| 87441 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: علماء، قراء، ائمہ مدرسین، عالمات و قاریات کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے" مستحکم علماء" کے نام سے ایک ترتیب سوچی گئی ہے ،جس ترتیب پر کام کرنے کا ارادہ ہے اس کی شرعی حیثیت کے حوالے سے راہنمائی فرما دیں گے تو نوازش ہو گی۔
کام کی ترتیب کی کچھ تفصیل : اس پلیٹ فارم سے منسلک تمام علماء ، قراء امداد باہمی، تعاون اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت دل کی رضامندی کے ساتھ ماہانہ بنیادوں پر 100 روپے صدقہ فرمائیں گے۔ ہر شریک کا یہ جذبہ اور خواہش ہو گی کہ میرے اس ہدیہ اور صدقہ کی گئی رقم سے میرے عالم ، قاری بھائی بہن کی کوئی ضرورت پوری ہو جائے۔
بندہ نے مستحکم علماء پروجیکٹ کے تحت بہت سی پالیسیز سوچ رکھی ہیں مثلا :
عمرہ پالیسی، ماہانہ راشن پالیسی ، قرض حسنہ پالیسی، اپناگھر / پلاٹ پالیسی، اپنی سواری پالیسی، ناگہانی آفت پالیسی ، علاج پالیسی، علماء تجارت پالیسی، مذکورہ تمام پالیسیز میں سے ہر ہر پالیسی کے لیے الگ الگ صدقہ کی رقم مختص کی گئی ہے اور تمام پالیسی ہولڈرز کے لیے قرعہ اندازی کو بنیاد بنایا گیا ہے، یعنی ہر ہر پالیسی کے تحت جمع ہونے والی رقم سے ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر شریک علماء، قراء کے مابین قرعہ اندازی کروائی جائے گی ، مثلا عمرہ پالیسی کے تحت جمع ہونے والی رقم سے ماہانہ بنیاد پر قرعہ اندازی میں جس جس شریک کا نام نکلے گا، تو اس شریک کے لیے دیگر پالیسی ہولڈرز کی طرف سے وہ رقم صدقہ ہو گی۔ اس سسٹم کو اسپانسر کرنے کے لیے کچھ اہل خیر حضرات سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔
کام کرنے کی صورتیں:
پہلی صورت کمیٹی کی شکل کی ہے جیسے 10 افراد مل کر کمیٹی ڈالتے ہیں اور ہر ہر شریک پر دیگر شریک کی رقم قرض بن جاتی ہے، اس طریقے سے مستحکم علماء پروجیکٹ میں بھی تمام علماء، قراء آپس میں کمیٹی ڈالیں اور مہینہ کے آخر میں قرعہ اندازی کے ذریعے جس ممبر کا نام نکلے گا، وہ جب تک کمیٹی چلتی رہے گی رقم ادا کرنے کا پابند ہو گا۔ البتہ کمیٹی کی طرح وہ تمام ساتھیوں کے نام نکلنے تک دوبارہ قرعہ اندازی میں شامل نہیں ہو سکے گا۔
2 دوسری صورت یہ ہے کہ "مستحکم علماء پر وجیکٹ" کو مطلق رکھا جائے یعنی ہر ہر شریک متعین رقم صدقہ کرے ، اگر اس کا قرعہ اندازی میں نام نکل آتا ہے تو پھر اس پر شرعا پیسے دینا تو لازم نہیں کر سکتے البتہ اخلاقی بنیادوں پر اسے ترغیب دی جائے گی کہ آپ نے محض چند سو روپے یا چند ہزار روپے کے بدلے ماشاء اللہ عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہے ۔ آپ کو دی گئی اس رقم میں ہر ہر شر یک عالم ، قاری بھائی بہن کی صدقہ کی گئی رقم شامل ہے تو آپ کا بھی اخلا قی ذمہ داری ہے کہ آپ اس ترتیب کو جاری رکھیں۔
3 ۔تیسری صورت وقف پول کی ہے کہ چند ساتھی مل کر ایک وقف پول قائم کر دیں، اور اس میں سب مل کر اپنی استطاعت کے مطابق رو پیہ ڈالتے رہیں، اس رقم کو حلال اور جائز کاروبار میں لگایا جائے، وقف پول تو اپنی جگہ قائم رہے گا البتہ اس کے منافع سے تمام شرکاء مستفید ہوتے رہیں گے۔
مذکورہ تفصیل کے بعد چند( مزید) سوالات کیے جاتے ہیں :
1۔اس پورے نظام کا انتظام وانصرام سنبھالنے کے لیے لگنے والا وقت ، صلاحیتیں ، دوڑ دھوپ، تنخواہیں اور تقریب دسیمینار کے لیے اخراجات کی مد میں رقم کے حصول کے جواز کیا صورت ہو گی ؟
2۔اگر قرعہ اندازی کو بنیاد نہ بنایا جائے بلکہ مطلقا کسی ضرورت مند عالم ، قاری بھائی، بہن کے ساتھ تعاون مقصود ہو،اس ضمن میں قرعہ اندازی کو اس کا ایک حصہ بنالیا جائے، یعنی انعام کے طور پر قرعہ اندازی کر کے عمرہ یا پلاٹ کے لیے نام کا اعلان کیا جائے۔۔ تو یہ شرعا کیسا ہے ؟
3 ۔مذکورہ کام کے مکمل ڈھانچہ اور ترتیب میں یا پھر کسی شق اور شرط میں شرعا کوئی قباحت ہے تو پھر اس کام کے کثیر المنفعت ہونے اور علماء، قراء کے وسیع تر مفاد کی خاطر اس نظام کے جواز کی صورتیں ذکر فرمادیں گے تو نوازش ہو گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بیان کردہ صورتوں میں شرعاً درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
- پہلی صورت میں کمیٹی کی حیثیت قرض کی ہے ، جس میں ہر شریک اپنی رقم دوسرے کو بطور قرض دیتا ہے، اگر شرکاء کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ جائے تو ہر فریق کا نام آنا مشکل ہے، جس سے دوسرے کی دی گئی قرض کی رقم کے ضائع ہونے کا شدید اندیشہ ہے ۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ کمیٹی کی صورت میں ہر فریق کو شرعا یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی رقم واپس طلب کرے اور تمام شرکاء کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ قر ض کی رقم واپس کریں ، مذکورہ صورت میں بظاہر ایسا کرنا ممکن نہیں۔
تیسری خرابی یہ ہے کہ اگر ایسا شریک فوت ہو جاتا ہے جس کا نام قرعہ اندازی میں آچکا تھا ،تو اس کے ذمہ جودوسرے شرکاء کا قرض ہے،اس کی ادائیگی بھی ناممکن ہے ،اسی طرح اس کے برعکس جس ممبر کی کمیٹی ابھی تک نہ نکلی ہو اور وہ فوت ہوجائے ، اس کا جو قرض دوسروں کے ذمہ ہے اور ورثاء کا حق بن چکا ہے، وہ قرض بھی بظاہر ورثاء تک پہنچانا ممکن نہیں ہے۔
اس صورت میں مزید یہ بھی خرابی لازم آتی ہےکہ قرض کی زکوۃ بھی لازم ہوتی ہے، ہر شریک کے لئے اپنے اموالِ زکوۃ کا حساب کرتے وقت کمیٹی میں دی گئی رقم کو بھی یاد رکھنا اور حساب زکوۃ میں شامل کرنا ضروری ہوگا، جو کہ تمام شرکاء کے لئے بظاہر مشکل ہو گا۔
مندرجہ بالا خرابیوں میں کسی بھی خرابی کے پائے جانے سے شرعاً یہ معاملہ درست نہ ہو گا،تاہم اگر کمیٹی میں شامل شرکاء کے لئے اوپر بیان کردہ خرابیوں سے احتراز ممکن ہو ،تو شرعاً ا سکی گنجائش ہے۔
دوسری صورت میں نہ تو صدقہ دینے والا شخص صد قہ دینے کی بنیاد پر شرعاً قرعہ اندازی میں اپنانام شامل کروانے کا مطالبہ کر سکتا ہےاور نہ ہی ادارے کی جانب سے قرعہ اندازی میں نام آنے کے بعد اس سے مسلسل رقم کی وصولی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ بقول سائل قرعہ اندازی میں صرف انھیں لوگوں کا نام شامل ہو گا جو اس سکیم کا حصہ ہوں گے یعنی مسلسل صدقہ دے رہے ہوں گے، جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ نام صدقہ کا ہے، لیکن نتیجے کے اعتبار سے یہ بھی پہلی صورت قرض (کمیٹی ) کی ہی ایک شکل ہے، کیو نکہ جو شرکاء صدقہ کر یں گے وہ اس شرط پر ہی کررہے ہوں گے کہ ان کا نام قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا۔
اس صورت میں دوسری خرابی یہ بھی ہے کہ بقول سائل جب کسی شخص کا نام قرعہ اندازی میں نکل آئے گا، پھر اس سے رقم کا لازمی مطالبہ نہیں کیا جائے گا، یہ صورت مزید قرض پر نفع اٹھانے کی ہے کہ ایک شخص نے "صدقہ" کے نام پر قرض دیا تاکہ قرعہ اندازی میں زیادہ وصول کر لے ، یہ سود کہ زمرے میں آتا ہے۔
تیسری صورت وقف پول کی ہے ،جس میں دوران عمل وقف کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ، اسی طرح وقف فنڈ کو آگے کاروبار میں استعمال کرنے کے لئے بھی شرعی حدود کی پاسداری ضروری ہے، مذکورہ صورت میں کوئی ادارہ وقف کی رقم کس طرح حاصل کرتا ہے یا وقف کی رقم کو کن مصارف میں خرچ کرتاہے ، ہمیں اس بات کا علم نہیں ہو سکتا۔
لہذا یسا ادارہ قائم کرنے سے بہتر یہ کہ کسی مستند فلاحی ادارےکے ساتھ مل کر کام کیا جائے، جو پہلے سے فلاحی کام کرنے کی اہلیت کے ساتھ شرعی امور کی بھی رعایت رکھتا ہو اور اگر کوئی ادارہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتا اور آپ سمجھتے ہیں کہ نیا ادارہ کھولنا ضروری ہے اور اس طرح پہلے کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہورہا، تو پھر شرعی وانتظامی ماہرین( مستند علماءومفتیان کرام وشعبہ مالیات وحسابیات کے مستندماہرین )کی ایک رجسٹرڈ کمیٹی کی معاونت سے ایک فلاحی ادارہ قائم کر کے مخیر حضرات کے تعاون سے کام کیا جائے۔
حوالہ جات
سورة البقرة (الاية :188)
وَلا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ وَتُدْلُوا بِها إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقاً مِنْ أَمْوالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ۔
الجامع الصحيح للسنن والمسانيد» (11/ 370 بترقيم الشاملة آليا):
وعن عمرو بن يثربي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل مال امرئ مسلم ، إلا بطيب نفس منه.
الموسوعة الفقهية الكويتية» (44/ 108):
والوقف اصطلاحا عرفه الفقهاء بتعريفات....فعرفه الحنفية بأنه حبس العين على حكم ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب، وهذا عند الصاحبين.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 166):
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 397):
في الذخيرة إذا وقف أرضا أو شيئا آخر وشرط الكل لنفسه أو شرط البعض لنفسه ما دام حيا وبعده للفقراء قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: الوقف صحيح ومشايخ بلخ رحمهم الله تعالى أخذوا بقول أبي يوسف - رحمه الله تعالى وعليه الفتوى ترغيبا للناس في الوقف.
مختصر القدوري» (ص113):
المضاربة: عقد على الشركة بمال من أحد الشريكين وعمل من الآخر
ولا تصح المضاربة إلا بالمال الذي بيننا أن الشركة تصح به ،ومن شرطها: أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما منه دراهم مسماة ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب ولا بد لرب المال فيه... وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب فيه وإن كانا قد اقتسما الربح والمضاربة بحالها ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح حتى يستوفي رب المال رأس المال فإن فضل بشيء كان بينهما وإن عجز عن رأس المال لم يضمن المضارب.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
10/ ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


