایڈیٹنگ میں بیک گراؤنڈ میوزک لگانا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا اس سے حاصل ہونے والی کمائی میں حلال آمدنی کے ساتھ ساتھ حرام آمدنی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ چونکہ ویڈیو ایڈیٹنگ کے اس معاملے میں اکثر کام جائز ہے، اس لیے اس کی بقدر آمدنی حلال ہے۔ باقی (حرام) آمدنی پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرنا چاہیے، اور ایک محتاط اندازے کے مطابق حرام آمدنی کے برابر مال ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کرنا لازم ہےاور ایسی مخلوط کمائی سے اجتناب کرنا چاہئے۔

حوالہ جات

المعاییر الشرعیہ ص569:

٣/٤/٦/١: يجب التخلص من الإيراد المحرم – سواء أكان ناتجًا من النشاط أو التملك المحرم، أم من الفوائد – على من كان مالكًا للأسهم سواء أكان مستثمرًا أم متاجرًا حين نهاية الفترة المالية، ولو وجب الأداء عند صدور القوائم المالية النهائية، سواء أكانت ربعية أم سنوية أم غيرها. وعليه، فلا يلزم من باع الأسهم قبل نهاية الفترة المالية التخلص.

٣/٤/٦/٢: محل التخلص هو ما يخص السهم من الإيراد المحرم، سواء أوزعت أرباح أم لم توزع، وسواء ربحت الشركة أم خسرت.

      حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   14 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب